غیر ملکی صحافیوں کے لیے نئی ہدایات، اسلام آباد، لاہور اور کراچی سے باہر رپورٹنگ کے لیے این او سی لازمی

غیر ملکی صحافیوں کے لیے رپورٹنگ کے لیے این او سی پالیسی
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

غیر ملکی صحافیوں کے لیے نئی ہدایات، اسلام آباد، لاہور اور کراچی سے باہر رپورٹنگ کے لیے این او سی لازمی

اسلام آباد: حکومت پاکستان نے غیر ملکی میڈیا کے لیے نئی فارن میڈیا فیسیلیٹیشن گائیڈ لائنز 2026 جاری کر دی ہیں، جن کے تحت اب تمام غیر ملکی صحافیوں اور بین الاقوامی میڈیا اداروں کے نمائندوں کو اسلام آباد، لاہور اور کراچی کے علاوہ ملک کے کسی بھی شہر میں خبریں، دستاویزی فلم، ویڈیو یا دیگر میڈیا مواد تیار کرنے سے قبل وزارتِ اطلاعات و نشریات کے ایکسٹرنل پبلسٹی (EP) ونگ سے نو آبجیکشن سرٹیفکیٹ (NOC) حاصل کرنا ہوگا۔

جاری کردہ ہدایات کے مطابق یہ شرط تمام ایسے غیر ملکی پرنٹ، الیکٹرانک، ڈیجیٹل، ویب اور سوشل میڈیا اداروں پر لاگو ہوگی جو پاکستان میں کام کر رہے ہیں۔ اس کے ساتھ غیر ملکی میڈیا کے لیے کام کرنے والے پاکستانی صحافی، فری لانسرز، فکسرز، پروڈکشن ہاؤسز اور دیگر معاون عملہ بھی رجسٹریشن کے دائرہ کار میں آئیں گے۔

آئی جی اسلام آباد کی چھٹی کے دوران ہارون جوئیہ نے قائم مقام آئی جی کا چارج سنبھال لیا
آئی جی اسلام آباد بیرون ملک روانہ، ہارون جوئیہ کو قائم مقام آئی جی مقرر کردیا گیا۔

وزارتِ اطلاعات کے مطابق تمام غیر ملکی صحافیوں کو EP Wing کے آن لائن پورٹل کے ذریعے رجسٹریشن اور ایکریڈیٹیشن حاصل کرنا ہوگی۔ بیرون ملک مقیم پاکستانی صحافی، جو غیر ملکی میڈیا کے لیے خدمات انجام دیتے ہیں، انہیں بھی قریبی پاکستانی سفارت خانے یا ہائی کمیشن کے ذریعے رپورٹنگ کے لیے این او سی کی اپنی درخواست جمع کرانا ہوگی۔

نئی گائیڈ لائنز میں کہا گیا ہے کہ رجسٹریشن صرف پیشہ ورانہ شناخت فراہم کرے گی اور اسے سرکاری حیثیت تصور نہیں کیا جائے گا۔ رجسٹریشن کے بعد صحافی مستقل یا عارضی پریس ایکریڈیٹیشن کارڈ حاصل کر سکیں گے۔

مستقل ایکریڈیٹیشن ایک سال کے لیے جبکہ عارضی ایکریڈیٹیشن زیادہ سے زیادہ تین ماہ کے لیے جاری کی جائے گی۔ ایکریڈیٹیشن کارڈ رکھنے والے صحافیوں کو سرکاری تقریبات اور حکومتی مقامات تک رسائی فراہم کی جائے گی، تاہم انہیں ضرورت پڑنے پر اپنا کارڈ دکھانا لازمی ہوگا۔

گائیڈ لائنز کے مطابق اسلام آباد، لاہور اور کراچی کے علاوہ کسی بھی شہر میں پیشہ ورانہ رپورٹنگ، ڈاکیومنٹری، فلم یا سوشل میڈیا مواد کی تیاری کے لیے این او سی حاصل کرنا ضروری ہوگا، جبکہ ایبٹ آباد اور مری کی سیاحتی نوعیت کی نجی سفری سرگرمیوں کے لیے بھی درخواست دینے پر تین ورکنگ دنوں میں رپورٹنگ کے لیے این او سی جاری کیا جا سکتا ہے۔

وزارتِ اطلاعات کے مطابق رجسٹریشن کارڈ درخواست جمع ہونے کے بعد تقریباً سات ورکنگ دن میں جاری کیا جا سکتا ہے، جبکہ پریس ایکریڈیٹیشن کارڈ کے اجرا میں چار سے چھ ہفتے لگ سکتے ہیں۔ ضرورت پڑنے پر وزارت اضافی دستاویزات یا معلومات بھی طلب کر سکتی ہے۔

 
READ MORE FAQS”

سوال 1: نئی پالیسی کے تحت کن صحافیوں پر رپورٹنگ کے لیے این او سی لازمی ہوگا؟
جواب: تمام غیر ملکی صحافیوں اور بین الاقوامی میڈیا اداروں کے نمائندوں پر، جب وہ اسلام آباد، لاہور اور کراچی سے باہر رپورٹنگ کریں گے۔

سوال 2: رپورٹنگ کے لیے این او سی کس ادارے سے حاصل کرنا ہوگا؟
جواب: وزارت اطلاعات و نشریات کے ایکسٹرنل پبلسٹی (EP) ونگ سے۔

سوال 3: کیا غیر ملکی میڈیا کے لیے رجسٹریشن بھی لازمی ہے؟
جواب: جی ہاں، تمام غیر ملکی میڈیا اداروں اور ان کے نمائندوں کو EP ونگ کے آن لائن پورٹل پر رجسٹریشن کرانا ہوگی۔

سوال 4: مستقل اور عارضی ایکریڈیٹیشن میں کیا فرق ہے؟
جواب: مستقل ایکریڈیٹیشن ایک سال کے لیے جبکہ عارضی ایکریڈیٹیشن زیادہ سے زیادہ تین ماہ کے لیے جاری کی جائے گی۔

سوال 5: رجسٹریشن اور ایکریڈیٹیشن میں کتنا وقت لگے گا؟
جواب: رجسٹریشن تقریباً سات ورکنگ دن جبکہ ایکریڈیٹیشن کارڈ چار سے چھ ہفتوں میں جاری کیا جا سکتا ہے۔

متعلقہ خبریں