پاکستان سمیت 8 ممالک کا مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی اقدامات کی مذمت، فوری روکنے کا مطالبہ
مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی کارروائیوں پر پاکستان سمیت آٹھ عرب و اسلامی ممالک نے مشترکہ اعلامیہ جاری کرتے ہوئے شدید تشویش اور مذمت کا اظہار کیا ہے۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ مقبوضہ مشرقی بیت المقدس میں واقع مسجد اقصیٰ کے احاطے میں کیے جانے والے حالیہ اقدامات نہ صرف اشتعال انگیز ہیں بلکہ بین الاقوامی قوانین اور مقدس مقامات کے تاریخی تشخص کے بھی منافی ہیں۔
مشترکہ اعلامیے کے مطابق مسجد اقصیٰ کے احاطے میں اسرائیلی پرچم نصب کیا گیا، جبکہ بعض انتہا پسند اسرائیلی وزراء نے سکیورٹی فورسز کی موجودگی میں مسجد اقصیٰ کا دورہ کیا اور ایسے اقدامات کیے جنہیں اشتعال انگیز قرار دیا گیا۔ مزید کہا گیا کہ اسرائیلی پولیس نے مسجد اقصیٰ کے احاطے میں دو ٹینٹ بھی نصب کیے، جس پر شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا۔
پاکستان سمیت شریک ممالک نے مطالبہ کیا کہ بیت المقدس کے قدیم شہر اور تمام مقدس مقامات تک آزادانہ رسائی کو یقینی بنایا جائے اور مسلمانوں کی عبادت میں کسی قسم کی رکاوٹ نہ ڈالی جائے۔ اعلامیے میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ مقبوضہ مشرقی بیت المقدس کے تاریخی، قانونی اور آبادیاتی تشخص کو تبدیل کرنے کی کوئی بھی کوشش ناقابل قبول ہے۔
مشترکہ بیان میں واضح کیا گیا کہ مسجد اقصیٰ کا مکمل 144 دونم پر مشتمل احاطہ صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ ہے اور اس کے انتظامی و مذہبی امور کا اختیار صرف اردن کے محکمہ اوقاف کے پاس ہے۔ اس حیثیت کو تبدیل کرنے کی کسی بھی کوشش کو مسترد کیا گیا۔
اعلامیے میں عالمی برادری، اقوام متحدہ اور متعلقہ بین الاقوامی اداروں سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ مقدس اسلامی اور مسیحی مقامات کے تحفظ کے لیے مؤثر کردار ادا کریں اور ایسے اقدامات کو روکنے کے لیے عملی اقدامات کریں جو خطے میں مزید کشیدگی کا سبب بن سکتے ہیں۔
مبصرین کے مطابق مسجد اقصیٰ سے متعلق حالیہ پیش رفت نے ایک بار پھر مشرق وسطیٰ کی صورتحال کو عالمی توجہ کا مرکز بنا دیا ہے، جبکہ متعدد ممالک اس معاملے پر سفارتی سطح پر سرگرم ہیں۔
READ MORE FAQS
- مشترکہ اعلامیہ کس معاملے پر جاری کیا گیا؟
مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی کارروائیوں اور حالیہ اقدامات کی مذمت کے لیے۔
- کتنے ممالک نے مشترکہ اعلامیہ جاری کیا؟
پاکستان سمیت آٹھ عرب و اسلامی ممالک نے مشترکہ اعلامیہ جاری کیا۔
- اعلامیے میں کیا مطالبات کیے گئے؟
مسجد اقصیٰ میں مسلمانوں کی آزادانہ عبادت، مقدس مقامات تک رسائی کی بحالی اور اسرائیلی اقدامات روکنے کا مطالبہ کیا گیا۔
- مسجد اقصیٰ کے انتظامی امور کا اختیار کس کے پاس ہے؟
مشترکہ اعلامیے کے مطابق مسجد اقصیٰ کے انتظامی امور کا اختیار اردن کے محکمہ اوقاف کے پاس ہے۔








