پی ایم ڈی سی کا ڈاکٹرز کے لائسنس سے متعلق اہم فیصلہ
پی ایم ڈی سی لائسنس کی معیاد ختم ہونے والے ڈاکٹرز کے لیے پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل نے اہم الرٹ جاری کردیا ہے۔ پی ایم ڈی سی کے مطابق جن ڈاکٹرز نے اپنے لائسنس کی تجدید نہیں کرائی، ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی، جبکہ مقررہ مدت کے اندر تجدید نہ کرانے کی صورت میں لائسنس منسوخ بھی کیے جاسکتے ہیں۔
پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کے مطابق لائسنس کی معیاد ختم ہونے والے ڈاکٹرز کو اپنی رجسٹریشن اور لائسنس کی تجدید کے معاملے پر فوری توجہ دینا ہوگی۔ کونسل نے واضح کیا ہے کہ 6 ماہ کے اندر لائسنس کی تجدید نہ کرانے والے ڈاکٹرز کے لائسنس منسوخ کیے جائیں گے۔
کلینیکل پریکٹس کے لیے فعال لائسنس لازمی
پی ایم ڈی سی نے کلینیکل پریکٹس کرنے والے ڈاکٹرز کے لیے بھی اہم شرط واضح کردی ہے۔ کونسل کے مطابق مریضوں کا علاج کرنے اور کلینیکل پریکٹس جاری رکھنے والے ڈاکٹرز کے لیے لائسنس کا فعال ہونا لازمی قرار دیا گیا ہے۔
اس فیصلے کا مقصد ڈاکٹرز کی رجسٹریشن اور لائسنسنگ کے نظام کو مزید مؤثر بنانا اور اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ طبی خدمات فراہم کرنے والے ڈاکٹرز متعلقہ ضوابط کے مطابق فعال لائسنس رکھتے ہوں۔
لائسنس کی تجدید نہ کرانے والے ڈاکٹرز کے خلاف کارروائی
پی ایم ڈی سی کا کہنا ہے کہ جن ڈاکٹرز کے لائسنس کی معیاد ختم ہوچکی ہے، انہیں تجدید کے معاملے میں تاخیر سے گریز کرنا چاہیے۔ مقررہ مدت گزرنے کے بعد لائسنس منسوخی کی کارروائی کی جاسکتی ہے۔
ڈاکٹرز کے لیے لائسنس نہ صرف پیشہ ورانہ رجسٹریشن کا اہم حصہ ہے بلکہ کلینیکل پریکٹس کے لیے بھی اس کی فعال حیثیت ضروری ہے۔ اسی لیے ڈاکٹرز کو اپنے لائسنس کی میعاد اور تجدید کی صورتحال بروقت چیک کرنے کی ضرورت ہے۔
مریضوں کے لیے بھی اہم پیش رفت
پی ایم ڈی سی کا فیصلہ طبی شعبے میں ضابطہ کار کو مزید مؤثر بنانے کے حوالے سے اہم قرار دیا جارہا ہے۔ فعال لائسنس کی شرط سے یہ یقینی بنانے میں مدد مل سکتی ہے کہ کلینیکل پریکٹس کرنے والے ڈاکٹرز متعلقہ رجسٹریشن اور لائسنسنگ تقاضے پورے کر رہے ہوں۔
مریضوں کے لیے بھی یہ جاننا اہم ہے کہ وہ طبی علاج کے لیے ایسے ڈاکٹر سے رجوع کریں جو متعلقہ ادارے کے ساتھ رجسٹرڈ ہو اور اس کا لائسنس فعال ہو۔
پی ایم ڈی سی کی ہدایات کے مطابق ایسے ڈاکٹرز جن کے لائسنس کی معیاد ختم ہوچکی ہے، انہیں مقررہ مدت کے اندر تجدید کے عمل کو مکمل کرنا ہوگا۔ اگر 6 ماہ کی مدت کے دوران لائسنس کی تجدید نہ کرائی گئی تو کونسل کی جانب سے لائسنس منسوخ کرنے کی کارروائی کی جاسکتی ہے۔
ڈاکٹرز کو چاہیے کہ وہ اپنے لائسنس کی موجودہ حیثیت اور تجدید سے متعلق ضروری تقاضوں کے بارے میں پی ایم ڈی سی کے متعلقہ ذرائع سے معلومات حاصل کریں۔
طبی شعبے میں ڈاکٹرز کی رجسٹریشن، لائسنسنگ اور پیشہ ورانہ معیار کی نگرانی مریضوں کے تحفظ کے لیے اہم سمجھی جاتی ہے۔ فعال لائسنس کا نظام طبی خدمات فراہم کرنے والے افراد کی قانونی اور پیشہ ورانہ حیثیت واضح کرنے میں مدد دیتا ہے۔
پی ایم ڈی سی کی جانب سے جاری کردہ حالیہ الرٹ کے بعد ایسے ڈاکٹرز کے لیے خاص طور پر اہمیت بڑھ گئی ہے جن کے لائسنس کی معیاد ختم ہوچکی ہے یا تجدید کا عمل زیر التوا ہے۔
مجموعی طور پر پی ایم ڈی سی لائسنس سے متعلق تازہ فیصلے کے تحت لائسنس کی تجدید نہ کرانے والے ڈاکٹرز کو مقررہ مدت میں کارروائی مکمل کرنا ہوگی، جبکہ کلینیکل پریکٹس کرنے والے ڈاکٹرز کے لیے فعال لائسنس لازمی قرار دیا گیا ہے۔
READ MORE FAQS
پی ایم ڈی سی نے ڈاکٹرز کے لیے کیا الرٹ جاری کیا ہے؟
پی ایم ڈی سی نے معیاد ختم ہونے والے لائسنس کی تجدید نہ کرانے والے ڈاکٹرز کے خلاف کارروائی کا اعلان کیا ہے۔
کتنے عرصے میں لائسنس کی تجدید ضروری ہے؟
پی ایم ڈی سی کے مطابق 6 ماہ میں تجدید نہ کرانے والے ڈاکٹرز کے لائسنس منسوخ کیے جائیں گے۔
کیا کلینیکل پریکٹس کے لیے فعال لائسنس ضروری ہے؟
جی ہاں، پی ایم ڈی سی کے مطابق کلینیکل پریکٹس کرنے والے ڈاکٹرز کے لیے فعال لائسنس لازمی ہے۔
لائسنس کی تجدید نہ کرانے کا کیا نتیجہ ہوسکتا ہے؟
مقررہ 6 ماہ کی مدت میں تجدید نہ ہونے کی صورت میں لائسنس منسوخ کیا جاسکتا ہے۔








