پاکستان سعودی عرب اور ترکیہ مشترکہ دفاعی معاہدہ سعودی عرب کی سکیورٹی ضمانت نہیں: ایرانی پارلیمنٹ رکن ابراہیم رضائی

مکہ پاکستان سعودی عرب اور ترکیہ مشترکہ دفاعی معاہدہ
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

پاکستان سعودی عرب اور ترکیہ مشترکہ دفاعی معاہدہ پر ایران کا ردعمل : یہ معاہدہ سعودی عرب کی سکیورٹی ضمانت نہیں: ایرانی پارلیمنٹ رکن ابراہیم رضائی، بھارت میں بھی تشویش

تہران: ایرانی پارلیمنٹ کی نیشنل سکیورٹی اینڈ فارن پالیسی کمیٹی کے رکن ابراہیم رضائی نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان ہونے والے نئے مشترکہ دفاعی معاہدے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ معاہدہ سعودی عرب کو وہ سکیورٹی ضمانت فراہم نہیں کرسکتا جس کی ریاض توقع کر رہا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق ابراہیم رضائی نے سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں سعودی عرب کو پاکستان اور ترکیہ کے ساتھ کیے گئے دفاعی معاہدے کے حوالے سے محتاط رہنے کا مشورہ دیا۔

مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ پر پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے رہنما
مکہ مکرمہ میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان تاریخی مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط۔

انہوں نے پاکستان سعودی عرب اور ترکیہ مشترکہ دفاعی معاہدہ کو ’’کاغذی معاہدہ‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب کو یہ سمجھنا چاہیے کہ صرف ایسے معاہدے ملک کو مکمل تحفظ فراہم نہیں کرسکتے۔

سعودی عرب کو سکیورٹی پالیسی پر نظرثانی کا مشورہ

ایرانی رکن پارلیمنٹ کے مطابق سعودی عرب ماضی میں بھی کئی دہائیوں تک امریکا پر سکیورٹی کے حوالے سے انحصار کرتا رہا، تاہم اس کے باوجود ریاض کو مکمل تحفظ حاصل نہیں ہوسکا۔

ابراہیم رضائی نے سعودی قیادت کو مشورہ دیا کہ وہ اپنی سکیورٹی پالیسیوں پر نظرثانی کرے اور ملک کے تحفظ کے لیے دیگر ممالک پر انحصار کم کرنے کی کوشش کرے۔

پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کا مشترکہ دفاعی معاہدہ

واضح رہے کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان حالیہ مشترکہ دفاعی تعاون کا معاہدہ خطے میں بڑھتی ہوئی سکیورٹی کشیدگی کے دوران سامنے آیا ہے۔

پاکستان سعودی عرب اور ترکیہ مشترکہ دفاعی معاہدہ کے تحت کسی ایک رکن ملک کے خلاف مسلح جارحیت کو تینوں ممالک کے خلاف جارحیت تصور کیا جائے گا، جبکہ کسی ممکنہ خطرے کی صورت میں تینوں ممالک باہمی مشاورت کے ذریعے مشترکہ ردعمل اختیار کریں گے۔

پاکستان سعودی ترکیہ دفاعی معاہدہ پر مریم نواز شریف کا خیرمقدمی بیان
مریم نواز شریف نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے مشترکہ دفاعی معاہدے کو عالم اسلام کے لیے اہم پیش رفت قرار دیا۔

پاکستان سعودی عرب اور ترکیہ مشترکہ دفاعی معاہدہ میں دفاعی تعاون، عسکری تربیت، انٹیلی جنس شیئرنگ، مشترکہ مشقوں، دفاعی صنعت اور جدید ٹیکنالوجی سمیت سکیورٹی کے مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر بھی زور دیا گیا ہے۔

خطے میں نئی سکیورٹی صف بندی

پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان دفاعی تعاون میں اضافے کو مشرق وسطیٰ اور خطے میں بدلتی ہوئی سکیورٹی صورتحال کے تناظر میں اہم پیش رفت قرار دیا جارہا ہے۔

دوسری جانب ایرانی پارلیمنٹ کے رکن کی جانب سے معاہدے پر تنقید اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ خطے میں نئی دفاعی شراکت داریوں کو مختلف ممالک کی جانب سے قریب سے دیکھا جا رہا ہے۔

