وفاقی کابینہ نے پاسکو دسمبر تک ختم کرنے کی منظوری دے دی
وفاقی کابینہ نے پاسکو ختم کرنے کی منظوری دیتے ہوئے فیصلہ کیا ہے کہ پاکستان ایگری کلچرل اسٹوریج اینڈ سروسز کارپوریشن لمیٹڈ (PASCO) کو رواں سال دسمبر تک مرحلہ وار ختم کر دیا جائے گا۔ اس فیصلے کا مقصد گندم کی خریداری اور ذخیرہ اندوزی کے نظام میں اصلاحات، حکومتی اخراجات میں کمی اور ادارہ جاتی ڈھانچے کو مزید مؤثر بنانا بتایا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق کابینہ نے پاسکو کے ملازمین کے لیے 4 ارب 18 کروڑ روپے کے خصوصی مالی پیکیج کی بھی منظوری دی ہے تاکہ ادارے کی بندش کے دوران ملازمین کے حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔ اطلاعات کے مطابق پاسکو میں تقریباً 1100 مستقل ملازمین خدمات انجام دے رہے ہیں۔
کابینہ کے فیصلے کے مطابق سیلاب سے متاثرہ گندم کے ذخائر کو بھی شفاف طریقے سے نیلام کیا جائے گا تاکہ حکومتی نقصان میں کمی لائی جا سکے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس عمل کے دوران تمام قانونی اور انتظامی تقاضے پورے کیے جائیں گے۔
ماہرین کے مطابق پاسکو کی بندش کے بعد گندم کی خریداری، ذخیرہ اور سپلائی سے متعلق ذمہ داریوں کو نئے انتظامی فریم ورک کے تحت منظم کیا جا سکتا ہے، تاہم اس حوالے سے حکومت کی جانب سے مزید تفصیلات اور پالیسی رہنما اصول سامنے آنا باقی ہیں۔
حکومتی ذرائع کے مطابق ملازمین کے مالی معاملات، اثاثوں کی منتقلی، واجبات کی ادائیگی اور ادارے کی بندش کے تمام مراحل کو مقررہ مدت کے اندر مکمل کیا جائے گا تاکہ اس عمل میں کسی قسم کی رکاوٹ پیش نہ آئے۔
READ MORE FAQS
- پاسکو کیا ہے؟
پاسکو (Pakistan Agricultural Storage and Services Corporation) ایک سرکاری ادارہ ہے جو گندم کی خریداری، ذخیرہ اور سپلائی سے متعلق امور انجام دیتا رہا ہے۔
- وفاقی کابینہ نے کیا فیصلہ کیا؟
وفاقی کابینہ نے پاسکو کو دسمبر تک مرحلہ وار ختم کرنے کی منظوری دے دی ہے۔
- ملازمین کے لیے کیا پیکیج منظور ہوا؟
کابینہ نے پاسکو کے ملازمین کے لیے 4 ارب 18 کروڑ روپے کے مالی پیکیج کی منظوری دی ہے۔
- پاسکو میں کتنے مستقل ملازمین ہیں؟
ذرائع کے مطابق پاسکو میں تقریباً 1100 ریگولر ملازمین کام کر رہے ہیں۔








