نادیہ افغان کا جانوروں پر تشدد کے خلاف آواز بلند کرنے کا مطالبہ

نادیہ افغان جانوروں پر تشدد کے خلاف آواز اٹھانے کا مطالبہ
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

نادیہ افغان کا جانوروں پر تشدد کے خلاف آواز بلند کرنے کا مطالبہ

پاکستانی اداکارہ نادیہ افغان نے جانوروں پر تشدد کے واقعات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ آوارہ جانوروں کے مسئلے کا حل محض انہیں مار دینا نہیں، بلکہ موجودہ قوانین پر مؤثر عملدرآمد اور ذمہ دار افراد کا احتساب ضروری ہے۔

ایک حالیہ انٹرویو میں نادیہ افغان نے پنجاب میں آوارہ کتوں کی بڑھتی ہوئی تعداد سے نمٹنے کے لیے جاری اقدامات پر گفتگو کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ کیا جانوروں کو مارنا واقعی اس مسئلے کا مستقل حل ہوسکتا ہے؟

اداکارہ نے کہا کہ ملک میں مختلف معاملات سے متعلق قوانین پہلے ہی موجود ہیں، تاہم اصل مسئلہ قوانین کی موجودگی سے زیادہ ان پر مؤثر طریقے سے عملدرآمد کا ہے۔ ان کے مطابق اگر قانون نافذ کرنے والے ادارے قوانین پر مسلسل عمل نہ کریں تو شہریوں سے بھی قوانین کی پابندی کی توقع مشکل ہوجاتی ہے۔

جانوروں پر تشدد صرف جانوروں تک محدود نہیں، نادیہ افغان

نادیہ افغان نے جانوروں کے ساتھ ناروا سلوک کو معاشرے میں موجود ایک بڑے مسئلے سے جوڑتے ہوئے کہا کہ تشدد کا نشانہ بننے والے صرف جانور نہیں ہوتے۔

کرسٹیانو رونالڈو کی شادی کی افواہ پر فنچل کیتھیڈرل کے باہر مداحوں کا ہجوم
کرسٹیانو رونالڈو کی شادی کی افواہ پر ہزاروں مداح فنچل کیتھیڈرل کے باہر جمع ہوگئے۔

انہوں نے خواتین، بچوں اور محنت کشوں سمیت دیگر کمزور طبقات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جب کسی فرد یا مخلوق کے پاس اپنا دفاع کرنے کی طاقت کم ہو تو اس کے خلاف زیادتی کو معمول سمجھنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

اداکارہ کے مطابق معاشرے میں کسی بھی قسم کے تشدد کو معمول بنانا ایک سنجیدہ مسئلہ ہے اور اس کے خاتمے کے لیے ذمہ دار افراد کا احتساب ضروری ہے۔

سوشل میڈیا پر دل دہلا دینے والے واقعات کا اثر

نادیہ افغان نے یہ بھی بتایا کہ جانوروں پر تشدد کے دل دہلا دینے والے واقعات کو بار بار دیکھنا ان کے لیے جذباتی طور پر مشکل ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا پر سماجی مسائل کے حوالے سے آگاہی پیدا کرنے کی کوشش کرنے والے افراد بعض اوقات خود کو بے اختیار محسوس کرتے ہیں، خاص طور پر جب سنگین مسائل کے مقابلے میں تفریح اور مشہور شخصیات سے متعلق مواد کو زیادہ توجہ ملتی ہو۔

اداکارہ نے انکشاف کیا کہ ایسے واقعات کی مسلسل اطلاعات نے انہیں ذہنی اور جذباتی طور پر متاثر کیا اور بعض اوقات وہ خود کو سوشل میڈیا سے دور رکھنے پر مجبور بھی ہوئیں۔

جانوروں کے ریسکیو رضاکاروں کا دفاع

نادیہ افغان نے جانوروں کے لیے کام کرنے والے ریسکیو گروپس اور رضاکاروں کا دفاع کرتے ہوئے ان الزامات پر بھی سوال اٹھایا کہ بعض لوگ عوام سے ملنے والی امدادی رقم کا غلط استعمال کرتے ہیں۔

