حوثیوں کا بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکر پر بیلسٹک میزائل حملے کا دعویٰ، کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ
حوثیوں کا سعودی آئل ٹینکر پر حملہ مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کی ایک نئی کڑی کے طور پر سامنے آیا ہے۔ حوثی ترجمان کے مطابق سعودی آئل ٹینکر "وفا” کو سعودی عرب کے ساحلی شہر ینبع کے قریب بحیرہ احمر کے شمالی پانیوں میں بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا۔
حوثی ترجمان کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی ان کے بحری آپریشنز کا حصہ ہے، جن کا مقصد سعودی عرب کی بحری سرگرمیوں کو نشانہ بنانا ہے۔ بیان کے مطابق 22 جولائی سے شروع ہونے والی مبینہ سعودی بحری ناکہ بندی کے بعد اب تک 8 سعودی آئل ٹینکرز کو نشانہ بنایا جا چکا ہے، جبکہ 29 سعودی آئل ٹینکرز کو بحیرہ احمر اور بحیرہ عرب میں اپنا سفر روک کر واپس جانے پر مجبور کیا گیا۔
تاحال سعودی حکومت یا سرکاری اداروں کی جانب سے اس دعوے پر کوئی باضابطہ ردعمل جاری نہیں کیا گیا، جس کے باعث حملے کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔
ماہرین کے مطابق اگر بحیرہ احمر میں تجارتی اور تیل بردار جہازوں پر حملوں کا سلسلہ جاری رہا تو اس سے عالمی شپنگ، تیل کی ترسیل اور بین الاقوامی تجارت متاثر ہو سکتی ہے۔ بحیرہ احمر دنیا کے اہم ترین بحری تجارتی راستوں میں شمار ہوتا ہے، جہاں کسی بھی قسم کی عسکری کشیدگی عالمی منڈیوں پر اثر ڈال سکتی ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال خطے میں سکیورٹی خدشات کو مزید بڑھا سکتی ہے اور بین الاقوامی بحری راستوں کے تحفظ کے حوالے سے نئے سفارتی اور عسکری اقدامات کی ضرورت پیش آ سکتی ہے۔
READ MORE FAQS
- حوثیوں نے کس جہاز کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے؟
حوثیوں کے مطابق سعودی آئل ٹینکر "وفا” کو نشانہ بنایا گیا۔ - حملہ کہاں کیا گیا؟
دعویٰ ہے کہ حملہ سعودی شہر ینبع کے قریب بحیرہ احمر کے شمالی پانیوں میں کیا گیا۔ - حملے میں کون سا ہتھیار استعمال ہونے کا دعویٰ کیا گیا؟
حوثیوں کے مطابق حملے میں بیلسٹک میزائل استعمال کیے گئے۔ - کیا سعودی عرب نے اس دعوے کی تصدیق کی ہے؟
نہیں، خبر کے مطابق سعودی حکام کی جانب سے فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔








