پاکستان بنگلہ دیش گاڑیوں کی برآمد: 2029 تک 5 ہزار گاڑیاں ایکسپورٹ کا ہدف

پاکستان بنگلہ دیش گاڑیوں کی برآمد معاہدہ
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

پاکستان بنگلہ دیش گاڑیوں کی برآمد کا معاہدہ، 2029 تک 5 ہزار گاڑیاں برآمد کرنے کا منصوبہ

پاکستان بنگلہ دیش گاڑیوں کی برآمد کے شعبے میں ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں دونوں ممالک کے درمیان گاڑیوں کی برآمد سے متعلق معاہدہ طے پا گیا ہے۔ اس معاہدے کے تحت پاکستان نے 2029 تک بنگلہ دیش کو پانچ ہزار گاڑیاں برآمد کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے، جسے ملکی آٹو انڈسٹری کے لیے ایک مثبت سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے۔

وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر کے مطابق یہ معاہدہ نہ صرف پاکستانی آٹو سیکٹر کے لیے نئی راہیں کھولے گا بلکہ ملکی برآمدات میں اضافے اور صنعتی ترقی میں بھی اہم کردار ادا کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلی مرتبہ پاکستان میں تیار ہونے والی گاڑیاں اتنی بڑی تعداد میں بیرون ملک برآمد کی جائیں گی، جس سے عالمی منڈی میں پاکستانی مصنوعات کی موجودگی مزید مضبوط ہوگی۔

حکومت کا کہنا ہے کہ پاکستان کو جدید مینوفیکچرنگ حب بنانے کے وژن پر مسلسل کام جاری ہے۔ اسی حکمت عملی کے تحت مقامی صنعت کو فروغ دینے، نئی سرمایہ کاری لانے اور برآمدات میں اضافہ کرنے کے لیے مختلف منصوبوں پر عمل درآمد کیا جا رہا ہے۔ حکام کے مطابق چینی سرمایہ کاری بھی اس شعبے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے، جس سے جدید ٹیکنالوجی، روزگار کے مواقع اور صنعتی صلاحیت میں اضافہ متوقع ہے۔

ہارون اختر نے بتایا کہ ملک میں بیٹری مینوفیکچرنگ کے لیے 150 سے زائد مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے جا چکے ہیں۔ اس کے علاوہ حکومت الیکٹرک وہیکل سیکٹر کو فروغ دینے کے لیے متعدد اقدامات کر رہی ہے۔ ان کے مطابق الیکٹرک بائیکس کی تیاری کے لیے 86 لائسنس جاری کیے جا چکے ہیں، جو مستقبل میں ماحول دوست ٹرانسپورٹ کے فروغ میں اہم کردار ادا کریں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں استعمال ہونے والے تقریباً 95 فیصد موبائل فون مقامی سطح پر تیار کیے جا رہے ہیں، جبکہ سولر پینلز کی مقامی تیاری بھی شروع کی جا رہی ہے۔ ان اقدامات سے نہ صرف درآمدات میں کمی آئے گی بلکہ ملکی صنعتی پیداوار اور برآمدی صلاحیت میں بھی اضافہ ہوگا۔

فہد شیخ نے سید محمد احمد سے معافی مانگ لی
فہد شیخ نے وائرل ویڈیو کے بعد انسٹاگرام پر سید محمد احمد سے معذرت کرتے ہوئے اپنا مؤقف بھی بیان کیا۔

رینکون آٹو کے نمائندے رومو روف چوہدری نے اس موقع پر کہا کہ پاکستان کے ساتھ مل کر بنگلہ دیش کو گاڑیوں کی برآمد کا عمل دونوں ممالک کے لیے فائدہ مند ثابت ہوگا۔ ان کے مطابق بنگلہ دیش میں الیکٹرک موٹر سائیکلوں کی مانگ بھی تیزی سے بڑھ رہی ہے، جس سے پاکستانی کمپنیوں کو مزید تجارتی مواقع حاصل ہو سکتے ہیں۔

ایم جی پاکستان کے چیف ایگزیکٹو آفیسر جیان چھیانگ ساؤ نے کہا کہ ہر ملک کی آٹو انڈسٹری کو مناسب تحفظ اور سازگار پالیسیوں کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ مقامی صنعت ترقی کر سکے اور عالمی مارکیٹ میں بہتر انداز میں مقابلہ کر سکے۔

ماہرین کے مطابق اگر پاکستان برآمدی اہداف حاصل کرنے میں کامیاب رہتا ہے تو اس سے زرمبادلہ کے ذخائر، روزگار، صنعتی پیداوار اور آٹو سیکٹر کی بین الاقوامی ساکھ میں نمایاں بہتری آ سکتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ مقامی سپلائی چین، آٹو پارٹس مینوفیکچررز اور متعلقہ صنعتوں کو بھی فائدہ پہنچنے کا امکان ہے۔

پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان تجارتی تعلقات میں حالیہ برسوں کے دوران بہتری دیکھنے میں آئی ہے۔ گاڑیوں کی برآمد کا یہ معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون کو مزید وسعت دینے کی جانب ایک اہم قدم تصور کیا جا رہا ہے۔ مستقبل میں اگر یہ تعاون مزید بڑھتا ہے تو دیگر صنعتی شعبوں میں بھی مشترکہ سرمایہ کاری اور برآمدی منصوبوں کے امکانات روشن ہو سکتے ہیں۔

اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی آٹو مارکیٹ میں مقابلہ سخت ہے، اس لیے معیار، قیمت اور بعد از فروخت خدمات پر خصوصی توجہ دینا ضروری ہوگا۔ اگر پاکستانی کمپنیاں ان شعبوں میں اپنی کارکردگی بہتر بنائیں تو جنوبی ایشیا سمیت دیگر بین الاقوامی منڈیوں میں بھی اپنی موجودگی مضبوط کر سکتی ہیں۔

یہ معاہدہ اس بات کی بھی نشاندہی کرتا ہے کہ پاکستان اپنی صنعتی مصنوعات کی برآمد بڑھانے کے لیے نئے تجارتی مواقع تلاش کر رہا ہے۔ حکومت اور نجی شعبے کے درمیان تعاون، جدید ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری اور مقامی مینوفیکچرنگ کی حوصلہ افزائی مستقبل میں اقتصادی ترقی کے لیے اہم عوامل ثابت ہو سکتے ہیں۔