تاہم ابراہیم رضائی کے بیان کو ایرانی حکومت کی باضابطہ پالیسی قرار نہیں دیا گیا، بلکہ یہ ان کا ذاتی سیاسی مؤقف ہے۔

پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کی جانب سے دفاعی تعاون کے ذریعے مشترکہ سکیورٹی صلاحیت بڑھانے کے عزم کے بعد اس معاہدے کے علاقائی اثرات پر بھی نظر رکھی جا رہی ہے۔

بھارت اور خطے پر ممکنہ اثرات

پاکستان سعودی عرب اور ترکیہ مشترکہ دفاعی معاہدہ کے سامنے آنے کے بعد بھارت کی جانب سے بھی اس پیش رفت کو قریب سے مانیٹر کرنے کا عندیہ دیا گیا ہے۔ بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے ہفتہ وار بریفنگ کے دوران کہا کہ بھارت تینوں ممالک کے درمیان ہونے والے معاہدے کی پیش رفت کو قریب سے دیکھ رہا ہے اور اس حوالے سے صورتحال سے آگاہ رکھے گا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان سعودی عرب اور ترکیہ مشترکہ دفاعی معاہدہ کی اہمیت صرف سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ تک محدود نہیں بلکہ اس کے اثرات پورے خطے کی سیکیورٹی صورتحال پر مرتب ہو سکتے ہیں۔ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی، ایران اور خلیجی ممالک کے تعلقات، ترکیہ کا بڑھتا ہوا علاقائی کردار اور پاکستان کے بھارت کے ساتھ تعلقات اس معاہدے کو مزید اہم بنا دیتے ہیں۔

تاہم پاکستان سعودی عرب اور ترکیہ مشترکہ دفاعی معاہدہ کے فریق ممالک کی جانب سے یہ مؤقف سامنے آیا ہے کہ اس کا مقصد کسی مخصوص ملک کے خلاف محاذ بنانا نہیں بلکہ مشترکہ دفاعی صلاحیت کو مضبوط، باہمی تعاون کو فروغ اور خطے میں امن و استحکام کو یقینی بنانا ہے۔

پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان پہلے سے دفاعی تعاون موجود ہے، تاہم ترکیہ کی شمولیت سے تینوں ممالک کے درمیان تعاون ایک وسیع تر سہ فریقی دفاعی فریم ورک میں تبدیل ہو گیا ہے۔ موجودہ علاقائی حالات میں یہ معاہدہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان بڑھتے ہوئے دفاعی اور تزویراتی روابط کی ایک اہم مثال قرار دیا جا رہا ہے۔

 
READ MORE FAQS”

سوال 1: پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے دفاعی معاہدے پر ایران کا کیا ردعمل آیا؟

جواب: ایرانی پارلیمنٹ کے رکن ابراہیم رضائی نے معاہدے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ سعودی عرب کو وہ سکیورٹی ضمانت فراہم نہیں کرسکتا جس کی ریاض توقع کر رہا ہے۔

سوال 2: ابراہیم رضائی کون ہیں؟

جواب: ابراہیم رضائی ایرانی پارلیمنٹ کی نیشنل سکیورٹی اینڈ فارن پالیسی کمیٹی کے رکن ہیں۔

سوال 3: رضائی نے دفاعی معاہدے کو کیا قرار دیا؟

جواب: انہوں نے پاکستان اور ترکیہ کے ساتھ سعودی عرب کے دفاعی معاہدے کو ’’کاغذی معاہدہ‘‘ قرار دیا۔

سوال 4: پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے معاہدے میں کیا طے پایا؟

جواب: معاہدے کے مطابق ایک رکن ملک کے خلاف مسلح جارحیت کو تینوں ممالک کے خلاف جارحیت تصور کیا جائے گا اور دفاعی تعاون کو مزید مضبوط کیا جائے گا۔

بھارت نے پاکستان سعودی عرب اور ترکیہ مشترکہ دفاعی معاہدہ پر کیا کہا؟
جواب: بھارتی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ وہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان ہونے والے معاہدے کی پیش رفت کو قریب سے دیکھ رہا ہے۔