بلوچستان میں آپریشن شعبان جاری، سکیورٹی فورسز کی کارروائی میں مزید 4 دہشتگرد ہلاک
آپریشن شعبان بلوچستان میں دہشتگردی کے خاتمے اور امن کے قیام کے لیے جاری اہم سکیورٹی مہم کے طور پر سامنے آیا ہے۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق پاک فوج، ایف سی بلوچستان اور پولیس کی جانب سے فتنۃ الہندوستان سے وابستہ دہشتگرد عناصر کے خلاف کارروائیاں مسلسل جاری ہیں، جن کے نتیجے میں مزید 4 دہشتگرد ہلاک ہونے کی مصدقہ اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
تازہ کارروائی کے بعد آپریشن شعبان میں ہلاک دہشتگردوں کی مجموعی تعداد 83 تک پہنچ گئی ہے۔ سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ 5 جولائی سے اب تک مختلف آپریشنز اور انٹیلی جنس بیسڈ کارروائیوں کے دوران مجموعی طور پر 121 دہشتگرد مارے جا چکے ہیں۔ حکام کے مطابق بلوچستان کے مختلف حساس علاقوں میں دہشتگردوں کی نقل و حرکت، ان کے ٹھکانوں اور سہولت کاروں کے خلاف کارروائیاں تیز کر دی گئی ہیں۔
بلوچستان گزشتہ کئی برسوں سے دہشتگردی اور تخریبی سرگرمیوں کا سامنا کر رہا ہے۔ مختلف کالعدم تنظیمیں اور بیرونی حمایت یافتہ عناصر صوبے کے امن و استحکام کو متاثر کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ اسی تناظر میں سکیورٹی اداروں نے دہشتگردوں کے خلاف مربوط اور منظم حکمت عملی اپناتے ہوئے آپریشن شعبان کا آغاز کیا تاکہ عوام کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق حالیہ کارروائیوں میں دہشتگردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا جہاں فورسز کو اہم کامیابیاں حاصل ہوئیں۔ کارروائی کے دوران دہشتگردوں کی جانب سے مزاحمت بھی کی گئی تاہم سکیورٹی فورسز نے پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے صورتحال پر مکمل کنٹرول حاصل کیا۔ ہلاک ہونے والے دہشتگرد مختلف دہشتگردانہ سرگرمیوں میں ملوث تھے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مطلوب تھے۔
حکام کا کہنا ہے کہ دہشتگردی کے مکمل خاتمے تک کارروائیاں جاری رہیں گی۔ انٹیلی جنس اطلاعات کی بنیاد پر جاری آپریشنز میں دہشتگردوں کے نیٹ ورکس، سہولت کاروں اور مالی معاونت فراہم کرنے والے عناصر کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ سکیورٹی فورسز کا مؤقف ہے کہ بلوچستان میں پائیدار امن کے قیام کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
دوسری جانب صوبے کے مختلف علاقوں میں عوامی سطح پر بھی دہشتگردی کے خلاف تعاون بڑھ رہا ہے۔ مقامی قبائلی عمائدین، سماجی شخصیات اور عوام نے سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں کی حمایت کرتے ہوئے امن کے قیام کی کوششوں کو سراہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ عوامی تعاون اور موثر انٹیلی جنس شیئرنگ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
سیاسی اور سکیورٹی تجزیہ کاروں کے مطابق بلوچستان میں جاری انسداد دہشتگردی آپریشنز سے دہشتگردوں کی تنظیمی صلاحیت متاثر ہوئی ہے۔ متعدد اہم کمانڈرز کی ہلاکت اور ٹھکانوں کی تباہی کے باعث دہشتگرد نیٹ ورکس کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ تاہم ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ دیرپا امن کے لیے سکیورٹی اقدامات کے ساتھ ساتھ ترقیاتی منصوبوں، روزگار کے مواقع اور سماجی استحکام کو بھی فروغ دینا ضروری ہے۔
حکومتی ذرائع کے مطابق وفاقی اور صوبائی سطح پر سکیورٹی اداروں کے درمیان مکمل رابطہ موجود ہے اور دہشتگردی کے خلاف جاری مہم کو مزید مؤثر بنانے کے لیے مختلف اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ جدید ٹیکنالوجی، نگرانی کے نظام اور انٹیلی جنس وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے دہشتگردوں کی سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھی جا رہی ہے۔
آپریشن شعبان نہ صرف بلوچستان بلکہ پورے پاکستان میں امن و استحکام کے قیام کی کوششوں کا اہم حصہ بن چکا ہے۔ سکیورٹی ذرائع نے واضح کیا ہے کہ آخری دہشتگرد کے خاتمے تک کارروائیاں جاری رہیں گی اور کسی بھی تخریبی عنصر کو ملک کے امن کے ساتھ کھیلنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
READ MORE FAQS
آپریشن شعبان کیا ہے؟
آپریشن شعبان بلوچستان میں دہشتگردوں کے خلاف پاک فوج، ایف سی بلوچستان اور پولیس کی مشترکہ انسداد دہشتگردی مہم ہے۔
حالیہ کارروائی میں کتنے دہشتگرد ہلاک ہوئے؟
سکیورٹی ذرائع کے مطابق تازہ کارروائی میں 4 دہشتگرد ہلاک ہوئے۔
آپریشن شعبان میں مجموعی طور پر کتنے دہشتگرد مارے جا چکے ہیں؟
تازہ کارروائی کے بعد آپریشن شعبان میں ہلاک دہشتگردوں کی تعداد 83 ہوگئی ہے۔
5 جولائی سے اب تک کتنے دہشتگرد ہلاک ہوئے؟
سکیورٹی ذرائع کے مطابق 5 جولائی سے اب تک مجموعی طور پر 121 دہشتگرد مارے جا چکے ہیں۔








