ایٹمی طاقت ہونا وقت کی ضرورت ہے، عالمی کشیدگی کا ذمہ دار امریکا ہے: کم جونگ ان

شمالی کوریا جوہری طاقت پر کم جونگ ان کا اہم خطاب
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

شمالی کوریا جوہری طاقت: کم جونگ ان نے امریکا کو عالمی تنازعات کا ذمہ دار قرار دے دیا

شمالی کوریا جوہری طاقت کے موضوع پر ایک بار پھر عالمی توجہ اس وقت مرکوز ہوگئی جب شمالی کوریا کے رہنما Kim Jong Un نے امریکا کو عالمی تنازعات کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات میں ان کے ملک کے پاس جوہری ریاست کا درجہ برقرار رکھنے کے سوا کوئی دوسرا راستہ نہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق حکمراں Workers’ Party of Korea کی مرکزی کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کم جونگ ان نے کہا کہ دنیا تیزی سے غیر یقینی صورتحال کی طرف بڑھ رہی ہے اور عالمی سلامتی کو سنگین خطرات لاحق ہیں۔

انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں ایسے واقعات رونما ہو رہے ہیں جو ماضی میں ناقابل تصور سمجھے جاتے تھے۔ کم جونگ ان کے مطابق عالمی سطح پر بڑھتے ہوئے تنازعات اور جنگی ماحول کے پیچھے سامراجی طاقتوں کی پالیسیاں کارفرما ہیں۔

امریکا پر شدید تنقید

کم جونگ ان نے اپنی تقریر میں امریکا کو براہ راست تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی پالیسیوں نے دنیا بھر میں کشیدگی کو بڑھایا ہے اور مختلف خطوں میں جاری تنازعات کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔

شمالی کوریا کے رہنما نے الزام لگایا کہ امریکا اپنی اتحادی قوتوں کے ساتھ مل کر طاقت کے استعمال کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جس کے باعث عالمی امن متاثر ہو رہا ہے۔

کم جونگ ان نے امریکا اور South Korea پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک اپنی مشترکہ دفاعی اور جوہری حکمت عملی کو مسلسل مضبوط بنا رہے ہیں۔

ان کے مطابق امریکا اور جنوبی کوریا کی فوجی مشقیں اور دفاعی تعاون خطے کے امن کے لیے خطرہ بن چکے ہیں اور ان کا اصل مقصد شمالی کوریا پر دباؤ بڑھانا ہے۔

جوہری پروگرام برقرار رکھنے کا اعلان

کم جونگ ان نے واضح کیا کہ شمالی کوریا اپنی دفاعی صلاحیتوں میں مزید اضافہ کرے گا اور جوہری پروگرام کو جاری رکھے گا۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ عالمی حالات میں قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے جوہری طاقت ناگزیر ہو چکی ہے اور ملک اپنی دفاعی حکمت عملی میں کسی قسم کی نرمی نہیں کرے گا۔

عالمی سلامتی پر اثرات

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ کم جونگ ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دنیا کے مختلف خطوں میں کشیدگی اور سفارتی تنازعات میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

ماہرین کے مطابق شمالی کوریا کی جانب سے جوہری پروگرام پر زور دینے سے خطے میں اسلحے کی دوڑ اور سفارتی تناؤ مزید بڑھ سکتا ہے۔

کم جونگ ان کے تازہ بیان نے ایک بار پھر شمالی کوریا کی جوہری پالیسی کو عالمی بحث کا موضوع بنا دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکا اور اس کے اتحادیوں کی پالیسیوں کے باعث شمالی کوریا کے لیے اپنی جوہری صلاحیت برقرار رکھنا ناگزیر ہو چکا ہے۔

READ MORE FAQS

سوال 1: کم جونگ ان نے جوہری طاقت کے بارے میں کیا کہا؟

جواب: کم جونگ ان نے کہا کہ موجودہ عالمی حالات میں شمالی کوریا کے لیے جوہری ریاست کا درجہ برقرار رکھنا ناگزیر ہے۔

سوال 2: کم جونگ ان نے عالمی تنازعات کا ذمہ دار کس کو قرار دیا؟

جواب: انہوں نے امریکا کو عالمی تنازعات اور بڑھتی ہوئی کشیدگی کا بنیادی ذمہ دار قرار دیا۔

سوال 3: شمالی کوریا امریکا اور جنوبی کوریا پر کیا الزام لگاتا ہے؟

جواب: شمالی کوریا کا الزام ہے کہ امریکا اور جنوبی کوریا اپنی مشترکہ جوہری اور فوجی حکمت عملی کے ذریعے خطے کے امن کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔

سوال 4: کیا شمالی کوریا اپنا جوہری پروگرام ختم کرے گا؟

جواب: کم جونگ ان کے حالیہ بیان کے مطابق شمالی کوریا جوہری پروگرام جاری رکھے گا اور دفاعی صلاحیتوں میں مزید اضافہ کرے گا۔

اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے، تو خوب تحقیق کر لیا کرو، ایسا نہ ہو کہ تم کسی قوم کو نادانی میں نقصان پہنچا بیٹھو، پھر اپنے کیے پر پچھتاتے رہو۔  الحجرات: 6

🕌 نماز کے اوقات

فجر03:14 AM
طلوع آفتاب04:58 AM
ظہر12:10 PM
عصر03:54 PM
مغرب07:22 PM
عشاء09:06 PM