ایرانی صدر کے دورۂ پاکستان پر راولپنڈی میں سیکیورٹی کے سخت انتظامات مکمل
ایرانی صدر مسعود پزشکیان کا دورۂ پاکستان دونوں برادر ممالک کے تعلقات کے حوالے سے انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ ایرانی صدر کی آمد کے پیش نظر راولپنڈی اور اسلام آباد میں سیکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں تاکہ دورے کے دوران امن و امان کی صورتحال کو یقینی بنایا جا سکے۔
پولیس حکام کے مطابق نور خان ایئربیس اور اس کے اطراف کے علاقوں کو مکمل سیکیورٹی حصار میں لے لیا گیا ہے۔ ایرانی صدر کی آمد سے واپسی تک راولپنڈی پولیس کے 600 سے زائد افسران اور اہلکار سیکیورٹی ڈیوٹی پر مامور رہیں گے۔
سیکیورٹی پلان کے تحت ایک ایس ایس پی، ایک ایس پی اور 7 ڈی ایس پیز تعینات کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ 7 انسپکٹرز، 55 اپر سب آرڈینیٹس، 243 کانسٹیبلز اور ریزرو فورس کے اہلکار بھی سیکیورٹی فرائض سرانجام دیں گے۔
ایلیٹ فورس کے خصوصی دستے بھی سیکیورٹی پلان کا حصہ ہیں۔ مجموعی طور پر 78 کمانڈوز، جن میں لیڈی اہلکار بھی شامل ہیں، اہم مقامات پر تعینات کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ ڈولفن فورس کی 5 ٹیمیں اور رائٹ مینجمنٹ یونٹ کے 164 اہلکار بھی سیکیورٹی ڈیوٹی انجام دیں گے۔
پولیس حکام کے مطابق راولپنڈی اور اسلام آباد کو ملانے والے اہم داخلی و خارجی راستوں پر اضافی نفری تعینات کی جائے گی۔ وی آئی پی موومنٹ کے دوران ٹریفک کی روانی کو کنٹرول کیا جائے گا اور مخصوص اوقات میں کراسنگ محدود رکھی جا سکتی ہے۔
سیکیورٹی انتظامات کی نگرانی ایس ایس پی آپریشنز راولپنڈی ملک طارق محبوب کریں گے جبکہ مجموعی کمانڈ اینڈ کنٹرول کی ذمہ داری سی پی او راولپنڈی خالد ہمدانی کے سپرد ہوگی۔
دورے کے دوران ایرانی صدر Masoud Pezeshkian کی صدر مملکت Asif Ali Zardari اور وزیراعظم Shehbaz Sharif سے ملاقاتیں متوقع ہیں۔ ان ملاقاتوں میں دوطرفہ تعلقات، علاقائی صورتحال، تجارتی روابط اور ایران امریکا مذاکرات کے بعد کی پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
ماہرین کے مطابق یہ دورہ پاکستان اور ایران کے درمیان سفارتی، اقتصادی اور سیکیورٹی تعاون کو مزید فروغ دینے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
READ MORE FAQS
- ایرانی صدر مسعود پزشکیان کب پاکستان پہنچیں گے؟
ایرانی صدر آج سرکاری دورے پر پاکستان پہنچیں گے۔
- ایرانی صدر کے دورے کے لیے سیکیورٹی کے کیا انتظامات کیے گئے ہیں؟
راولپنڈی میں 600 سے زائد پولیس اہلکار، ایلیٹ فورس کمانڈوز، ڈولفن فورس اور رائٹ مینجمنٹ یونٹ کے اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔
- سیکیورٹی کا مرکز کون سا مقام ہے؟
نور خان ایئربیس اور اس کے اطراف کے علاقوں میں خصوصی سیکیورٹی نافذ کی گئی ہے۔
- کیا ٹریفک متاثر ہوگی؟
وی آئی پی موومنٹ کے دوران بعض مقامات پر ٹریفک کی عارضی پابندیاں یا کراسنگ محدود کی جا سکتی ہے۔








