شارجہ سے کراچی آنے والا کارگو طیارہ لاپتا، 5 افراد سوار تھے

شارجہ سے کراچی لاپتا کارگو طیارہ سرچ آپریشن
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

شارجہ سے کراچی آنے والا لاپتا کارگو طیارہ، کمپنی نے سوار افراد کی تفصیلات جاری کردیں

شارجہ سے کراچی لاپتا کارگو طیارہ گزشتہ رات کراچی پہنچنے سے قبل اچانک ایئر ٹریفک کنٹرول سے رابطہ منقطع ہونے کے بعد لاپتا ہوگیا، جس کے بعد متعلقہ اداروں نے فوری سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن شروع کردیا۔

کمپنی کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق کارگو طیارہ شارجہ سے کراچی آرہا تھا اور رات 9 بج کر 21 منٹ پر اس کا رابطہ ایئر ٹریفک کنٹرول سے منقطع ہوگیا۔

اعلامیے میں بتایا گیا کہ طیارے میں پانچ افراد سوار تھے، جن میں:

  • پائلٹ محمد رضوان ادریس
  • فرسٹ آفیسر فیصل محمود
  • لوڈ ماسٹر محمد توفیق
  • انجینئر عارف صدیقی
  • محمد حامد

دوسری جانب ذرائع کے مطابق ریکارڈ محفوظ رکھنے کے لیے جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر متعلقہ نجی کمپنی کے دفتر کو سیل کردیا گیا ہے۔

ایئر ٹریفک کنٹرولر نے بتایا کہ لاپتا طیارے کے پائلٹ نے رابطہ منقطع ہونے سے قبل "مے ڈے” کال نہیں دی، جس سے یہ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ہنگامی صورتحال اچانک پیدا ہوئی اور عملے کو مدد کی درخواست دینے کا موقع نہیں ملا۔

ذرائع کے مطابق مذکورہ طیارہ فنی خرابی کے باعث مرمت کے لیے شارجہ بھیجا گیا تھا، جہاں یہ تقریباً پانچ روز تک موجود رہا۔ مرمت مکمل ہونے کے بعد اسے فیری فلائٹ کے طور پر، یعنی بغیر کارگو کے، کراچی واپس لایا جا رہا تھا۔

اطلاعات کے مطابق طیارے کی مرمت شارجہ میں Northern Techniques نامی کمپنی نے کی تھی۔

پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی (PAA) کے ترجمان کے مطابق واقعے کے فوراً بعد ریسکیو کوآرڈینیشن سینٹر فعال کردیا گیا اور لاپتا طیارے کی تلاش کے لیے سمندر میں سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن جاری ہے، جس میں مختلف متعلقہ ادارے حصہ لے رہے ہیں۔

READ MORE FAQS

شارجہ سے کراچی آنے والا کارگو طیارہ کب لاپتا ہوا؟

طیارہ گزشتہ رات 9 بج کر 21 منٹ پر ایئر ٹریفک کنٹرول سے رابطہ منقطع ہونے کے بعد لاپتا ہوا۔

طیارے میں کتنے افراد سوار تھے؟

کارگو طیارے میں عملے کے 5 افراد سوار تھے۔

کیا پائلٹ نے مے ڈے کال دی تھی؟

نہیں، ایئر ٹریفک کنٹرول کے مطابق پائلٹ کی جانب سے کوئی مے ڈے کال موصول نہیں ہوئی۔

کیا طیارہ کارگو لے کر آرہا تھا؟

ذرائع کے مطابق طیارہ فیری فلائٹ پر تھا اور اس میں کوئی کارگو موجود نہیں تھا۔

متعلقہ خبریں