امریکی صدر ٹرمپ کا ترکیہ پر عائد پابندیاں ختم کرنے کا اعلان، ایف-35 طیاروں کی فروخت پر بھی مثبت اشارہ

نیٹو اجلاس میں ٹرمپ نے ترکیہ پر عائد پابندیاں ختم کرنے کا عندیہ دیا۔
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

امریکی صدر ٹرمپ کا ترکیہ پر عائد پابندیاں ختم کرنے کا اعلان، ایف-35 طیاروں کی فروخت پر بھی مثبت اشارہ

واشنگٹن / دی ہیگ: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ترکیہ پر عائد پابندیاں ختم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ واشنگٹن اور انقرہ کے تعلقات کو مزید مضبوط بنایا جائے گا۔ انہوں نے ترکیہ کو جدید ایف-35 لڑاکا طیاروں کی فروخت کے حوالے سے بھی مثبت اشارہ دیا ہے۔

یہ اعلان امریکی صدر نے نیٹو سربراہی اجلاس کے موقع پر ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان سے ملاقات کے دوران کیا۔ ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعلقات، دفاعی تعاون اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ "ہم ترکیہ پر عائد پابندیاں ختم کر رہے ہیں۔ ترکیہ ایران کو بہت اچھی طرح جانتا ہے اور اس نے مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے کے لیے اہم کردار ادا کیا ہے۔”

پابندیاں کیوں لگائی گئی تھیں؟

ٹرمپ نیٹو اجلاس ترکیہ روانگی
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نیٹو سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے انقرہ روانہ ہوگئے۔

امریکا نے 2020 میں روس سے S-400 فضائی دفاعی نظام خریدنے پر CAATSA (کاؤنٹرنگ امریکہ ایڈورسرایز تھرو سینکشنز ایکٹ) کے تحت ترکیہ پر پابندیاں عائد کی تھیں۔

ان پابندیوں کے تحت ترکیہ کی پریذیڈنسی آف ڈیفنس انڈسٹریز (SSB) پر امریکی برآمدی لائسنس، دفاعی سازوسامان کی فراہمی اور مختلف مالیاتی سہولیات پر پابندیاں عائد کی گئی تھیں۔

اسی طرح اُس وقت کے ایس ایس بی کے سربراہ اسماعیل دمیر اور دیگر ترک دفاعی حکام کے اثاثے منجمد کیے گئے تھے جبکہ ان پر امریکی ویزا پابندیاں بھی نافذ کی گئی تھیں۔

ایف-35 پروگرام میں شمولیت کا امکان

صدر ٹرمپ نے ترکیہ کو ایف-35 اسٹیلتھ لڑاکا طیاروں کی فروخت پر بھی تقریباً رضامندی ظاہر کی، جس کے بعد ترکیہ کی دوبارہ F-35 پروگرام میں شمولیت کی قیاس آرائیاں زور پکڑ گئی ہیں۔

دوسری جانب اسرائیل نے امریکا پر زور دیا ہے کہ وہ ترکیہ کو دوبارہ ایف-35 پروگرام میں شامل کرنے کے فیصلے پر نظرثانی کرے، کیونکہ اس اقدام سے خطے میں طاقت کا توازن متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

امریکا اور ترکیہ کے درمیان دفاعی تعلقات میں یہ پیش رفت مستقبل میں نیٹو اتحاد اور مشرق وسطیٰ کی علاقائی صورتحال پر بھی اہم اثرات مرتب کر سکتی ہے۔

 
READ MORE FAQS”

سوال: امریکا نے ترکیہ پر پابندیاں کیوں لگائی تھیں؟
جواب: امریکا نے 2020 میں روس سے S-400 فضائی دفاعی نظام خریدنے پر CAATSA قانون کے تحت ترکیہ پر پابندیاں عائد کی تھیں۔

سوال: ٹرمپ نے ترکیہ کے بارے میں کیا اعلان کیا؟
جواب: صدر ٹرمپ نے ترکیہ پر عائد پابندیاں ختم کرنے اور ایف-35 لڑاکا طیاروں کی فروخت پر مثبت پیش رفت کا اعلان کیا۔

سوال: اسرائیل نے اس فیصلے پر کیا ردعمل دیا؟
جواب: اسرائیل نے امریکا سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ترکیہ کو دوبارہ ایف-35 پروگرام میں شامل کرنے کے فیصلے پر نظرثانی کرے۔

سوال: ایف-35 پروگرام ترکیہ کے لیے کیوں اہم ہے؟
جواب: ایف-35 دنیا کے جدید ترین اسٹیلتھ لڑاکا طیاروں میں شمار ہوتا ہے، اور اس پروگرام میں شمولیت سے ترکیہ کی دفاعی صلاحیتوں میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے۔

متعلقہ خبریں