ولیکا اسپتال ایچ آئی وی کیسز: 78 بچوں کے متاثر ہونے کا انکشاف، ذمہ داروں کے خلاف کارروائی ہوگی، سعید غنی
ولیکا اسپتال ایچ آئی وی کیسز کے معاملے پر سندھ کے وزیر محنت و افرادی قوت و سماجی تحفظ سعید غنی نے کہا ہے کہ یہ ایک انتہائی سنگین مسئلہ ہے جسے ہر پہلو سے تحقیقات کے ذریعے منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس معاملے میں غفلت یا کوتاہی کے مرتکب کسی بھی افسر، ڈاکٹر یا پیرا میڈیکل اسٹاف کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سعید غنی نے بتایا کہ اب تک 78 بچوں کا ڈیٹا سامنے آ چکا ہے۔ ان کے مطابق یہ معمولی معاملہ نہیں بلکہ ایک ایسا واقعہ ہے جس کی مکمل تحقیقات ناگزیر ہیں تاکہ اصل ذمہ داروں کا تعین کیا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ جب انہوں نے ستمبر 2025 میں دوبارہ محکمہ محنت کا قلمدان سنبھالا تو اکتوبر کے آخر میں یہ معاملہ سامنے آیا۔ اسی روز انہوں نے متعلقہ حکام کا اجلاس طلب کیا، ابتدائی تفصیلات حاصل کیں اور فوری طور پر ایک تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دینے کی ہدایت جاری کی۔
صوبائی وزیر کے مطابق 29 اکتوبر 2025 کو پہلی تحقیقاتی کمیٹی قائم کی گئی، جس کی سفارشات کی بنیاد پر بعض افسران کو معطل بھی کیا گیا۔ بعد ازاں 7 نومبر 2025 کو کچھ متاثرہ افراد نے سندھ کے محتسب اعلیٰ سے رجوع کیا، جس کے بعد ایک اور انکوائری کمیٹی تشکیل دی گئی تاکہ معاملے کی مزید شفاف تحقیقات کی جا سکیں۔
سعید غنی نے کہا کہ ان کے خیال میں اب تک سامنے آنے والے تمام کیسز 28 اور 29 اکتوبر 2025 سے پہلے کے ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ کچھ متاثرہ بچوں کے والدین تحقیقاتی کمیٹی کے سامنے پیش نہیں ہوئے، اس لیے ان کیسز کے بارے میں حتمی رائے قائم کرنا قبل از وقت ہوگا۔
انہوں نے متاثرہ بچوں کے اہل خانہ کو یقین دلایا کہ سندھ حکومت اور محکمہ محنت انہیں تنہا نہیں چھوڑیں گے۔ حکومت متاثرہ بچوں کے علاج، طبی سہولیات اور دیگر ضروری معاونت کی فراہمی کو یقینی بنائے گی۔
صوبائی وزیر نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد قانون کے مطابق ذمہ دار عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام ممکن بنائی جا سکے۔
READ MORE FAQS
- ولیکا اسپتال ایچ آئی وی کیسز کے بارے میں سعید غنی نے کیا کہا؟
انہوں نے کہا کہ یہ ایک سنگین معاملہ ہے اور اس میں ملوث ذمہ دار افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
- اب تک کتنے بچوں کا ڈیٹا سامنے آیا ہے؟
سعید غنی کے مطابق اب تک 78 بچوں کا ڈیٹا سامنے آ چکا ہے۔
- کیا اس معاملے کی تحقیقات جاری ہیں؟
جی ہاں، اس معاملے کی تحقیقات کے لیے دو الگ الگ تحقیقاتی کمیٹیاں تشکیل دی جا چکی ہیں۔
- کیا کسی کے خلاف کارروائی بھی ہوئی ہے؟
صوبائی وزیر کے مطابق پہلی تحقیقاتی کمیٹی کی سفارشات پر بعض افسران کو معطل کیا جا چکا ہے۔