ان کے مطابق بہت سے ریسکیو ورکرز انتہائی محدود وسائل کے باوجود جانوروں کی مدد کرتے ہیں اور بعض رضاکار اپنی جیب سے رقم خرچ کرنے کے ساتھ ساتھ اپنا وقت اور ذاتی سامان بھی جانوروں کی دیکھ بھال کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ بعض نوجوان رضاکار جانوروں کے علاج اور ہنگامی امداد کے لیے اپنی ذاتی اشیا تک فروخت کردیتے ہیں۔

زینڈییا زینب جیوا کے سنہری لباس کو دیکھ کر حیران
دی اوڈیسی کے لندن پریمیئر میں زینب جیوا کے منفرد سنہری لباس پر زینڈییا کا حیران کن ردعمل۔

وائرل واقعے کے بعد توجہ، پھر خاموشی

اداکارہ کا کہنا تھا کہ عام طور پر جانوروں کے ریسکیو کی کوششوں پر اس وقت زیادہ توجہ دی جاتی ہے جب کوئی انتہائی افسوسناک واقعہ سوشل میڈیا پر وائرل ہوجائے۔

تاہم جیسے ہی واقعے کی شہ سرخیاں ختم ہوتی ہیں، رضاکاروں کو دوبارہ محدود وسائل کے ساتھ اپنا کام جاری رکھنا پڑتا ہے۔ ان کے مطابق جانوروں کی فلاح کے لیے مستقل بنیادوں پر ادارہ جاتی تعاون اور عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔

بچوں میں جانوروں سے ہمدردی پیدا کرنے پر زور

نادیہ افغان نے بچوں کی تربیت میں جانوروں کے ساتھ ہمدردی کو بھی اہم قرار دیا۔

ان کے مطابق بچوں کو مسلسل یہ بتانا کہ جانور خطرناک ہیں یا ان کے ساتھ بدسلوکی قابل قبول ہے، ان کے ذہن میں تشدد اور کمزور مخلوقات کے بارے میں غلط تصور پیدا کرسکتا ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ بچوں کو محفوظ ماحول میں جانوروں کے ساتھ مثبت تجربات کا موقع ملنا چاہیے تاکہ ان میں ہمدردی اور ذمہ داری کا احساس پیدا ہو۔

نادیہ افغان کے مطابق جانوروں کے ساتھ مہربانی اور ہمدردی محض جانوروں کی حفاظت کا معاملہ نہیں بلکہ ایک ذمہ دار اور پُرامن معاشرے کی تشکیل کا بھی حصہ ہے۔

اداکارہ نے مجموعی طور پر آوارہ جانوروں کے مسئلے کو سماجی ذمہ داری، قانون کے مؤثر نفاذ اور احتساب سے جوڑتے ہوئے کہا کہ کمزور مخلوقات کے تحفظ کے لیے عملی اقدامات اور موجودہ قوانین پر سنجیدگی سے عملدرآمد ضروری ہے۔

READ MORE FAQS”

نادیہ افغان نے کس مسئلے پر آواز اٹھائی؟
نادیہ افغان نے جانوروں پر تشدد، خصوصاً آوارہ جانوروں کے ساتھ ناروا سلوک کے خلاف آواز اٹھائی۔

نادیہ افغان نے حکومت سے کیا مطالبہ کیا؟
انہوں نے جانوروں کے تحفظ سے متعلق موجودہ قوانین پر مؤثر عملدرآمد اور قانون توڑنے والوں کے احتساب پر زور دیا۔

نادیہ افغان نے جانوروں کے مسئلے کو کس سے جوڑا؟
انہوں نے جانوروں پر تشدد کو معاشرے میں خواتین، بچوں اور دیگر کمزور طبقات کے خلاف تشدد اور احتساب کی کمی سے جوڑا۔

نادیہ افغان بچوں کے حوالے سے کیا کہتی ہیں؟
ان کے مطابق بچوں میں جانوروں کے لیے ہمدردی پیدا کرنا ضروری ہے اور انہیں خوف کے بجائے محفوظ اور مثبت تجربات کے ذریعے جانوروں سے محبت اور احترام سکھایا جانا چاہیے۔

متعلقہ خبریں