امریکا کے ایران پر حملے: مسلسل نویں رات بھی فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا

امریکا کے ایران پر حملے کے بعد فوجی کارروائی کی نمائندہ تصویر
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

امریکی فوج کی ایران میں نویں رات بھی کارروائیاں، خطے میں کشیدگی برقرار

امریکا کے ایران پر حملے مسلسل نویں رات بھی جاری رہے۔ امریکی فوج کے مطابق مختلف کارروائیوں میں ایران کے متعدد فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا، جن میں بحری صلاحیتوں سے متعلق تنصیبات، میزائل تنصیبات، ڈرون لانچ سائٹس اور مواصلاتی نیٹ ورکس شامل تھے۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ان کارروائیوں کا مقصد ایران کی فوجی صلاحیت کو محدود کرنا اور ایسے فوجی اثاثوں کو نقصان پہنچانا تھا جنہیں امریکا اپنے مفادات یا اتحادیوں کے لیے ممکنہ خطرہ قرار دیتا ہے۔ ان کے مطابق حملوں میں درست نشانہ بنانے والے ہتھیار استعمال کیے گئے اور کارروائیوں میں فوجی اہداف کو ترجیح دی گئی۔

دوسری جانب ایرانی حکام نے ان حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں اپنی خودمختاری اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ایران کا مؤقف ہے کہ وہ اپنی دفاعی صلاحیت برقرار رکھے گا اور مناسب وقت پر جواب دینے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔

مسلسل فوجی کارروائیوں کے باعث مشرق وسطیٰ میں کشیدگی میں نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ مبصرین کے مطابق خطے کی سکیورٹی صورتحال مزید حساس ہو گئی ہے، جبکہ عالمی سطح پر بھی اس تنازع پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

بین الاقوامی برادری نے تمام فریقوں پر زور دیا ہے کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں، کشیدگی میں مزید اضافے سے گریز کریں اور اختلافات کے حل کے لیے سفارتی ذرائع اختیار کریں تاکہ خطے میں امن و استحکام برقرار رکھا جا سکے۔

READ MORE FAQS

امریکا نے کن اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے؟

امریکی فوج کے مطابق بحری تنصیبات، میزائل تنصیبات، ڈرون لانچ سائٹس اور مواصلاتی نیٹ ورکس کو نشانہ بنایا گیا۔

ایران کا ردعمل کیا ہے؟

ایرانی حکام نے حملوں کی مذمت کرتے ہوئے انہیں خودمختاری اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

امریکی حکام نے کارروائیوں کا مقصد کیا بتایا؟

ان کے مطابق مقصد ایران کی فوجی صلاحیت کو محدود کرنا اور ممکنہ خطرناک فوجی اثاثوں کو نشانہ بنانا تھا۔

بین الاقوامی برادری نے کیا مؤقف اختیار کیا ہے؟

بین الاقوامی برادری نے تمام فریقوں سے تحمل، کشیدگی میں کمی اور سفارتی مذاکرات پر زور دیا ہے۔

متعلقہ خبریں