سعودی آئل ٹینکرز پر حملہ، وزیراعظم شہباز شریف کا محمد بن سلمان سے رابطہ شدید مذمت

سعودی آئل ٹینکرز پر حملہ، وزیراعظم شہباز شریف اور محمد بن سلمان کا ٹیلیفونک رابطہ
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

وزیراعظم شہباز شریف کی سعودی ولی عہد سے گفتگو، آئل ٹینکرز پر حملوں کی شدید مذمت

سعودی آئل ٹینکرز پر حملہ کے بعد وزیراعظم شہباز شریف نے سعودی ولی عہد و وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان سے ٹیلیفونک رابطہ کیا اور بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز کو نشانہ بنانے کے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے پاکستان کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا۔

وزیراعظم آفس کے مطابق دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی گفتگو میں وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حوثی ملیشیا کے حملے نہ صرف ناقابلِ قبول ہیں بلکہ بین الاقوامی قانون کی بھی صریح خلاف ورزی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایسے حملے عالمی جہاز رانی، تجارتی نقل و حمل کی آزادی اور خطے کے امن و استحکام کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔ وزیراعظم کے مطابق پاکستان اس قسم کی کارروائیوں کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتا ہے۔

شہباز شریف نے سعودی ولی عہد کو یقین دلایا کہ "میں، فیلڈ مارشل اور پاکستانی قوم اس نازک وقت میں سعودی قیادت اور برادر عوام کے ساتھ پوری مضبوطی اور عزم کے ساتھ کھڑے ہیں۔”

وزیراعظم نے سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری، علاقائی سالمیت اور خوشحالی کے لیے پاکستان کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ دونوں برادر ممالک کے درمیان تعلقات باہمی اعتماد، احترام اور دیرینہ دوستی پر مبنی ہیں۔

انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ پاکستان خطے میں امن، سلامتی اور استحکام کے فروغ کے لیے سعودی عرب اور عالمی برادری کے ساتھ اپنا تعاون جاری رکھے گا۔

وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان بحیرہ احمر، آبنائے ہرمز اور دیگر اہم سمندری راستوں پر بین الاقوامی تجارت اور جہاز رانی کی بلا تعطل روانی کو یقینی بنانے کے لیے قریبی تعاون جاری رکھے گا، کیونکہ یہ عالمی معیشت اور توانائی کی سپلائی کے لیے نہایت اہم راستے ہیں۔

گفتگو کے دوران وزیراعظم شہباز شریف نے خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز کے لیے نیک خواہشات اور خیرسگالی کے جذبات کا اظہار بھی کیا۔

دوسری جانب سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے پاکستان کی مسلسل حمایت اور دونوں ممالک کے درمیان مضبوط برادرانہ تعلقات کو سراہتے ہوئے پاکستان کے تعمیری کردار پر شکریہ ادا کیا۔

ماہرین کے مطابق بحیرہ احمر میں حالیہ حملوں کے بعد پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان اعلیٰ سطحی رابطہ دونوں ممالک کے قریبی تعلقات اور علاقائی سلامتی کے حوالے سے مشترکہ مؤقف کی عکاسی کرتا ہے۔

READ MORE FAQS

وزیراعظم شہباز شریف نے کس سے ٹیلیفونک رابطہ کیا؟

وزیراعظم شہباز شریف نے سعودی ولی عہد و وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان سے ٹیلیفونک رابطہ کیا۔

رابطے کا بنیادی مقصد کیا تھا؟

بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کی مذمت اور سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی یکجہتی کا اظہار کرنا۔

وزیراعظم نے اپنے بیان میں کیا کہا؟

انہوں نے کہا کہ وہ، فیلڈ مارشل اور پوری پاکستانی قوم اس نازک وقت میں سعودی قیادت اور عوام کے ساتھ کھڑے ہیں۔

پاکستان نے کس معاملے میں تعاون جاری رکھنے کا اعادہ کیا؟

پاکستان نے بحیرہ احمر، آبنائے ہرمز، سمندری تجارت، علاقائی امن اور سلامتی کے فروغ کے لیے تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔

متعلقہ خبریں