مکہ معاہدہ خالصتاً دفاعی نوعیت کا ہے، کسی ملک کو نشانہ بنانا مقصد نہیں: اسحاق ڈار

اسحاق ڈار کا مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر وضاحتی بیان
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

مکہ معاہدہ خالصتاً دفاعی نوعیت کا ہے، کسی ملک کو نشانہ بنانا مقصد نہیں، ۔ یہ معاہدہ تینوں ممالک کی قیادت اور عوام کے درمیان موجود دیرینہ برادرانہ تعلقات کی گہرائی کا عکاس ہے: اسحاق ڈار

اسلام آباد: نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے واضح کیا ہے کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان ہونے والا مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ خالصتاً دفاعی نوعیت کا ہے اور اس کا مقصد کسی بھی ملک کو نشانہ بنانا نہیں۔

مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے سے متعلق اپنے وضاحتی بیان میں اسحاق ڈار نے کہا کہ گزشتہ دو روز سے معاہدے کے حوالے سے مختلف سطحوں پر بحث جاری ہے، اس لیے عوامی دلچسپی کے پیش نظر معاہدے کا پس منظر اور اس کی بنیادی نوعیت واضح کرنا ضروری ہے۔

پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان 7 اگست کو معاہدہ

نائب وزیراعظم کے مطابق پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے 7 اگست کو مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے۔ یہ معاہدہ تینوں ممالک کی قیادت اور عوام کے درمیان موجود دیرینہ برادرانہ تعلقات کی گہرائی کا عکاس ہے۔

اسحاق ڈار نے بتایا کہ مکہ معاہدہ اچانک ہونے والا فیصلہ نہیں بلکہ کئی برسوں سے جاری مذاکرات، مشاورت اور باہمی رابطہ کاری کا نتیجہ ہے۔ اس کا بنیادی مقصد تینوں ممالک کے درمیان اسٹریٹجک تعاون کو مزید مضبوط بنانا اور مشترکہ سیکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کی صلاحیت بہتر کرنا ہے۔

مجتبیٰ خامنہ ای کی نئی ویڈیو
مجتبیٰ خامنہ ای کی غیر مؤرخہ ویڈیو مہر نیوز نے جاری کی ہے۔

معاہدے کا مقصد خطے میں امن اور استحکام کا فروغ

وزیر خارجہ نے کہا کہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کا مقصد خطے میں امن، سلامتی، استحکام اور خوشحالی کے لیے مشترکہ کوششوں کو مزید مضبوط بنانا ہے۔

ان کے مطابق معاہدہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان پہلے سے موجود کسی باہمی معاہدے یا دیگر ممالک و تنظیموں کے ساتھ ان کے معاہدوں کو منسوخ یا تبدیل نہیں کرتا۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ مکہ معاہدہ تینوں ممالک کے باہمی تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے ساتھ ساتھ علاقائی امن کے لیے تعاون کا ایک نیا فریم ورک فراہم کرتا ہے۔

ایک ملک پر حملہ تینوں پر حملہ تصور ہوگا

مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کی اہم شق کی وضاحت کرتے ہوئے نائب وزیراعظم نے کہا کہ تینوں ممالک میں سے کسی ایک پر بیرونی مسلح حملہ تینوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ یہ اصول اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت انفرادی اور اجتماعی دفاع کے فطری حق کے مطابق ہے۔

اسحاق ڈار نے ایک بار پھر واضح کیا کہ معاہدے کی نوعیت دفاعی ہے اور اس کا مقصد کسی ملک کے خلاف جارحانہ کارروائی کرنا یا کسی مخصوص ملک کو نشانہ بنانا نہیں۔

مکہ معاہدہ خطے کے دیگر ممالک کے لیے بھی کھلا ہے

نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ نے کہا کہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ خطے کے ان تمام ممالک کے لیے کھلا ہے جو اس کے بنیادی اصولوں کی پاسداری کے لیے آمادہ ہوں۔

مکہ پاکستان سعودی عرب اور ترکیہ مشترکہ دفاعی معاہدہ
پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے بعد علاقائی سلامتی پر نئی بحث

انہوں نے کہا کہ جو ممالک باہمی احترام، تعاون اور اختلافات کو پُرامن ذرائع سے حل کرنے کے اصولوں پر قائم ہیں، وہ اس نوعیت کے علاقائی تعاون کا حصہ بن سکتے ہیں۔

اسحاق ڈار کے مطابق معاہدے کا مقصد کسی بلاک یا محاذ آرائی کو فروغ دینا نہیں بلکہ خطے میں امن اور استحکام کی کوششوں کو تقویت دینا ہے۔

پاکستان کی خارجہ پالیسی کے بنیادی اصولوں سے ہم آہنگ

وزیر خارجہ نے کہا کہ مکہ معاہدہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کے بنیادی اصولوں سے مکمل طور پر ہم آہنگ ہے۔ پاکستان خطے کے تمام ممالک کے ساتھ پائیدار امن، استحکام اور باہمی تعاون کے لیے کام جاری رکھنے کا خواہاں ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان تمام تنازعات کے پُرامن حل کو فروغ دینے کے عزم پر قائم ہے اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے تعاون کی پالیسی جاری رکھے گا۔

اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ پاکستان اپنے عوام کے لیے ایک زیادہ محفوظ، مستحکم اور خوشحال مستقبل کی تعمیر کے عزم پر قائم ہے اور مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ بھی اسی وسیع تر مقصد کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔

 
READ MORE FAQS”

مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ کب ہوا؟
پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے 7 اگست 2026 کو مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے۔

مکہ معاہدے کا بنیادی مقصد کیا ہے؟
اس کا مقصد دفاعی و اسٹریٹجک تعاون مضبوط بنانا اور خطے میں امن، سلامتی اور استحکام کو فروغ دینا ہے۔

کیا مکہ معاہدہ کسی ملک کے خلاف ہے؟
اسحاق ڈار کے مطابق معاہدہ خالصتاً دفاعی نوعیت کا ہے اور اس کا مقصد کسی ملک کو نشانہ بنانا نہیں۔

ایک رکن ملک پر حملے کی صورت میں کیا ہوگا؟
معاہدے کے مطابق تینوں ممالک میں سے کسی ایک پر بیرونی مسلح حملہ تینوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