حماس نے غزہ کی حکومت سے دستبرداری اختیار کرلی، ایمرجنسی کمیٹی تحلیل، اختیارات قومی انتظامی کمیٹی کے سپرد،
غزہ: حماس نے غزہ میں اپنے انتظامی ڈھانچے میں ایک بڑی تبدیلی کرتے ہوئے حکومتی امور چلانے والی گورنمنٹل ایمرجنسی کمیٹی کو تحلیل کرنے اور اس کے اختیارات نیشنل کمیٹی فار دی ایڈمنسٹریشن آف غزہ (NCAG) کے حوالے کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ اس اقدام کو جنگ کے بعد غزہ میں نئے انتظامی نظام کی تشکیل کی جانب اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق گورنمنٹل ایمرجنسی کمیٹی نے اپنے بیان میں کہا کہ وہ اپنی تمام انتظامی ذمہ داریاں ختم کرتے ہوئے اختیارات قومی انتظامی کمیٹی کو منتقل کرنے کے لیے تیار ہے تاکہ غزہ میں شہری اور سرکاری امور کا تسلسل برقرار رکھا جا سکے۔
قومی انتظامی کمیٹی ذمہ داریاں سنبھالنے کے لیے تیار
غزہ کی نیشنل کمیٹی کے سربراہ ڈاکٹر علی شعث نے کہا کہ کمیٹی کو جو بھی قومی ذمہ داریاں سونپی جائیں گی، وہ انہیں پوری ذمہ داری سے نبھانے کے لیے تیار ہے، تاہم اس مقصد کے لیے ضروری مالی وسائل، انتظامی اختیارات اور عملی سہولیات فراہم کرنا ناگزیر ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ مطلوبہ وسائل دستیاب ہوتے ہی کمیٹی غزہ میں صحت، تعلیم، بلدیاتی خدمات، پانی، بجلی اور دیگر سرکاری امور کی نگرانی سنبھال لے گی۔

فیصلہ کیوں کیا گیا؟
حماس کی جانب سے ایمرجنسی کمیٹی کی تحلیل اور اختیارات کی منتقلی کا مقصد جنگ کے بعد ایسا انتظامی نظام قائم کرنا بتایا جا رہا ہے جو عالمی سطح پر زیادہ قابل قبول ہو، انسانی امداد کی تقسیم کو مؤثر بنائے اور غزہ کی تعمیرِ نو کے عمل کو تیز کر سکے۔
گورنمنٹل ایمرجنسی کمیٹی کیا تھی؟
یہ کمیٹی غزہ میں جاری جنگ کے دوران حماس کی حکومت نے اس وقت قائم کی تھی جب اسرائیلی حملوں سے سرکاری اداروں کو شدید نقصان پہنچا تھا۔ کمیٹی کا مقصد ہنگامی حالات میں روزمرہ سرکاری امور اور شہری خدمات کو جاری رکھنا تھا۔
اب حماس نے اس ہنگامی انتظامی ڈھانچے کو ختم کرتے ہوئے ذمہ داریاں قومی انتظامی کمیٹی کے سپرد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
نیشنل کمیٹی فار دی ایڈمنسٹریشن آف غزہ کیا ہے؟
نیشنل کمیٹی فار دی ایڈمنسٹریشن آف غزہ (NCAG) ایک عبوری سول انتظامیہ ہے جسے جنگ کے بعد غزہ میں بنیادی حکومتی خدمات بحال کرنے کے لیے تشکیل دیا گیا۔ یہ ایک ٹیکنوکریٹک انتظامی ادارہ ہے جس میں تقریباً 15 آزاد فلسطینی ماہرین شامل ہیں اور اس کی سربراہی سابق فلسطینی سرکاری عہدیدار اور انجینئر ڈاکٹر علی شعث کر رہے ہیں۔
