گڈز ٹرانسپورٹرز کا پیر سے ملک گیر پہیہ جام ہڑتال کا اعلان، نئی لوڈنگ بند رہے گی
کراچی: ملک بھر کے گڈز ٹرانسپورٹرز نے حکومت سے مطالبات منظور نہ ہونے پر پیر کی دوپہر 12 بجے سے ملک گیر مکمل پہیہ جام ہڑتال کا اعلان کردیا ہے، جبکہ نئی لوڈنگ مکمل طور پر بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
آل پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ اتحاد کے رہنماؤں نے کہا ہے کہ سندھ اور وفاقی حکومت ٹرانسپورٹرز کے مسائل حل کرنے میں سنجیدہ دکھائی نہیں دے رہی، جس کے باعث ملک بھر میں احتجاج کا فیصلہ کیا گیا۔
ٹرانسپورٹرز کے مطابق پیر کو دوپہر 12 بجے کے بعد نئی لوڈنگ مکمل طور پر بند کردی جائے گی، جبکہ جو گاڑیاں پہلے سے مال لے کر چل رہی ہیں انہیں صرف موجودہ مال اتارنے تک محدود وقت دیا جائے گا۔
احتجاج پرامن رکھنے کا اعلان
گڈز ٹرانسپورٹرز نے واضح کیا ہے کہ ملک گیر ہڑتال اور احتجاج مکمل طور پر پرامن ہوگا اور اس دوران سڑکیں بلاک نہیں کی جائیں گی۔

ٹرانسپورٹرز کا کہنا ہے کہ وہ اپنے آئینی اور قانونی مطالبات کے حصول کے لیے احتجاج کر رہے ہیں اور حکومت سے مطالبات پر فوری توجہ دینے کی اپیل کی گئی ہے۔
ٹرانسپورٹرز کے اہم مطالبات
آل پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ اتحاد نے ڈیزل کی قیمتوں میں کمی، ٹول ٹیکس اور ودہولڈنگ ٹیکس کم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
اس کے علاوہ ایکسل لوڈ مینجمنٹ سے متعلق مسائل حل کرنے اور حکومت کی جانب سے ٹرانسپورٹرز کے ساتھ کیے گئے سابقہ معاہدوں پر فوری عملدرآمد بھی مطالبات میں شامل ہے۔
ٹرانسپورٹرز نے وزیر پیٹرولیم اور پنجاب کے وزیر ٹرانسپورٹ سے استعفے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کے تمام مطالبات آئینی اور قانونی حدود کے اندر ہیں۔
رہنماؤں نے خبردار کیا کہ اگر مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو احتجاج کا دائرہ مزید سخت کیا جا سکتا ہے۔
حکومت سے مذاکرات کا ایک اور دور پیر کو ہوگا
صدر آل پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ اتحاد کے مطابق ٹرانسپورٹ رہنماؤں کی وفاقی حکومت سے ملاقات ہو چکی ہے، جس میں ٹرانسپورٹرز کو درپیش مسائل پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
وفاقی حکومت کو دسمبر میں کیے گئے وعدوں پر فوری عملدرآمد کی یاد دہانی بھی کرائی گئی ہے۔

ٹرانسپورٹرز کے مطابق حکومت اور ٹرانسپورٹرز کے درمیان پیر کو مذاکرات کا مزید دور ہوگا، جس کے لیے آل پاکستان سطح پر مشترکہ کمیٹی بھی قائم کردی گئی ہے۔
اس کمیٹی میں پنجاب، سندھ، بلوچستان، خیبرپختونخوا اور جنوبی پنجاب کے نمائندے شامل ہیں، جبکہ اسلام آباد میں حکومتی سطح پر ٹرانسپورٹرز کے مطالبات پر مذاکرات کیے جائیں گے۔
معاشی مشکلات کے باعث ٹرانسپورٹرز پریشان
گڈز ٹرانسپورٹرز کا کہنا ہے کہ مشکل معاشی حالات کے باوجود وہ مسلسل نقصان برداشت کرتے ہوئے گاڑیاں چلا رہے ہیں، تاہم بڑھتے ہوئے اخراجات نے کاروبار کو شدید متاثر کیا ہے۔
ٹرانسپورٹرز نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ مذاکرات کو نتیجہ خیز بنایا جائے اور ان کے دیرینہ مسائل فوری طور پر حل کیے جائیں تاکہ ملک میں مال برداری کا نظام معمول کے مطابق جاری رہ سکے۔
اگر حکومت اور ٹرانسپورٹرز کے درمیان مذاکرات میں معاملات طے نہ ہوسکے تو پیر سے ملک گیر پہیہ جام ہڑتال کے باعث ملک میں مال برداری کا نظام متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
READ MORE FAQS”
سوال 1: گڈز ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال کب شروع ہوگی؟
جواب: گڈز ٹرانسپورٹرز کے مطابق ملک گیر پہیہ جام ہڑتال پیر کی دوپہر 12 بجے سے شروع ہوگی۔
سوال 2: ہڑتال کے دوران کیا بند رہے گا؟
جواب: ٹرانسپورٹرز نے نئی لوڈنگ مکمل طور پر بند رکھنے کا اعلان کیا ہے، جبکہ گاڑیوں کو پہلے سے موجود مال اتارنے کی اجازت ہوگی۔
سوال 3: ٹرانسپورٹرز کے اہم مطالبات کیا ہیں؟
جواب: مطالبات میں ڈیزل کی قیمت، ٹول ٹیکس اور ودہولڈنگ ٹیکس میں کمی، ایکسل لوڈ مینجمنٹ اور سابقہ حکومتی معاہدوں پر عملدرآمد شامل ہیں۔
سوال 4: کیا احتجاج کے دوران سڑکیں بلاک کی جائیں گی؟
جواب: ٹرانسپورٹرز کا کہنا ہے کہ ہڑتال اور احتجاج مکمل طور پر پرامن ہوگا اور سڑکیں بلاک نہیں کی جائیں گی۔






