بلوچستان میں فورسز کی کارروائی، 5 دہشتگرد ہلاک

پنجگور آپریشن میں سکیورٹی فورسز کی کارروائی
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

پنجگور میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن، اہم سرغنہ سمیت 5 دہشتگرد ہلاک

پنجگور آپریشن میں سکیورٹی فورسز نے فتنہ الہندوستان کے دہشتگردوں کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے اہم سرغنہ سمیت 5 دہشتگردوں کو ہلاک کردیا۔

سکیورٹی ذرائع کے مطابق انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن بلوچستان کے ضلع پنجگور کے علاقے سرکینی، چھیدگی میں کیا گیا۔ کارروائی کے دوران سکیورٹی فورسز نے دہشتگردوں کے ٹھکانے کو نشانہ بنایا اور فتنہ الہندوستان سے وابستہ 5 دہشتگردوں کو ہلاک کیا۔

ذرائع کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں فتنہ الہندوستان کا اہم سرغنہ وزیر ولد جمال بھی شامل ہے۔ سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ کارروائی میں دہشتگردوں کے قبضے سے بھاری مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد کیا گیا۔

کارروائی کے دوران 4 موٹر سائیکلیں، مشین گنز اور دیگر بھاری ہتھیار بھی سکیورٹی فورسز نے تحویل میں لے لیے۔ حکام کے مطابق برآمد ہونے والا سامان دہشتگردوں کی کارروائیوں میں استعمال کیا جا رہا تھا۔

سکیورٹی ذرائع کے مطابق ہلاک دہشتگرد پنجگور کے علاقے میں مقامی تاجروں اور دیگر شہریوں کے خلاف مختلف جرائم اور دہشتگردانہ سرگرمیوں میں ملوث تھے۔ ان پر لوٹ مار، بھتہ خوری اور اغوا سمیت دیگر کارروائیوں میں ملوث ہونے کے الزامات تھے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ کامیاب کارروائی کے بعد علاقے میں کلیئرنس آپریشن جاری ہے۔ سکیورٹی فورسز کی جانب سے فتنہ الہندوستان سے وابستہ ممکنہ دیگر دہشتگردوں کی موجودگی کا سراغ لگانے کے لیے سرچ اور کلیئرنس کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔

حکام کے مطابق علاقے میں امن و امان کی صورتحال کو مزید بہتر بنانے اور دہشتگرد عناصر کے خاتمے کے لیے کارروائیاں جاری رکھی جائیں گی۔

سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں دہشتگردی کے خلاف کارروائیوں کا مقصد شہریوں کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنانا اور دہشتگرد نیٹ ورکس کو ختم کرنا ہے۔

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے بھی پنجگور میں ہونے والے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کو سراہا ہے۔ انہوں نے آپریشن ردالفتنہ 3 کے تحت کامیاب کارروائی پر سکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کیا۔

وزیر داخلہ کے مطابق سکیورٹی فورسز نے پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا مظاہرہ کرتے ہوئے دہشتگردوں کے مذموم عزائم ناکام بنائے۔ انہوں نے اہم سرغنہ سمیت 5 دہشتگردوں کی ہلاکت پر سکیورٹی فورسز کی کارکردگی کو سراہا۔

محسن نقوی نے کہا کہ سکیورٹی فورسز کے بہادر جوان قوم کا سرمایہ افتخار ہیں اور بلوچستان سے دہشتگرد عناصر کے خاتمے کے لیے مؤثر کارروائیاں کر رہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پوری قوم سکیورٹی فورسز کے ساتھ کھڑی ہے۔ ان کے مطابق ملک میں امن و استحکام کے لیے دہشتگردی کے نیٹ ورکس کا خاتمہ ضروری ہے۔

پنجگور بلوچستان کا اہم علاقہ ہے اور ماضی میں بھی یہاں سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے دہشتگرد عناصر کے خلاف کارروائیاں کی جاتی رہی ہیں۔ موجودہ کارروائی میں اہم سرغنہ سمیت 5 دہشتگردوں کی ہلاکت کو سکیورٹی حکام اہم پیش رفت قرار دے رہے ہیں۔

سکیورٹی فورسز کی جانب سے علاقے میں کلیئرنس آپریشن جاری رہنے کے باعث مزید گرفتاریوں یا کارروائیوں کے امکانات بھی موجود ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ علاقے میں مکمل امن کے قیام تک دہشتگرد عناصر کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی۔

پنجگور آپریشن کے دوران بھاری اسلحے اور گولہ بارود کی برآمدگی سے متعلقہ اداروں کو دہشتگرد نیٹ ورک کی سرگرمیوں اور ممکنہ سہولت کاروں کے بارے میں مزید معلومات حاصل ہونے کی توقع ہے۔

READ MORE FAQS
  1. پنجگور آپریشن کہاں کیا گیا؟

پنجگور آپریشن بلوچستان کے علاقے سرکینی، چھیدگی میں کیا گیا۔

  1. کارروائی میں کتنے دہشتگرد ہلاک ہوئے؟

سکیورٹی ذرائع کے مطابق کارروائی میں اہم سرغنہ سمیت 5 دہشتگرد ہلاک ہوئے۔

  1. کیا کسی اہم دہشتگرد کمانڈر کی ہلاکت ہوئی؟

جی، ذرائع کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں فتنہ الہندوستان کا اہم سرغنہ وزیر ولد جمال بھی شامل ہے۔

  1. آپریشن کے دوران کیا برآمد ہوا؟

کارروائی میں 4 موٹر سائیکلیں، مشین گنز، بھاری اسلحہ اور گولہ بارود برآمد ہونے کی اطلاع ہے۔