اسحاق ڈار اور عباس عراقچی کی ملاقات: خطے کی صورتحال، امن اور پاک ایران تعاون پر اہم تبادلہ خیال

اسحاق ڈار اور عباس عراقچی کی ملاقات کے دوران علاقائی صورتحال پر گفتگو
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

اسحاق ڈار اور عباس عراقچی نے علاقائی صورتحال، امن اور پاکستان ایران تعلقات پر تبادلہ خیال کیا

اسحاق ڈار اور عباس عراقچی کی ملاقات میں پاکستان اور ایران کے درمیان دوطرفہ تعلقات، خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال اور امن و استحکام سے متعلق اہم امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

دفتر خارجہ کے ترجمان کے مطابق نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ملاقات کے دوران دونوں ممالک کے درمیان موجود قریبی، برادرانہ اور تاریخی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔

ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے خطے میں تیزی سے تبدیل ہوتی ہوئی سیاسی اور سیکیورٹی صورتحال کا جائزہ لیا اور اس بات پر اتفاق کیا کہ موجودہ حالات میں مسلسل سفارتی رابطے، باہمی اعتماد اور مذاکرات ہی امن و استحکام کے قیام کا مؤثر ذریعہ ہیں۔

اسحاق ڈار نے حالیہ علاقائی کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تمام فریقوں کو تحمل کا مظاہرہ کرنا چاہیے اور اختلافات کے حل کے لیے سفارتی ذرائع اختیار کیے جانے چاہییں۔ انہوں نے زور دیا کہ کشیدگی میں کمی اور مسلسل مذاکرات سے ہی خطے میں دیرپا امن ممکن بنایا جا سکتا ہے۔

ملاقات کے دوران پاکستان اور ایران کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید فروغ دینے پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں رہنماؤں نے اقتصادی، تجارتی اور سفارتی روابط کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔

دفتر خارجہ کے مطابق اسحاق ڈار نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت (اسلام آباد ایم او یو) کے تحت طے پانے والے نکات پر مؤثر عملدرآمد کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کو باہمی تعاون کے نئے مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھانا چاہیے۔

عباس عراقچی نے بھی پاکستان اور ایران کے تاریخی تعلقات کو دونوں ممالک کے لیے اہم قرار دیتے ہوئے مختلف شعبوں میں تعاون جاری رکھنے کی خواہش کا اظہار کیا۔

دونوں رہنماؤں نے اس امر پر اتفاق کیا کہ موجودہ علاقائی چیلنجز کے تناظر میں قریبی رابطہ برقرار رکھنا وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ امن، استحکام اور باہمی مفادات کا بہتر تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان سفارتی روابط کو مزید مؤثر بنانے، علاقائی تعاون کو فروغ دینے اور مشترکہ مفادات کے معاملات پر رابطے جاری رکھنے کے عزم کا بھی اعادہ کیا گیا۔

پاکستان اور ایران کے درمیان اعلیٰ سطحی رابطوں کو خطے میں امن، استحکام اور باہمی اعتماد کے فروغ کے لیے اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

READ MORE FAQS
  1. اسحاق ڈار اور عباس عراقچی کی ملاقات کہاں ہوئی؟

دفتر خارجہ کے مطابق دونوں رہنماؤں کے درمیان اعلیٰ سطحی سفارتی ملاقات میں اہم علاقائی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

  1. ملاقات میں کن موضوعات پر گفتگو ہوئی؟

علاقائی صورتحال، پاک ایران تعلقات، امن، سفارتی روابط، کشیدگی میں کمی اور اسلام آباد ایم او یو پر عملدرآمد پر گفتگو ہوئی۔

  1. اسلام آباد ایم او یو کیا ہے؟

یہ ایک مفاہمتی یادداشت ہے جس کے تحت پاکستان اور ایران نے مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔

  1. اسحاق ڈار نے کیا مؤقف اختیار کیا؟

انہوں نے امن، تحمل، سفارت کاری، مسلسل مذاکرات اور علاقائی استحکام کی ضرورت پر زور دیا۔

متعلقہ خبریں