قومی اسمبلی بجٹ منظوری 2026-27: اربوں و کھربوں روپے کے مطالباتِ زر منظور، مختلف وزارتوں کے فنڈز کی منظوری جاری

قومی اسمبلی بجٹ منظوری 2026-27 اجلاس میں مالی مطالبات کی منظوری
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

قومی اسمبلی بجٹ منظوری 2026-27 کے تحت وزارتوں کے بڑے مالی مطالبات منظور، دفاع اور ترقیاتی شعبوں کے لیے خطیر فنڈز کی منظوری

قومی اسمبلی بجٹ منظوری 2026-27 کے تحت وفاقی حکومت کی جانب سے پیش کیے گئے مالی سال کے بجٹ پر ایوان میں کارروائی جاری ہے، جس میں مختلف وزارتوں اور ڈویژنوں کے اربوں اور کھربوں روپے کے مطالباتِ زر مرحلہ وار منظور کیے جا رہے ہیں۔ اسپیکر سردار ایاز صادق کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں بجٹ کی منظوری کا عمل اہم مرحلے میں داخل ہو گیا ہے۔

قومی اسمبلی میں بجٹ 2026-27 کی منظوری کے دوران ملک کے اہم شعبوں کے لیے بڑے پیمانے پر فنڈز کی منظوری دی گئی ہے۔ ان میں دفاع، مواصلات، تعلیم، ریلوے، آبی وسائل، داخلہ، خارجہ امور، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم وزارتیں شامل ہیں۔

دفاع اور سیکیورٹی کے لیے سب سے بڑا بجٹ

بجٹ منظوری کے دوران سب سے زیادہ توجہ دفاعی شعبے کو دی گئی، جہاں دفاعی اخراجات کے لیے 30 کھرب 67 ارب روپے سے زائد کے مطالبات منظور کیے گئے۔ یہ رقم ملک کی سیکیورٹی ضروریات، دفاعی صلاحیتوں کی بہتری اور جدید عسکری ٹیکنالوجی پر خرچ کی جائے گی۔

اسی طرح وزارت داخلہ کے لیے بھی بھاری فنڈز منظور کیے گئے تاکہ امن و امان کی صورتحال بہتر بنائی جا سکے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی کو مضبوط کیا جا سکے۔

ترقیاتی اور انفراسٹرکچر منصوبے

قومی اسمبلی نے مواصلات کے لیے ایک کھرب 25 ارب روپے سے زائد کے فنڈز کی منظوری دی، جو سڑکوں، پلوں اور قومی شاہراہوں کی تعمیر و مرمت پر خرچ کیے جائیں گے۔

ریلوے کے لیے ایک کھرب 11 ارب روپے سے زائد کی منظوری دی گئی، جس کا مقصد ریلوے نظام کی بہتری، نئی ٹرینوں کی خریداری اور انفراسٹرکچر کی اپ گریڈیشن ہے۔

آبی وسائل کے لیے ایک کھرب 7 ارب روپے سے زائد کے فنڈز منظور کیے گئے ہیں، جو ڈیمز، نہروں اور پانی کے ذخائر کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے استعمال ہوں گے۔

تعلیم، صحت اور سماجی شعبہ

وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت کے لیے ایک کھرب 21 ارب روپے سے زائد کے مطالبات منظور کیے گئے، تاکہ ملک میں تعلیمی معیار کو بہتر بنایا جا سکے اور نوجوانوں کے لیے ہنر مندی کے پروگرامز کو فروغ دیا جا سکے۔

اسی طرح صحت کے شعبے کے لیے بھی بڑے پیمانے پر فنڈز مختص کیے گئے ہیں تاکہ ہسپتالوں کی حالت بہتر ہو اور عوام کو بہتر طبی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔

خارجہ امور اور بین الاقوامی تعاون

قومی اسمبلی نے خارجہ امور ڈویژن کے بجٹ کی بھی منظوری دی، جس کے تحت پاکستان کی سفارتی سرگرمیوں، عالمی تعلقات اور بین الاقوامی تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر زور دیا گیا ہے۔

معیشت اور انتظامی شعبہ

اکنامک افیئرز، منصوبہ بندی، خزانہ اور دیگر اقتصادی اداروں کے لیے بھی فنڈز کی منظوری دی گئی ہے، تاکہ ملکی معیشت کو مستحکم بنایا جا سکے اور ترقیاتی منصوبوں کو مؤثر طریقے سے آگے بڑھایا جا سکے۔

قومی اسمبلی اور سینیٹ کے بجٹ بھی منظور کیے گئے، تاکہ پارلیمانی امور کو مؤثر انداز میں چلایا جا سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ کابینہ ڈویژن اور دیگر انتظامی اداروں کے لیے بھی بجٹ منظور کیا گیا۔

مجموعی بجٹ کی سمت

ماہرین کے مطابق قومی اسمبلی بجٹ منظوری 2026-27 ملک کی معاشی سمت اور حکومتی ترجیحات کی عکاسی کرتی ہے۔ اس بجٹ میں دفاعی اخراجات کو ترجیح حاصل رہی جبکہ ترقیاتی منصوبوں اور سماجی شعبوں پر بھی خاص توجہ دی گئی ہے۔

حکومت کا کہنا ہے کہ یہ بجٹ ملک میں معاشی استحکام، روزگار کے مواقع اور بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے لیے اہم کردار ادا کرے گا۔

READ MORE FAQS
  1. قومی اسمبلی بجٹ منظوری 2026-27 میں سب سے بڑا حصہ کس شعبے کو ملا؟

دفاعی شعبے کو سب سے زیادہ یعنی 30 کھرب روپے سے زائد فنڈز دیے گئے۔

  1. ریلوے کے لیے کتنی رقم منظور کی گئی؟

ریلوے کے لیے ایک کھرب 11 ارب روپے سے زائد کی منظوری دی گئی۔

  1. تعلیم کے شعبے کے لیے کتنا بجٹ رکھا گیا؟

وفاقی تعلیم و تربیت کے لیے ایک کھرب 21 ارب روپے سے زائد منظور کیے گئے۔

  1. کیا اس بجٹ میں ترقیاتی منصوبے شامل ہیں؟

جی ہاں، مواصلات، ریلوے اور آبی وسائل سمیت کئی ترقیاتی منصوبے شامل ہیں۔

متعلقہ خبریں

اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے، تو خوب تحقیق کر لیا کرو، ایسا نہ ہو کہ تم کسی قوم کو نادانی میں نقصان پہنچا بیٹھو، پھر اپنے کیے پر پچھتاتے رہو۔  الحجرات: 6

🕌 نماز کے اوقات

فجر03:14 AM
طلوع آفتاب04:58 AM
ظہر12:10 PM
عصر03:54 PM
مغرب07:21 PM
عشاء09:05 PM