وزیراعظم شہباز شریف سرکاری دورے پر ترکیہ کے دارالحکومت استنبول پہنچ گئے، ترک قیادت سے اہم ملاقاتیں متوقع
استنبول: وزیراعظم شہباز شریف سرکاری دورے پر ترکیہ کے دارالحکومت استنبول پہنچ گئے جہاں ان کا پرتپاک استقبال ترکیہ کے وزیر تجارت پروفیسر ڈاکٹر عمر بولات نے کیا۔

تفصیلات کے مطابق استنبول ایئرپورٹ پر پاکستانی سفیر ڈاکٹر یوسف جنید اور ترکیہ کی وزارت خارجہ کے اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔ اس موقع پر نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور وفاقی وزیر اطلاعات عطاءاللہ تارڑ بھی وزیراعظم کے ہمراہ تھے۔
وزیراعظم شہباز شریف سرکاری دورے پر ترکیہ صدر رجب طیب ایردوان کی دعوت پر کر رہے ہیں۔ دورے کے دوران دونوں رہنما پاک-ترکیہ دوطرفہ تعلقات کے تمام پہلوؤں پر تفصیلی بات چیت کریں گے، جس میں خاص طور پر تجارت، سرمایہ کاری اور اقتصادی تعاون کے فروغ پر توجہ دی جائے گی۔
ذرائع کے مطابق ملاقاتوں میں علاقائی امن و سلامتی کی صورتحال پر بھی تبادلۂ خیال کیا جائے گا، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹجک اور اقتصادی شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے پر بھی غور ہوگا۔
وزیراعظم شہباز شریف استنبول میں پاکستان کی میزبانی میں منعقد ہونے والی بزنس کانفرنس سے بھی خطاب کریں گے، جس میں خصوصی اقتصادی زونز، توانائی، آئی ٹی اور نجکاری کے شعبوں میں سرمایہ کاری کے مواقع کو اجاگر کیا جائے گا۔
کانفرنس میں ترکیہ کے ممتاز کاروباری شخصیات اور اعلیٰ سرکاری حکام کی شرکت متوقع ہے، جسے دونوں ممالک کے درمیان معاشی تعاون کے نئے دور کے آغاز کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
سرکاری ذرائع کے مطابق شہباز شریف سرکاری دورے پر ترکیہ آمد پاکستان اور ترکیہ کے درمیان تعلقات کو مزید وسعت دینے اور باہمی سرمایہ کاری کے نئے امکانات پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔
وزیر اعظم شہباز شریف ترکیہ کے دوطرفہ دورے پر استنبول پہنچ گئے۔
استنبول کے اتاترک ایئر پورٹ پر ترکیہ کے وزیر تجارت پروفیسر ڈاکٹر عمر بولات، ترکیہ میں پاکستان کے سفیر ڈاکٹر یوسف جنید اور ترکیہ کے وزارت خارجہ اور سفارت خانے کے دیگر افسران نے وزیر اعظم کا استقبال کیا ۔
نائب… pic.twitter.com/1mrQeAWV7n
— Government of Pakistan (@GovtofPakistan) July 3, 2026
READ MORE FAQS”
Q1: وزیراعظم شہباز شریف کہاں گئے ہیں؟
وہ سرکاری دورے پر ترکیہ کے دارالحکومت استنبول پہنچے ہیں۔
Q2: ان کا استقبال کس نے کیا؟
ترکیہ کے وزیر تجارت پروفیسر ڈاکٹر عمر بولات اور دیگر حکام نے استقبال کیا۔
Q3: دورے کا مقصد کیا ہے؟
پاکستان اور ترکیہ کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری اور دوطرفہ تعلقات کو فروغ دینا۔
Q4: کن شعبوں پر بات چیت ہوگی؟
تجارت، سرمایہ کاری، توانائی، آئی ٹی اور علاقائی امن و سلامتی پر گفتگو ہوگی۔






