نکیال پولنگ میں کارکن کی ہلاکت، شیری رحمان نے الیکشن کمیشن سے فوری کارروائی کا مطالبہ کردیا
شیری رحمان کا نکیال فائرنگ واقعے کا نوٹس لینے کا مطالبہ آزاد کشمیر کے انتخابی عمل کے دوران سامنے آیا، جہاں پولنگ کے دوران فائرنگ کے ایک واقعے میں پاکستان پیپلز پارٹی کے کارکن مختار یونس کے جاں بحق ہونے کی اطلاع دی گئی۔
پاکستان پیپلز پارٹی کی سینئر رہنما شیری رحمان نے واقعے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ نکیال میں پولنگ کے دوران پیش آنے والا واقعہ انتہائی افسوسناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ انتخابی عمل کے دوران تشدد کسی بھی صورت قابل قبول نہیں اور اس کی مکمل تحقیقات ہونی چاہئیں۔
شیری رحمان نے الزام عائد کیا کہ متعلقہ حلقے میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے امیدوار سردار عمیر نعیم نے خوف و ہراس کی فضا قائم کر رکھی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ کئی روز سے تشدد کے مختلف واقعات کے باوجود مؤثر کارروائی نہیں کی گئی، جس کی وجہ سے حالات مزید خراب ہوئے۔
انہوں نے کہا کہ سیاسی اختلاف کو تشدد میں تبدیل کرنا جمہوری اقدار کے منافی ہے اور ہار یا جیت کے خوف میں انسانی جانوں کا ضیاع کسی بھی صورت قابل قبول نہیں۔ ان کے مطابق انتخابات کا مقصد عوام کو آزادانہ اور پرامن ماحول میں ووٹ ڈالنے کا موقع فراہم کرنا ہے۔
پیپلز پارٹی رہنما نے الیکشن کمیشن سے مطالبہ کیا کہ وہ اس واقعے کا فوری نوٹس لے، شفاف تحقیقات کرائے اور ذمہ دار افراد کو قانون کے مطابق گرفتار کرکے انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ انتخابی عمل کو شفاف، غیر جانبدار اور پرامن رکھنا الیکشن کمیشن کی آئینی ذمہ داری ہے۔
شیری رحمان نے مزید کہا کہ تشدد، دھونس یا دباؤ کے ذریعے انتخابی نتائج پر اثرانداز ہونے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ ان کے مطابق قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بلاامتیاز کارروائی کرتے ہوئے ایسے عناصر کے خلاف سخت اقدامات کرنے چاہییں جو امن و امان خراب کرنے کی کوشش کریں۔
انہوں نے جاں بحق کارکن مختار یونس کے اہل خانہ سے تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان کے غم میں برابر کی شریک ہیں۔ ساتھ ہی زخمی ہونے والے کارکنوں کی جلد صحت یابی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار بھی کیا۔
واضح رہے کہ واقعے کی وجوہات اور ذمہ داران کے تعین کے لیے سرکاری تحقیقات اور متعلقہ اداروں کی کارروائی اہم ہوگی۔ اس مرحلے پر مختلف سیاسی جماعتوں کی جانب سے اپنے اپنے مؤقف سامنے آ رہے ہیں، جبکہ کسی بھی الزام کی حتمی تصدیق متعلقہ تحقیقات کے بعد ہی ممکن ہوگی۔








