فیصل قریشی کی غیر ملکی ڈراموں پر ٹیکس ختم کرنے کی مخالفت، پاکستانی انڈسٹری کے تحفظ کا مطالبہ، ترک ڈرامے پاکستان میں نشر ہونا شروع ہوئے تو مقامی ڈرامہ انڈسٹری کو نمایاں نقصان اٹھانا پڑا تھا
کراچی: معروف اداکار فیصل قریشی نے ایک بار پھر حکومت کی جانب سے غیر ملکی ٹی وی ڈراموں کی درآمد پر ایڈوانس ٹیکس ختم کرنے کے فیصلے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس اقدام سے پاکستانی ڈرامہ انڈسٹری کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔

ایک پوڈکاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے فیصل قریشی نے کہا کہ وہ غیر ملکی ٹی وی ڈراموں پر عائد ٹیکس میں نرمی کے خلاف ہیں کیونکہ اس سے مقامی فنکاروں، ہدایت کاروں، تکنیکی عملے اور دیگر وابستہ افراد کے روزگار کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے یاد دلایا کہ 2013 میں جب ترک ڈرامے پاکستان میں نشر ہونا شروع ہوئے تو مقامی ڈرامہ انڈسٹری کو نمایاں نقصان اٹھانا پڑا تھا۔
فیصل قریشی کے مطابق ہر پرائم ٹائم سلاٹ سے درجنوں خاندانوں کا روزگار وابستہ ہوتا ہے، اور اگر متعدد سلاٹس غیر ملکی مواد کو دے دیے جائیں تو سینکڑوں افراد بے روزگار ہو سکتے ہیں۔
اداکار نے کہا کہ اگر حکومت واقعی تمام شعبوں میں یکساں مقابلہ چاہتی ہے تو پھر صرف ڈرامہ انڈسٹری کو ہی کیوں کھلا چھوڑا جا رہا ہے۔ ان کے بقول اگر تفریحی شعبے کو غیر ملکی مقابلے کا سامنا کرنا ہے تو دیگر صنعتوں میں بھی یہی اصول لاگو ہونا چاہیے۔
انہوں نے مصنوعی ذہانت (AI) کے بڑھتے ہوئے استعمال پر بھی تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اب ایسی ٹیکنالوجی دستیاب ہے جو غیر ملکی اداکاروں کی آواز کو اردو میں تبدیل کرنے اور ہونٹوں کی حرکت کو بھی ہم آہنگ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے، جس سے مقامی ڈبنگ آرٹسٹس کے لیے مزید مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔

تاہم فیصل قریشی نے پاکستانی ڈراموں کے معیار پر مکمل اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آج پاکستانی ڈرامے دنیا بھر میں مقبول ہیں اور ان کا مقابلہ براہِ راست نیٹ فلکس اور دیگر عالمی اسٹریمنگ پلیٹ فارمز کے مواد سے کیا جا رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی ڈرامے محدود بجٹ کے باوجود عالمی سطح پر اپنی شناخت بنا رہے ہیں، جبکہ بعض بھارتی پروڈکشنز ایک ہی قسط پر کروڑوں روپے خرچ کرتی ہیں۔
فیصل قریشی نے دعویٰ کیا کہ کئی پاکستانی ڈراموں کی ایک ایک قسط کو اتنے ناظرین دیکھتے ہیں جتنے بعض مقبول نیٹ فلکس سیریز کو مجموعی طور پر بھی نہیں ملتے۔
انہوں نے بھارت کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہاں پاکستانی ڈراموں اور دیگر تفریحی مواد کو اپنی منڈی میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جاتی تاکہ مقامی انڈسٹری کو تحفظ فراہم کیا جا سکے، لہٰذا پاکستان کو بھی اپنی تفریحی صنعت کے مفادات کا خیال رکھنا چاہیے۔
READ MORE FAQS”
سوال 1: فیصل قریشی نے کس حکومتی فیصلے پر اعتراض کیا؟
جواب: انہوں نے غیر ملکی ٹی وی ڈراموں کی درآمد پر ایڈوانس ٹیکس ختم کرنے کے فیصلے کی مخالفت کی۔
سوال 2: فیصل قریشی کے مطابق اس فیصلے سے کیا نقصان ہوگا؟
جواب: ان کے مطابق اس سے پاکستانی ڈرامہ انڈسٹری، نوجوان فنکاروں، تکنیکی عملے اور ہزاروں افراد کے روزگار کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
سوال 3: فیصل قریشی نے پاکستانی ڈراموں کے بارے میں کیا کہا؟
جواب: ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی ڈرامے معیار اور مقبولیت کے اعتبار سے نیٹ فلکس اور دیگر عالمی پلیٹ فارمز کے مواد کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
سوال 4: انہوں نے مصنوعی ذہانت (AI) کے بارے میں کیا خدشہ ظاہر کیا؟
جواب: فیصل قریشی نے کہا کہ AI کی مدد سے غیر ملکی ڈراموں کو آسانی سے اردو میں ڈب کیا جا سکتا ہے، جس سے مقامی ڈبنگ آرٹسٹس اور انڈسٹری کے دیگر شعبے متاثر ہو سکتے ہیں۔
سوال 5: انہوں نے بھارت کی مثال کیوں دی؟
جواب: انہوں نے کہا کہ بھارت اپنی مقامی انڈسٹری کے تحفظ کے لیے غیر ملکی مواد پر پابندیاں اور پالیسیاں نافذ کرتا ہے، اسی طرح پاکستان کو بھی اپنی ڈرامہ انڈسٹری کے مفادات کا تحفظ کرنا چاہیے۔






