کورکمانڈرز کانفرنس 276 میں قومی سلامتی، خودمختاری اور دہشت گردی کے خلاف جامع حکمت عملی پر زور
کورکمانڈرز کانفرنس 276 پاکستان کی قومی سلامتی اور دفاعی حکمت عملی کے حوالے سے نہایت اہم اجلاس ثابت ہوئی، جس میں ملک کو درپیش داخلی و خارجی چیلنجز، دہشت گردی کے خلاف جاری اقدامات، علاقائی صورتحال اور جدید عسکری تقاضوں پر تفصیلی غور کیا گیا۔
اجلاس کا آغاز شہدائے وطن کے ایصال ثواب کے لیے فاتحہ خوانی سے کیا گیا۔ فورم نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وطن کے دفاع کے لیے جان قربان کرنے والے شہداء کی قربانیاں ہمیشہ قوم کے لیے مشعلِ راہ رہیں گی۔ شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ قومی سلامتی صرف عسکری طاقت تک محدود نہیں بلکہ سیاسی استحکام، مضبوط معیشت، مؤثر سفارت کاری، سماجی ہم آہنگی اور اطلاعاتی تحفظ بھی اس کا لازمی حصہ ہیں۔
اجلاس میں دہشت گردی کے خلاف جاری انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کا جائزہ لیا گیا اور اس بات کا اعادہ کیا گیا کہ پاکستان اپنی سرزمین پر امن قائم رکھنے کے لیے ہر ممکن اقدام جاری رکھے گا۔ فورم نے واضح کیا کہ دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں قانون کے مطابق جاری رہیں گی اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔
شرکاء نے خطے کی مجموعی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ خطے میں پائیدار امن اسی صورت ممکن ہے جب تمام ممالک اپنی سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہ ہونے دیں۔ فورم نے علاقائی استحکام، باہمی احترام اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کو امن کے لیے ضروری قرار دیا۔
اجلاس میں مسئلہ کشمیر پر پاکستان کے اصولی مؤقف کا اعادہ کیا گیا اور کہا گیا کہ کشمیری عوام کے حق خودارادیت کی حمایت جاری رہے گی۔ اسی طرح سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے پاکستان کے آبی حقوق کے تحفظ کو قومی مفاد کا اہم حصہ قرار دیا گیا۔
کورکمانڈرز کانفرنس میں جدید جنگی تقاضوں پر بھی خصوصی توجہ دی گئی۔ فورم نے اس بات پر زور دیا کہ مستقبل کی جنگ صرف روایتی محاذوں تک محدود نہیں رہی بلکہ سائبر سکیورٹی، مصنوعی ذہانت، خلائی ٹیکنالوجی، برقی جنگ اور اطلاعاتی میدان بھی قومی دفاع کا اہم حصہ بن چکے ہیں۔ اسی تناظر میں جدید دفاعی صلاحیتوں کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔
اجلاس میں اس امر پر بھی اتفاق کیا گیا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے ساتھ ساتھ متاثرہ علاقوں میں بہتر طرز حکمرانی، ترقیاتی منصوبوں، روزگار کے مواقع اور عوامی فلاح کو بھی فروغ دینا ناگزیر ہے تاکہ امن کو دیرپا بنیادوں پر مستحکم کیا جا سکے۔
شرکاء نے پاکستان کے علاقائی امن اور تعمیری سفارت کاری کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان ہمیشہ مذاکرات، تعاون اور اقتصادی روابط کے فروغ کا حامی رہا ہے۔ اجلاس میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ قومی اتحاد، ریاستی اداروں کے درمیان ہم آہنگی اور عوام کا اعتماد ملکی سلامتی کے لیے بنیادی ستون ہیں۔
کورکمانڈرز کانفرنس 276 نے واضح پیغام دیا کہ پاکستان اپنی خودمختاری، سلامتی اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے ہر سطح پر تیار ہے۔ جدید دفاعی حکمت عملی، مضبوط قومی اتحاد اور مؤثر ریاستی ادارے ملک کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے میں کلیدی کردار ادا کریں گے۔
READ MORE FAQS
- کورکمانڈرز کانفرنس 276 میں کن اہم امور پر غور کیا گیا؟
قومی سلامتی، دہشت گردی، جدید دفاعی حکمت عملی، کشمیر، سندھ طاس معاہدہ، علاقائی استحکام اور انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز پر تفصیلی غور کیا گیا۔
- اجلاس میں دہشت گردی کے حوالے سے کیا مؤقف اختیار کیا گیا؟
فورم نے دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں جاری رکھنے اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔
- جدید دفاعی حکمت عملی سے کیا مراد ہے؟
اس میں سائبر سکیورٹی، مصنوعی ذہانت، خلائی ٹیکنالوجی، برقی جنگ اور معلوماتی تحفظ جیسے جدید شعبے شامل ہیں۔
- سندھ طاس معاہدے پر کیا مؤقف سامنے آیا؟
اجلاس میں پاکستان کے آبی حقوق کے تحفظ کو قومی سلامتی اور مستقبل کے لیے انتہائی اہم قرار دیا گیا۔








