شہباز شریف کی ایرانی صدر سے ملاقات، مکہ معاہدہ کسی کے خلاف نہیں، وزیراعظم، اسلام آباد میمورنڈم آج بھی قبول، ایرانی صدر

شہباز شریف کی ایرانی صدر سے ملاقات
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

شہباز شریف کی ایرانی صدر سے ملاقات، مکہ معاہدہ کسی کے خلاف نہیں، وزیراعظم، اسلام آباد میمورنڈم آج بھی قبول، ایرانی صدر

نیویارک، 24 ستمبر 2026: وزیراعظم شہباز شریف نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کی سائیڈ لائنز پر ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے ملاقات کی، جس میں پاکستان اور ایران کے دیرینہ تعلقات، علاقائی صورتحال، امن و سلامتی اور سفارتی کوششوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

شہباز شریف کی ایرانی صدر سے ملاقات میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، معاون خصوصی طارق فاطمی اور دونوں ممالک کے اعلیٰ حکام بھی شریک تھے۔ دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور ایران کے درمیان قریبی تعلقات کا اعادہ کرتے ہوئے باہمی دلچسپی کے مختلف شعبوں میں تعاون مزید مستحکم کرنے کی خواہش ظاہر کی۔

وزیراعظم کا دورہ امریکہ — شہباز شریف نیویارک میں آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹالینا جارجیوا سے ملاقات کرتے ہوئے
وزیراعظم کا دورہ امریکہ: شہباز شریف نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر عالمی رہنماؤں سے ملاقات کر رہے ہیں۔ — فائل فوٹو

مکہ دفاعی معاہدے پر بھی گفتگو

شہباز شریف کی ایرانی صدر سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے بتایا کہ ایرانی صدر سے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے حوالے سے بھی بات ہوئی۔ وزیراعظم کے مطابق ایرانی صدر کو بتایا گیا کہ یہ معاہدہ کسی ملک کے خلاف نہیں ہے۔

پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے 7 اگست 2026 کو مکہ مکرمہ میں مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ پاکستان کے دفتر خارجہ کے مطابق معاہدے کا مقصد اجتماعی دفاع اور بیرونی جارحیت کے خلاف مشترکہ دفاعی صلاحیت کو مضبوط بنانا ہے، جبکہ اسے دفاعی نوعیت کا قرار دیا گیا ہے۔

ایران نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کو آگے بڑھانے پر آمادگی ظاہر کردی

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان نے ایرانی قیادت پر واضح کیا ہے کہ خطے میں پائیدار امن کا قیام ضروری ہے اور پاکستان امن کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔

وزیراعظم کے مطابق ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے پاکستان کی امن کے لیے کوششوں کو سراہا اور کہا کہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت (Islamabad MoU) آج بھی ایران کے لیے قابل قبول ہے اور اسے آگے بڑھانے کے لیے ایران تیار ہے۔ پاکستان کے دفتر خارجہ کے مطابق اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کا مقصد خطے میں کشیدگی کم کرنے، مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے مسائل کے حل کی کوششوں کو آگے بڑھانا ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف آئی ایم ایف ایم ڈی کرسٹالینا جارجیوا سے نیویارک میں ملاقات کرتے ہوئے
وزیراعظم شہباز شریف کی آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹالینا جارجیوا سے ملاقات

خطے میں کشیدگی کم کرنے پر زور

اعلامیے کے مطابق وزیراعظم اور ایرانی صدر نے خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ دونوں جانب سے تحمل، کشیدگی میں کمی اور مسلسل سفارتی رابطوں کی ضرورت پر زور دیا گیا۔

وزیراعظم نے علاقائی امن کے لیے پاکستان کے مخلصانہ اور تعمیری کردار کو جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا، جبکہ ایرانی صدر نے پاکستان کی سفارتی کوششوں اور علاقائی امن و سلامتی کے لیے کردار کو سراہا۔ دونوں رہنماؤں نے چیلنجز سے نمٹنے، دستیاب مواقع سے فائدہ اٹھانے اور علاقائی امن، سلامتی اور خوشحالی کے لیے قریبی رابطہ برقرار رکھنے پر اتفاق کیا۔

