خاتون کو بچانے کی کوشش میں جان قربان کرنے والے گروپ کیپٹن عاصم طارق سپردِ خاک
گروپ کیپٹن عاصم طارق شہید کو اسلام آباد میں نمازِ جنازہ کے بعد مکمل فوجی اعزاز کے ساتھ سپردِ خاک کر دیا گیا۔ وہ دو روز قبل ایک خاتون کو مبینہ طور پر اغوا ہونے سے بچانے کی کوشش کے دوران ملزم کی فائرنگ سے شہید ہوگئے تھے۔
پاک فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق شہید افسر کی غیر معمولی جرات، بے لوث فرض شناسی اور عظیم قربانی کے اعتراف میں انہیں مکمل فوجی اعزاز کے ساتھ سپردِ خاک کیا گیا۔
نمازِ جنازہ میں پاک فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو، پاک فضائیہ کے سینئر افسران، جوانوں اور شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی اور شہید افسر کو بھرپور خراجِ عقیدت پیش کیا۔
اس موقع پر ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو نے کہا کہ گروپ کیپٹن عاصم طارق کی شہادت پاک فضائیہ اور پاکستان کی مسلح افواج کی اعلیٰ روایات کی آئینہ دار ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک بے گناہ شہری کی جان بچانے کے لیے اپنی جان قربان کر کے شہید افسر نے فرض شناسی، جرات اور انسانیت کی اعلیٰ مثال قائم کی۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاک فضائیہ کے افسران اور جوان صرف ملکی سرحدوں کے دفاع تک محدود نہیں بلکہ اپنے ہم وطنوں کی جان، عزت اور وقار کے تحفظ کے لیے بھی ہر قربانی دینے کے لیے تیار رہتے ہیں۔
یاد رہے کہ گروپ کیپٹن عاصم طارق اسلام آباد میں ایک خاتون کو مبینہ طور پر زبردستی گاڑی میں بٹھانے کی کوشش کے دوران مداخلت پر ملزم کی فائرنگ کا نشانہ بنے تھے اور بعد ازاں شہید ہوگئے۔
واقعے کے بعد پولیس نے ملزم سعد کو گرفتار کر لیا۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق ملزم اور خاتون ایک ہی دفتر میں کام کرتے تھے، جبکہ پولیس واقعے کے مختلف پہلوؤں کی مزید تحقیقات کر رہی ہے۔
شہید گروپ کیپٹن عاصم طارق کی قربانی کو عوامی حلقوں، حکومتی شخصیات اور عسکری قیادت نے انسانی ہمدردی، بہادری اور فرض شناسی کی روشن مثال قرار دیا ہے۔
READ MORE FAQS
- گروپ کیپٹن عاصم طارق کو کہاں سپردِ خاک کیا گیا؟
انہیں اسلام آباد میں نمازِ جنازہ کے بعد مکمل فوجی اعزاز کے ساتھ سپردِ خاک کیا گیا۔
- نمازِ جنازہ میں کس نے شرکت کی؟
ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو، پاک فضائیہ کے سینئر افسران، جوانوں اور شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
- گروپ کیپٹن عاصم طارق کیسے شہید ہوئے؟
وہ ایک خاتون کو مبینہ طور پر اغوا ہونے سے بچانے کی کوشش کے دوران ملزم کی فائرنگ سے شہید ہوئے۔
- آئی ایس پی آر نے شہید افسر کے بارے میں کیا کہا؟
آئی ایس پی آر کے مطابق انہیں غیر معمولی جرات، بے لوث فرض شناسی اور عظیم قربانی کے اعتراف میں مکمل فوجی اعزاز دیا گیا۔








