سورج خانہ کعبہ کے عین اوپر: 15 جولائی کو قبلہ درست معلوم کرنے کا نادر موقع

سورج خانہ کعبہ کے عین اوپر فلکیاتی منظر
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

‫15 جولائی کو سورج خانہ کعبہ کے عین اوپر ہوگا‬

‫سورج خانہ کعبہ کے عین اوپر بدھ 15 جولائی کو ایک مرتبہ پھر آئے گا، جس کے باعث چند لمحوں کے لیے خانہ کعبہ کا سایہ ختم ہو جائے گا۔ یہ ایک اہم فلکیاتی واقعہ ہے جو ہر سال دو مرتبہ پیش آتا ہے اور دنیا بھر کے مسلمانوں کو بغیر قطب نما کے قبلے کی درست سمت معلوم کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔‬

‫جدہ فلکیاتی سوسائٹی کے مطابق مکہ مکرمہ کے مقامی وقت کے مطابق دوپہر 12 بج کر 26 منٹ اور 44 سیکنڈ پر سورج خانہ کعبہ کے عین اوپر 90 ڈگری کے زاویے پر ہوگا۔ اس لمحے سورج اور خانہ کعبہ ایک ہی خطِ عمود پر ہوں گے، جس کی وجہ سے خانہ کعبہ کا سایہ نظر نہیں آئے گا۔‬

پاکستان میں یہ فلکیاتی منظر دوپہر 2 بج کر 26 منٹ اور 44 سیکنڈ (پاکستانی وقت) پر دیکھا جا سکے گا۔

قبلے کی سمت معلوم کرنے کا آسان طریقہ

ماہرین فلکیات کے مطابق اس مخصوص وقت پر دنیا کے مختلف حصوں میں موجود مسلمان آسانی سے اپنے مقام پر قبلے کی درست سمت معلوم کر سکتے ہیں۔

اس کے لیے درج ذیل طریقہ اختیار کیا جا سکتا ہے:

  • مقررہ وقت پر کسی کھلی جگہ پر ایک سیدھی لکڑی، ڈنڈا یا کوئی عمودی چیز زمین میں سیدھی کھڑی کریں۔
  • جیسے ہی اس چیز کا سایہ ظاہر ہو، اس سایے کی مخالف سمت خانہ کعبہ یعنی قبلے کی سمت ہوگی۔
  • اس طریقے سے قطب نما یا موبائل ایپ کے بغیر بھی قبلے کی سمت کی تصدیق کی جا سکتی ہے۔

یہ فلکیاتی واقعہ کیوں پیش آتا ہے؟

زمین سورج کے گرد اپنے مدار میں گردش کرتی ہے جبکہ اس کا محور تقریباً 23.5 ڈگری جھکا ہوا ہے۔ سال کے مخصوص دنوں میں سورج اپنی ظاہری حرکت کے دوران ایسے مقام پر پہنچتا ہے جہاں وہ خانہ کعبہ کے عین اوپر آ جاتا ہے۔

اسی وجہ سے خانہ کعبہ پر سورج کی شعاعیں عمودی طور پر پڑتی ہیں اور اس کا سایہ ختم ہو جاتا ہے۔

سال میں دو مرتبہ یہ منظر کیوں دیکھنے کو ملتا ہے؟

فلکیاتی ماہرین کے مطابق سورج ہر سال دو مرتبہ خانہ کعبہ کے عین اوپر آتا ہے۔ ان مواقع پر دنیا بھر میں قبلے کی سمت کی جانچ اور درستگی کا بہترین موقع ملتا ہے۔

یہ فلکیاتی مظہر کئی دہائیوں سے ماہرین فلکیات، جغرافیہ دانوں اور مسلمانوں کے لیے اہمیت رکھتا ہے۔

قدیم دور میں قبلہ کیسے معلوم کیا جاتا تھا؟

جدید ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل کمپاس کی سہولت سے پہلے مسلمان اسی فلکیاتی اصول سے فائدہ اٹھاتے تھے۔

مقررہ وقت پر ایک لکڑی یا سیدھی چھڑی زمین میں گاڑ دی جاتی تھی۔ جب اس کا سایہ بنتا تو اس کی مخالف سمت کو خانہ کعبہ کا رخ تصور کیا جاتا تھا۔ اس طریقے سے مساجد، گھروں اور دیگر عبادت گاہوں میں قبلے کا درست تعین کیا جاتا تھا۔

آج بھی اس کی اہمیت کیوں برقرار ہے؟

اگرچہ آج موبائل فون، جی پی ایس اور ڈیجیٹل کمپاس کے ذریعے قبلہ معلوم کرنا آسان ہو گیا ہے، لیکن سورج کے خانہ کعبہ کے عین اوپر آنے کا یہ فلکیاتی واقعہ اب بھی قبلے کی سمت کی تصدیق کے لیے ایک سائنسی اور قدرتی طریقہ سمجھا جاتا ہے۔

فلکیاتی ماہرین کے مطابق یہ موقع دنیا بھر میں قبلے کے رخ کی درستگی جانچنے کے لیے نہایت مفید ہوتا ہے۔

‫15 جولائی کو پیش آنے والا یہ منفرد فلکیاتی واقعہ نہ صرف سائنسی اعتبار سے اہم ہے بلکہ دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے بھی خاص مذہبی اہمیت رکھتا ہے۔ مقررہ وقت پر سورج کے خانہ کعبہ کے عین اوپر آنے سے قبلے کی سمت قدرتی انداز میں معلوم اور تصدیق کی جا سکتی ہے، جو صدیوں سے استعمال ہونے والا ایک مستند طریقہ ہے۔‬

READ MORE FAQS

سورج خانہ کعبہ کے عین اوپر کب آئے گا؟

‫15 جولائی کو مکہ مکرمہ کے وقت کے مطابق 12:26:44 پر جبکہ پاکستان میں 2:26:44 پر۔‬

اس وقت خانہ کعبہ کا سایہ کیوں ختم ہو جاتا ہے؟

کیونکہ سورج عین عمودی زاویے (90 ڈگری) پر ہوتا ہے اور روشنی سیدھی اوپر سے پڑتی ہے۔

قبلہ معلوم کرنے کا طریقہ کیا ہے؟

ایک سیدھی لکڑی زمین میں کھڑی کریں، اس کے سایے کی مخالف سمت قبلہ ہوگی۔

متعلقہ خبریں