آبنائے ہرمز اور باب المندب کی صورتحال

میڈیا سے گفتگو میں وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ آبنائے ہرمز اور باب المندب میں اشتعال انگیزی موجود ہے اور اس صورتحال کو ختم کرنے کے لیے برادر اور دوست ممالک کو مل کر کوششیں کرنی چاہئیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی قیادت نے فیصلہ کیا ہے کہ خطے میں امن کے لیے سفارتی کوششوں کو مزید تیز کیا جائے گا، جبکہ معیشت اور سفارتی تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے بھی کوششیں جاری رہیں گی۔ پاکستان اس سے قبل بھی آبنائے ہرمز میں محفوظ اور آزاد بحری نقل و حرکت کی اہمیت پر زور دیتا رہا ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف بل گیٹس سے نیویارک میں ملاقات کرتے ہوئے
وزیراعظم شہباز شریف کی بل اینڈ میلنڈا گیٹس فاؤنڈیشن کے چیئرمین بل گیٹس سے ملاقات

افغانستان سے دہشتگردی پر وزیراعظم کا مؤقف

وزیراعظم شہباز شریف نے گفتگو میں افغانستان سے ہونے والی مبینہ دہشتگردی کا بھی ذکر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ افغانستان سے دہشتگرد پاکستان میں کارروائیاں کر رہے ہیں اور پولیس اہلکاروں، فوجی جوانوں اور شہریوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

انہوں نے دہشتگردی کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان دہشتگردی کے خلاف کارروائیاں جاری رکھے گا اور دہشتگردی کے مکمل خاتمے تک کوششیں جاری رہیں گی۔

پاکستان کی سفارتی کوششیں جاری رکھنے کا عزم

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان کی امن کے لیے کوششوں کو عالمی سطح پر پذیرائی ملی ہے اور عالمی سطح پر پاکستان کے وقار میں اضافہ ہوا ہے۔

ان کے مطابق موجودہ علاقائی صورتحال میں پاکستان امن، مذاکرات اور سفارتی رابطوں کے ذریعے کشیدگی کم کرنے کی کوششیں جاری رکھے گا۔ شہباز شریف کی ایرانی صدر سے ملاقات کے اختتام پر دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور ایران کے درمیان دیرینہ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے اور علاقائی امن و استحکام کے لیے باہمی رابطے جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔

 
READ MORE FAQS”

سوال 1: شہباز شریف اور ایرانی صدر کی ملاقات کہاں ہوئی؟
جواب: وزیراعظم شہباز شریف اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان کی ملاقات نیویارک میں اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کے اجلاس کی سائیڈ لائنز پر ہوئی۔

سوال 2: شہباز شریف نے مکہ معاہدے کے بارے میں کیا کہا؟
جواب: وزیراعظم کے مطابق انہوں نے ایرانی صدر کو بتایا کہ مکہ دفاعی معاہدہ کسی ملک کے خلاف نہیں ہے۔ پاکستان کے دفتر خارجہ نے بھی معاہدے کو دفاعی نوعیت کا قرار دیا ہے۔

سوال 3: شہباز شریف کی ایرانی صدر سے ملاقات میں اسلام آباد میمورنڈم پر کیا بات ہوئی؟
جواب: وزیراعظم کے مطابق ایرانی صدر نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کو برقرار رکھنے اور اسے آگے بڑھانے کے لیے آمادگی کا اظہار کیا۔ پاکستان پہلے بھی اس مفاہمت کو علاقائی امن کے لیے سفارتی راستے کے طور پر بیان کر چکا ہے۔

سوال 4: پاکستان اور ایران نے علاقائی امن کے لیے کیا مؤقف اپنایا؟
جواب: دونوں جانب سے تحمل، کشیدگی میں کمی، مسلسل سفارتی رابطوں اور علاقائی امن و سلامتی کے لیے مشترکہ کوششوں کی ضرورت پر زور دیا گیا۔

متعلقہ خبریں

وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ وَركَعُوا مَعَ الرَّاكِعِينَ

فجر04:34 AM
طلوع آفتاب05:57 AM
ظہر12:00 PM
عصر03:27 PM
مغرب06:03 PM
عشاء07:26 PM
اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے، تو خوب تحقیق کر لیا کرو، ایسا نہ ہو کہ تم کسی قوم کو نادانی میں نقصان پہنچا بیٹھو، پھر اپنے کیے پر پچھتاتے رہو۔  الحجرات: 6