سندھ پبلک سروس کمیشن کے امتحانات متنازع، مزید 23 امیدواروں نے نتائج چیلنج کر دیے

سندھ پبلک سروس کمیشن امتحانات کے خلاف سندھ ہائیکورٹ میں درخواست
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

سندھ پبلک سروس کمیشن امتحانات: مزید 23 امیدواروں کی سندھ ہائیکورٹ سے رجوع

سندھ پبلک سروس کمیشن امتحانات کے نتائج کے خلاف قانونی کارروائی کا دائرہ مزید وسیع ہوگیا ہے، جہاں مزید 23 امیدواروں نے فیل قرار دیے جانے کے خلاف سندھ ہائیکورٹ میں آئینی درخواستیں دائر کر دی ہیں۔

درخواست گزاروں کا مؤقف ہے کہ سندھ پبلک سروس کمیشن (SPSC) نے انہیں امتحانات میں ناکام قرار دیا، تاہم نتائج غیر متوقع اور باعثِ حیرت ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ امتحانی عمل اور نتائج کی شفافیت پر سنجیدہ سوالات موجود ہیں، جن کا عدالتی جائزہ لیا جانا ضروری ہے۔

امیدواروں نے اپنی درخواستوں میں مؤقف اختیار کیا کہ سندھ ہائیکورٹ 30 جون کو اسی نوعیت کی درخواستوں پر سماعت کرتے ہوئے متعلقہ امیدواروں کے جوابی پرچوں کی دوبارہ جانچ کا حکم دے چکی ہے، جبکہ ان مقدمات کے نتائج بھی عدالتی حکم کے باعث روکے گئے تھے۔

درخواست گزاروں کے مطابق عدالت نے آئی بی اے کو ایک ماہ کے اندر جوابی پرچوں کی دوبارہ جانچ مکمل کرنے کی ہدایت دی تھی، تاہم ان کے بقول اس عدالتی حکم پر تاحال مکمل عملدرآمد نہیں ہو سکا۔

مزید 23 امیدواروں نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ ان کے جوابی پرچوں کو بھی غیر جانبدارانہ انداز میں دوبارہ چیک کرنے کا حکم دیا جائے تاکہ نتائج کی شفافیت یقینی بنائی جا سکے۔

درخواست میں یہ مؤقف بھی اختیار کیا گیا ہے کہ 2024 کے امتحانی نتائج میں مبینہ طور پر ٹیمپرنگ ہوئی ہے، اس لیے پورے امتحانی عمل کی آزادانہ جانچ ضروری ہے۔

امیدواروں نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ انصاف کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ان کے تحفظات دور کیے جائیں اور میرٹ پر مبنی شفاف امتحانی نظام کو یقینی بنایا جائے۔

READ MORE FAQS
  1. سندھ پبلک سروس کمیشن کے خلاف کتنے مزید امیدوار عدالت پہنچے ہیں؟

مزید 23 امیدواروں نے سندھ ہائیکورٹ میں آئینی درخواستیں دائر کی ہیں۔

  1. امیدواروں کا بنیادی مؤقف کیا ہے؟

ان کا کہنا ہے کہ انہیں غلط طور پر فیل قرار دیا گیا اور ان کے جوابی پرچے دوبارہ چیک کیے جائیں۔

  1. سندھ ہائیکورٹ نے پہلے کیا حکم دیا تھا؟

عدالت نے 30 جون کو بعض امیدواروں کے جوابی پرچوں کی دوبارہ جانچ کا حکم دیا تھا۔

  1. درخواست گزاروں نے آئی بی اے کے بارے میں کیا کہا؟

درخواست کے مطابق عدالت نے آئی بی اے کو ایک ماہ میں دوبارہ جانچ مکمل کرنے کا حکم دیا تھا، تاہم اس پر تاحال مکمل عمل نہیں ہوا۔

متعلقہ خبریں