ایران امریکا معاہدہ: تمام نکات ہمارے حق میں ہیں، صدر پزشکیان کا بڑا دعویٰ

ایران امریکا معاہدہ صدر پزشکیان بیان منجمد 6 ارب ڈالر فنڈز
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

صدر پزشکیان کا دعویٰ: امریکا کے ساتھ معاہدے کی تمام شقیں ایران کے حق میں، منجمد 6 ارب ڈالر واپس ہوں گے

ایران امریکا معاہدہ کے حوالے سے ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے اہم بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ حالیہ مفاہمتی معاہدے کی تمام شقیں ایران کے مفاد میں ہیں اور اس کے مثبت نتائج جلد سامنے آئیں گے۔ ان کے مطابق یہ معاہدہ ایران کی سفارتی کامیابی اور معاشی بہتری کی جانب ایک اہم قدم ہے۔

صدر پزشکیان نے تہران میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران نے امریکا کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے اپنے قومی مفادات کا بھرپور تحفظ کیا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس معاہدے کے تحت قطر میں موجود ایران کے 6 ارب ڈالر کے منجمد فنڈز بھی واپس کیے جائیں گے، جو ایرانی معیشت کے لیے انتہائی اہم پیش رفت ہے۔

6 ارب ڈالر کی واپسی اور معاشی اثرات

صدر کے مطابق قطر میں موجود منجمد فنڈز ایران کا قانونی حق ہیں اور ان کی واپسی سے ملک کی معاشی صورتحال پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ ماہرین کے مطابق اگر یہ فنڈز واقعی ایران کو واپس ملتے ہیں تو اس سے زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری اور معاشی دباؤ میں کمی آ سکتی ہے۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران کئی سالوں سے امریکی پابندیوں اور عالمی مالیاتی دباؤ کا سامنا کر رہا ہے۔

امریکا کے ساتھ مذاکرات کی نوعیت

صدر پزشکیان نے بتایا کہ امریکا کی بنیادی شرط یہ ہے کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل نہ کرے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران پہلے ہی اعلان کر چکا ہے کہ اس کا ایٹم بم بنانے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔

انہوں نے سابق ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے مذہبی فتویٰ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جوہری ہتھیار اسلامی تعلیمات کے خلاف ہیں، اس لیے ایران کا مؤقف اصولی اور مستقل ہے۔

اسرائیل کا ردعمل اور علاقائی سیاست

ایرانی صدر نے اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس معاہدے اور سفارتی پیش رفت سے ناخوش ہیں۔ ان کے مطابق اسرائیل ہمیشہ ایران اور امریکا کے درمیان کسی بھی قسم کی قربت کی مخالفت کرتا رہا ہے۔

ماہرین کے مطابق مشرق وسطیٰ میں اس قسم کے معاہدے خطے کی سیاست پر گہرے اثرات ڈال سکتے ہیں اور طاقت کا توازن تبدیل ہونے کے امکانات پیدا ہو سکتے ہیں۔

ٹرمپ کا مؤقف اور ماضی کی پابندیاں

صدر پزشکیان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ماضی کے اقدامات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ایران پر سخت پابندیاں عائد کی تھیں، تاہم اب انہی معاملات پر نرم رویہ سامنے آ رہا ہے۔

یہ تبدیلی عالمی سفارتکاری میں ایک نئے دور کی نشاندہی کر سکتی ہے، جہاں معاشی دباؤ کے بجائے مذاکرات کو ترجیح دی جا رہی ہے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اگر اس معاہدے پر مکمل عمل درآمد ہوتا ہے تو یہ ایران اور امریکا کے تعلقات میں ایک تاریخی موڑ ثابت ہو سکتا ہے۔ اس سے نہ صرف دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں کمی آئے گی بلکہ خطے میں استحکام کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ توانائی کی عالمی منڈی، تیل کی قیمتوں اور خلیجی ممالک کی سیاست پر بھی اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

اگر معاہدہ کامیابی سے نافذ ہوتا ہے تو ایران کے لیے عالمی مالیاتی نظام تک رسائی آسان ہو سکتی ہے، جبکہ امریکا کے لیے مشرق وسطیٰ میں ایک نیا سفارتی فریم ورک تشکیل دینے کا موقع ملے گا۔

READ MORE FAQS

ایران امریکا معاہدہ کیا ہے؟

یہ ایک ابتدائی مفاہمتی معاہدہ ہے جس کا مقصد ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کم کرنا ہے۔

کیا ایران کو 6 ارب ڈالر واپس ملیں گے؟

صدر پزشکیان کے مطابق قطر میں موجود منجمد 6 ارب ڈالر واپس کیے جائیں گے۔

امریکا کی شرط کیا ہے؟

امریکا چاہتا ہے کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل نہ کرے۔

کیا ایران جوہری ہتھیار بنانا چاہتا ہے؟

ایرانی صدر کے مطابق ایران کا ایسا کوئی ارادہ نہیں۔

متعلقہ خبریں

اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے، تو خوب تحقیق کر لیا کرو، ایسا نہ ہو کہ تم کسی قوم کو نادانی میں نقصان پہنچا بیٹھو، پھر اپنے کیے پر پچھتاتے رہو۔  الحجرات: 6

🕌 نماز کے اوقات

فجر03:14 AM
طلوع آفتاب04:58 AM
ظہر12:10 PM
عصر03:54 PM
مغرب07:21 PM
عشاء09:05 PM