بلاول بھٹو کا بجٹ اجلاس سے واک آؤٹ، گلگت بلتستان کا الیکشن کسی صورت چھیننے نہیں دیا جائے گا، پیپلز پارٹی کے اندر مختلف مؤقف سامنے آ گئے
اسلام آباد: پاکستان پیپلز پارٹی کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں اہم سیاسی رہنما شریک ہوئے۔
اجلاس میں راجہ پرویز اشرف، نوید قمر، شیری رحمان، شازیہ مری، فاروق ایچ نائیک اور اعجاز جاکھرانی سمیت دیگر اراکین نے شرکت کی۔
اجلاس کے بعد چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے بجٹ اجلاس کے بائیکاٹ کا فیصلہ کرتے ہوئے پارلیمنٹ سے روانگی اختیار کی۔
بلاول بھٹو زرداری نے میڈیا سے غیر رسمی گفتگو میں کہا کہ گلگت بلتستان کا الیکشن کسی صورت “چھیننے” نہیں دیا جائے گا، جبکہ بجٹ میں عوامی ریلیف سمیت دیگر امور پر تفصیلی پریس کانفرنس میں مؤقف پیش کیا جائے گا۔

پارٹی مؤقف میں ابہام
پارٹی ذرائع کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی نے مکمل طور پر بجٹ اجلاس کے بائیکاٹ کا فیصلہ نہیں کیا، بلکہ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری ذاتی طور پر اجلاس میں شرکت نہیں کریں گے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پارٹی کے بعض اراکین بجٹ اجلاس میں اپنی شرکت جاری رکھیں گے اور پارلیمانی عمل کا حصہ بنے رہیں گے۔
ندیم افضل چن کا بیان
پیپلز پارٹی رہنما ندیم افضل چن نے کہا کہ پارٹی قومی مفادات کے حق میں ہے اور کسی بھی جماعت کے سیاسی مفادات کے تابع نہیں ہو گی۔
ان کے مطابق صرف بلاول بھٹو زرداری احتجاجاً بجٹ اجلاس میں شریک نہیں ہوں گے، تاہم پارٹی بطور ادارہ بجٹ عمل کا حصہ رہے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ پیپلز پارٹی قومی مفاد کے تحت بجٹ اجلاس کے پراسیس میں شریک رہے گی اور پارلیمانی ذمہ داریاں ادا کرے گی۔
سیاسی صورتحال
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق پیپلز پارٹی کے اندر اس فیصلے کو لے کر مختلف آراء سامنے آ رہی ہیں، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ بجٹ اجلاس کے حوالے سے پارٹی کی حکمت عملی مکمل طور پر واضح نہیں ہے۔
حکومت گلگت بلتستان الیکشن چھیننے میں کامیاب نہیں ہو گی، ہم حکومت بنا لیں گے، بلاول بھٹو pic.twitter.com/XOienkEQlM
— Khurram Iqbal (@khurram143) June 12, 2026
READ MORE FAQS”
سوال: بلاول بھٹو نے کیا فیصلہ کیا؟
جواب: انہوں نے بجٹ اجلاس سے احتجاجاً واک آؤٹ کیا۔
سوال: کیا پیپلز پارٹی نے مکمل بائیکاٹ کیا ہے؟
جواب: نہیں، پارٹی ذرائع کے مطابق مکمل بائیکاٹ کا فیصلہ نہیں ہوا۔
سوال: کون کون اجلاس میں شریک تھا؟
جواب: راجہ پرویز اشرف، نوید قمر، شیری رحمان، شازیہ مری اور دیگر رہنما شریک ہوئے۔
سوال: ندیم افضل چن نے کیا کہا؟
جواب: انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی قومی مفاد کے تحت بجٹ عمل کا حصہ رہے گی۔
سوال: اس فیصلے کا سیاسی اثر کیا ہو سکتا ہے؟
جواب: اس سے بجٹ اجلاس اور سیاسی ماحول میں مزید بحث اور اختلاف پیدا ہو سکتا ہے۔






