ٹیسٹ سنچری کے بغیر بابراعظم کی 33 اننگز مکمل، دسویں سنچری کا انتظار طویل

ٹیسٹ سنچری کے بغیر بابراعظم کی 33 اننگز
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

ٹیسٹ سنچری کے بغیر بابراعظم کی 33 اننگز، دسویں سنچری کا انتظار برقرار

ٹیسٹ سنچری کے بغیر بابراعظم کی 33 اننگز مکمل ہونے کے بعد پاکستان کے مایہ ناز بیٹر کی فارم ایک بار پھر کرکٹ حلقوں میں زیرِ بحث آ گئی ہے۔ بابراعظم، جو پاکستان کے کامیاب ترین بیٹرز میں شمار ہوتے ہیں، دسمبر 2022 کے بعد سے اب تک ٹیسٹ کرکٹ میں اپنی دسویں سنچری اسکور کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔

ویسٹ انڈیز کے خلاف برائن لارا کرکٹ اکیڈمی، ٹروبا میں کھیلے جانے والے پہلے ٹیسٹ میچ میں بابراعظم بطور کپتان اپنا 21واں اور مجموعی طور پر 63واں ٹیسٹ میچ کھیل رہے ہیں۔ ان کے کیریئر کے اعداد و شمار اب بھی متاثر کن ہیں، تاہم گزشتہ تقریباً ساڑھے تین برس کے دوران ٹیسٹ فارمیٹ میں بڑی اننگز نہ کھیل پانے پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

بابراعظم نے اپنے ٹیسٹ کیریئر میں اب تک 115 اننگز کھیلتے ہوئے 9 سنچریاں اسکور کی ہیں۔ ان کی آخری ٹیسٹ سنچری کراچی میں نیوزی لینڈ کے خلاف دسمبر 2022 میں آئی تھی، جب انہوں نے شاندار 161 رنز کی اننگز کھیلی تھی۔ اس کے بعد وہ متعدد مواقع پر اچھی شروعات کے باوجود تین ہندسوں تک رسائی حاصل نہیں کر سکے۔

آخری سنچری کے بعد کی کارکردگی

دسمبر 2022 کے بعد بابراعظم نے 33 ٹیسٹ اننگز میں مجموعی طور پر 863 رنز بنائے، جن میں 5 نصف سنچریاں شامل ہیں۔ اگرچہ یہ رنز کسی بھی بیٹر کے لیے قابلِ ذکر ہو سکتے ہیں، لیکن بابراعظم جیسے عالمی معیار کے کھلاڑی سے شائقین اور ماہرین بڑی اننگز کی توقع رکھتے ہیں۔

گاڑی تیز چلانے سے منع کرنے پر نوجوان پر بہیمانہ تشدد
لاہور کے علاقے ستوکتلہ میں گاڑی تیز چلانے سے منع کرنے پر نوجوان پر مبینہ تشدد کے بعد پولیس نے 2 ملزمان گرفتار کر لیے۔

اعداد و شمار کے مطابق اس عرصے میں وہ صرف دو مرتبہ ایسی اننگز کھیل سکے جن میں انہوں نے 100 سے زیادہ گیندوں کا سامنا کیا۔ یہ بات ظاہر کرتی ہے کہ وہ کریز پر طویل وقت گزارنے میں اپنی سابقہ مستقل مزاجی برقرار نہیں رکھ سکے۔

بابراعظم کا ٹیسٹ کیریئر

بابراعظم نے اپنے ٹیسٹ کیریئر کا آغاز عمدہ انداز میں کیا اور اپنی پہلی ٹیسٹ سنچری 32 اننگز کے بعد اسکور کی۔ بعد ازاں انہوں نے کئی یادگار اننگز کھیلیں اور پاکستان کے قابلِ اعتماد بیٹر کے طور پر اپنی شناخت بنائی۔

ان کی تکنیک، شاٹ سلیکشن اور دباؤ میں کھیلنے کی صلاحیت نے انہیں دنیا کے بہترین بیٹرز میں شامل کیا۔ تاہم کرکٹ میں فارم کا اتار چڑھاؤ ہر کھلاڑی کے کیریئر کا حصہ ہوتا ہے، اور بابراعظم بھی اس مرحلے سے گزر رہے ہیں۔

ٹیم کے لیے اہمیت

پاکستانی ٹیم کی بیٹنگ لائن میں بابراعظم ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ جب وہ لمبی اننگز کھیلتے ہیں تو ٹیم کے بڑے اسکور بنانے کے امکانات نمایاں طور پر بڑھ جاتے ہیں۔ اسی لیے ان کی اگلی سنچری نہ صرف ان کے ذاتی اعتماد بلکہ قومی ٹیم کی کامیابی کے لیے بھی اہم سمجھی جا رہی ہے۔

ماہرین کی رائے

کرکٹ ماہرین کے مطابق بابراعظم کی تکنیکی صلاحیتوں میں کوئی بنیادی کمی نہیں آئی، تاہم انہیں اننگز کو لمبا کرنے، صبر کے ساتھ کھیلنے اور اچھی شروعات کو بڑی سنچری میں تبدیل کرنے پر توجہ دینا ہوگی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی معیار کے بیٹرز کی پہچان یہی ہوتی ہے کہ وہ مشکل دور سے نکل کر مزید مضبوط انداز میں واپسی کرتے ہیں۔

ویسٹ انڈیز سیریز میں توقعات

ویسٹ انڈیز کے خلاف جاری ٹیسٹ سیریز بابراعظم کے لیے ایک اہم موقع تصور کی جا رہی ہے۔ اگر وہ اس سیریز میں بڑی اننگز کھیلنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو نہ صرف ان کی سنچریوں کی تعداد دو ہندسوں میں داخل ہوگی بلکہ ان کی فارم پر اٹھنے والے کئی سوالات بھی ختم ہو سکتے ہیں۔

پاکستانی شائقین بھی پرامید ہیں کہ بابراعظم جلد اپنی کلاس کے مطابق ایک یادگار اننگز کھیلیں گے اور ٹیم کی کامیابی میں اہم کردار ادا کریں گے۔

مستقبل کی جانب نظر

کرکٹ میں ہر عظیم کھلاڑی کو کبھی نہ کبھی مشکل دور سے گزرنا پڑتا ہے۔ بابراعظم کے پاس تجربہ، مہارت اور صلاحیت موجود ہے کہ وہ اپنی فارم دوبارہ حاصل کریں۔ ان کی مستقل محنت اور کھیل سے وابستگی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ وہ جلد ہی اپنی دسویں ٹیسٹ سنچری اسکور کر سکتے ہیں۔

پاکستانی ٹیم اور شائقین کی نظریں اب ان کی اگلی بڑی اننگز پر مرکوز ہیں، جو نہ صرف ان کے ذاتی ریکارڈ میں اضافہ کرے گی بلکہ قومی ٹیم کے لیے بھی ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتی ہے۔