یہ کمیٹی صحت، تعلیم، بلدیات، پانی، بجلی، سرکاری ملازمین کے معاملات، انسانی امداد کی تقسیم، بین الاقوامی اداروں سے رابطوں اور تعمیرِ نو کے منصوبوں کی نگرانی کرے گی۔
علی شعث کون ہیں؟

ڈاکٹر علی عبد الحمید شعث فلسطین کے معروف سول انجینئر، ترقیاتی ماہر اور سابق اعلیٰ سرکاری عہدیدار ہیں۔ وہ فلسطینی اتھارٹی میں منصوبہ بندی، انفراسٹرکچر، ٹرانسپورٹ، ہاؤسنگ اور اقتصادی ترقی کے مختلف اہم عہدوں پر خدمات انجام دے چکے ہیں۔
اگرچہ وہ ماضی میں فلسطینی اتھارٹی سے وابستہ اداروں میں کام کر چکے ہیں، تاہم انہیں عمومی طور پر ایک غیر سیاسی ٹیکنوکریٹ شخصیت تصور کیا جاتا ہے۔
غزہ پیس کونسل کا کردار
قومی انتظامی کمیٹی ایک عبوری نگران ادارے غزہ پیس کونسل کے ماتحت کام کرے گی، جو جنگ بندی کے بعد غزہ میں عبوری حکمرانی کی نگرانی، کمیٹی کے ارکان کی تقرری اور اس کی کارکردگی کی نگرانی کرے گی۔
غزہ کی حکومتی تاریخ
2007 میں فتح اور حماس کے درمیان مسلح تصادم کے بعد حماس نے غزہ کا مکمل کنٹرول سنبھال لیا تھا اور اس کے بعد سے غزہ میں الگ انتظامیہ قائم رہی، جبکہ مغربی کنارے میں فلسطینی اتھارٹی کی حکومت برقرار رہی۔
غزہ کی پہلی حماس حکومت کی سربراہی اسماعیل ہنیہ نے کی، جبکہ بعد ازاں مختلف سیاسی اور عسکری تبدیلیوں کے باوجود انتظامی اختیارات حماس کے زیر اثر رہے۔ اب ایمرجنسی کمیٹی کی تحلیل کو غزہ میں نئے عبوری انتظامی ڈھانچے کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
After 19 years of Hamas rule over Gaza, the movement announced on Monday that it has dissolved the emergency committee running the strip and declared its full readiness to hand governance to the National Committee for the Administration of Gaza, the technocratic body meant to… pic.twitter.com/taonb5lboZ
— Translating Falasteen (Palestine) (@translatingpal) July 6, 2026
READ MORE FAQS”
سوال: حماس نے کیا اعلان کیا ہے؟
جواب: حماس نے غزہ کی گورنمنٹل ایمرجنسی کمیٹی تحلیل کرکے انتظامی اختیارات قومی انتظامی کمیٹی کو منتقل کرنے کا اعلان کیا ہے۔
سوال: نیشنل کمیٹی فار دی ایڈمنسٹریشن آف غزہ کیا ہے؟
جواب: یہ جنگ کے بعد غزہ میں بنیادی شہری اور سرکاری خدمات کی بحالی کے لیے قائم ایک عبوری ٹیکنوکریٹک سول انتظامیہ ہے۔
سوال: علی شعث کون ہیں؟
جواب: ڈاکٹر علی شعث فلسطینی انجینئر، ترقیاتی ماہر اور نیشنل کمیٹی فار دی ایڈمنسٹریشن آف غزہ کے سربراہ ہیں۔
سوال: کیا حماس نے مکمل طور پر اقتدار چھوڑ دیا ہے؟
جواب: حماس نے سول انتظامی اختیارات منتقل کرنے کا اعلان کیا ہے، تاہم اس کے سیاسی و عسکری کردار کے مستقبل کا انحصار جاری مذاکرات اور آئندہ سیاسی انتظامات پر ہوگا






