صدر آصف علی زرداری آج کرغزستان روانہ، دوطرفہ تعلقات کے فروغ پر اہم ملاقاتیں ہوں گی

صدر آصف علی زرداری دورہ کرغزستان
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

صدر آصف علی زرداری دورہ کرغزستان: 21 برس بعد کسی پاکستانی صدر کا پہلا سرکاری دورہ

صدر آصف علی زرداری دورہ کرغزستان آج سے شروع ہو رہا ہے، جو 9 جولائی تک جاری رہے گا۔ ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق یہ دورہ کرغزستان کے صدر سیدر ژاپاروف کی دعوت پر کیا جا رہا ہے اور گزشتہ 21 برس کے دوران کسی بھی پاکستانی صدر کا جمہوریہ کرغزستان کا پہلا سرکاری دورہ ہے۔

دفتر خارجہ کے مطابق صدر آصف علی زرداری کے ہمراہ ایک اعلیٰ سطحی وفد بھی کرغزستان جائے گا۔ اس دورے کو پاکستان اور کرغزستان کے درمیان دوطرفہ تعلقات میں ایک اہم سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے، جس سے مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت ملنے کی توقع ہے۔

دورے کے دوران صدر آصف علی زرداری اور کرغزستان کے صدر سیدر ژاپاروف کے درمیان ون آن ون ملاقات ہوگی، جس کے بعد دونوں ممالک کے وفود کے درمیان باضابطہ مذاکرات بھی منعقد کیے جائیں گے۔

مذاکرات میں پاکستان اور کرغزستان کے باہمی تعلقات کا جامع جائزہ لیا جائے گا، جبکہ علاقائی اور بین الاقوامی امور پر بھی تبادلۂ خیال کیا جائے گا۔

دفتر خارجہ کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری، توانائی، معدنیات، زراعت، ٹیکسٹائل، حلال صنعت، صحت، دواسازی، ڈیجیٹل معیشت، تعلیم، سیاحت اور عوامی روابط سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کے امکانات پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔

صدر آصف علی زرداری اپنے دورے کے دوران کرغز پارلیمان کے اسپیکر سے بھی خیرسگالی ملاقات کریں گے، جس میں پارلیمانی روابط اور باہمی تعاون کے فروغ پر گفتگو متوقع ہے۔

حکام کے مطابق اس دورے کا مقصد پاکستان اور کرغزستان کے درمیان سیاسی، اقتصادی اور سفارتی تعلقات کو مزید مضبوط بنانا اور وسطی ایشیا کے ساتھ پاکستان کے تعاون کو نئی جہت دینا ہے۔

READ MORE FAQS
  1. صدر آصف علی زرداری کا دورہ کرغزستان کب تک جاری رہے گا؟

صدر آصف علی زرداری کا دورہ آج سے شروع ہو کر 9 جولائی تک جاری رہے گا۔

  1. یہ دورہ کیوں اہم ہے؟

یہ گزشتہ 21 برس میں کسی بھی پاکستانی صدر کا کرغزستان کا پہلا سرکاری دورہ ہے۔

  1. صدر زرداری کس کی دعوت پر کرغزستان جا رہے ہیں؟

وہ کرغزستان کے صدر سیدر ژاپاروف کی دعوت پر سرکاری دورہ کر رہے ہیں۔

  1. مذاکرات میں کن شعبوں پر بات ہوگی؟

تجارت، سرمایہ کاری، توانائی، معدنیات، زراعت، ٹیکسٹائل، حلال صنعت، صحت، تعلیم، سیاحت، ڈیجیٹل معیشت اور عوامی روابط سمیت مختلف شعبوں پر گفتگو ہوگی۔

متعلقہ خبریں