زیارت میں پولیس چوکی پر حملہ، 9 اہلکار شہید، سکیورٹی فورسز کا جوابی آپریشن

زیارت پولیس چوکی حملہ اور کلیئرنس آپریشن
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

زیارت پولیس چوکی حملہ: 9 اہلکار شہید، کلیئرنس آپریشن میں 15 دہشت گرد ہلاک

زیارت پولیس چوکی حملہ میں بلوچستان کے ضلع زیارت کے علاقے مانگی میں مسلح افراد نے پولیس چوکی کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں فائرنگ کے تبادلے میں 9 پولیس اہلکار شہید ہوگئے۔ بعد ازاں سکیورٹی فورسز نے مشترکہ کلیئرنس آپریشن کرتے ہوئے 15 دہشت گردوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

ایس پی زیارت عبدالقدوس کے مطابق حملہ آوروں نے مانگی میں واقع پولیس چوکی پر اچانک حملہ کیا، جس کے بعد شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ حملے میں شہید ہونے والے اہلکاروں کی میتیں ڈی ایچ کیو اسپتال منتقل کر دی گئیں۔

پولیس حکام کے مطابق حملہ آور جاتے ہوئے 5 پولیس اہلکاروں کو اپنے ساتھ لے گئے تھے، تاہم بعد میں حکام نے بتایا کہ ڈی ایس پی غلام سرور سمیت 8 اہلکار بحفاظت تھانہ کاچ پہنچ گئے جبکہ کانسٹیبل رضوان کو بھی بحفاظت بازیاب کرا لیا گیا۔

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہید اہلکاروں کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ انہوں نے شہداء کے اہل خانہ سے تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ امن کے لیے جانیں قربان کرنے والے اہلکار پوری قوم کا فخر ہیں اور ان کی قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

وزیراعلیٰ بلوچستان کے معاون شاہد رند نے بتایا کہ حملے کے بعد ایف سی، بلوچستان پولیس، سی ٹی ڈی، ایس او ڈبلیو اور اے ٹی ایف نے مشترکہ کلیئرنس آپریشن مکمل کیا، جس میں 15 دہشت گرد ہلاک کیے گئے۔

شاہد رند کے مطابق شہداء میں ایس ایچ او تھانہ مانگی، ایس ایچ او تھانہ کواس، اے ٹی ایف انچارج اور دیگر پولیس اہلکار شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں انٹیلی جنس اطلاعات کی بنیاد پر جاری رہیں گی اور بلوچستان میں دہشت گردوں کے لیے کوئی محفوظ پناہ گاہ نہیں چھوڑ دی جائے گی۔

حکام نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ امن و امان کو نقصان پہنچانے والے عناصر کے خلاف کارروائیاں پوری قوت سے جاری رہیں گی اور ذمہ داروں کو قانون کے مطابق انجام تک پہنچایا جائے گا۔

READ MORE FAQS
  1. زیارت میں حملہ کہاں ہوا؟

حملہ ضلع زیارت کے مانگی علاقے میں واقع پولیس چوکی پر کیا گیا۔

  1. حملے میں کتنے پولیس اہلکار شہید ہوئے؟

حملے میں 9 پولیس اہلکار شہید ہوئے۔

  1. کلیئرنس آپریشن میں کتنے دہشت گرد ہلاک ہوئے؟

حکام کے مطابق مشترکہ کلیئرنس آپریشن میں 15 دہشت گرد ہلاک کیے گئے۔

  1. کیا مغوی پولیس اہلکار بازیاب ہوگئے؟

حکام کے مطابق ڈی ایس پی غلام سرور سمیت 8 اہلکار بحفاظت پہنچ گئے جبکہ کانسٹیبل رضوان کو بھی بازیاب کر لیا گیا۔

متعلقہ خبریں