کراچی میں یومِ آزادی کی رات ہوائی فائرنگ، 2 افراد جاں بحق، 94 زخمی، خواتین اور بچوں سمیت متعدد افراد گولیوں کی زد میں آئے
کراچی: یومِ آزادی کی تقریبات کے موقع پر کراچی میں ہوائی فائرنگ کے مختلف واقعات میں کم از کم 2 افراد جاں بحق جبکہ 94 افراد زخمی ہوگئے۔
پولیس حکام کے مطابق یومِ آزادی سے ایک روز قبل کراچی کے مختلف علاقوں میں جشن کے دوران شہریوں کی جانب سے ہوائی فائرنگ کے واقعات پیش آئے، جن کے نتیجے میں خواتین اور بچوں سمیت متعدد افراد گولیوں کی زد میں آئے۔
پولیس سرجن ڈاکٹر سمیعہ سید کے مطابق 17 زخمیوں کو سول اسپتال، 24 کو عباسی شہید اسپتال جبکہ 53 افراد کو جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر منتقل کیا گیا۔
حکام کے مطابق یومِ آزادی کی رات ہوائی فائرنگ کے واقعات میں پی آئی بی کالونی کا ایک شخص اور ایک شیر خوار بچہ جاں بحق ہوئے۔ ایک خاتون کو بھی گولی لگنے کے بعد اسپتال منتقل کیا گیا، تاہم بعد ازاں ان کی موت ہوگئی۔ پولیس کے مطابق خاتون کا واقعہ مبینہ طور پر اتفاقی طور پر بندوق چلنے کے باعث پیش آیا۔
اس سے قبل ایدھی حکام نے بتایا تھا کہ یومِ آزادی کی رات ہوائی فائرنگ کے واقعات میں 86 افراد زخمی ہوئے، جن میں 10 خواتین، 17 بچے اور 59 مرد شامل تھے۔

یومِ آزادی کی رات ہوائی فائرنگ کے واقعات لیاری، صدر، کورنگی، ملیر، عزیز آباد، نارتھ ناظم آباد، ناظم آباد، گلبرگ، گلشن اقبال، اورنگی ٹاؤن، جمشید کوارٹرز اور ڈیفنس سمیت مختلف علاقوں میں رپورٹ ہوئے۔
ہوائی فائرنگ کے خلاف پولیس کا کریک ڈاؤن
دوسری جانب کراچی کے ایسٹ ضلع میں پولیس نے یومِ آزادی کے موقع پر ہوائی فائرنگ کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے مختلف علاقوں سے 10 مشتبہ افراد کو گرفتار کرلیا۔
پولیس کے مطابق گرفتار افراد کے قبضے سے ہوائی فائرنگ میں استعمال ہونے والے ہتھیار بھی برآمد کیے گئے۔ گرفتاریاں گلشن اقبال، شارع فیصل، سچل، گلستان جوہر اور سائٹ سپر ہائی وے تھانوں کی حدود میں کی گئیں۔
کراچی ویسٹ پولیس کے مطابق بھی ہوائی فائرنگ میں ملوث 3 افراد کو گرفتار کیا گیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ یومِ آزادی پر ہوائی فائرنگ کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں اور شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کے لیے قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
واضح رہے کہ کراچی میں یومِ آزادی اور نئے سال کی تقریبات کے دوران ہوائی فائرنگ ایک سنگین مسئلہ بن چکی ہے۔ پابندی کے باوجود ہر سال فائرنگ کے واقعات میں شہری زخمی یا جاں بحق ہوجاتے ہیں۔
گزشتہ سال بھی یومِ آزادی کی رات کراچی میں جشن کے دوران ہوائی فائرنگ سے ایک کمسن بچی سمیت 3 افراد جاں بحق اور 100 سے زائد افراد زخمی ہوئے تھے۔
حکام نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ یومِ آزادی کی رات ہوائی فائرنگ سے مکمل اجتناب کریں کیونکہ اس طرح کی فائرنگ کی جانے والی گولی کسی بھی مقام پر موجود شہری کی جان لے سکتی ہے۔
🇵🇰 Karachi’s #IndependenceDay “celebrations” turn Deadly
86 people injured in aerial firing, including 17 children & 10 women
Incidents across Lyari, Saddar, Korangi, Malir, Orangi, North Nazimabad, Gulshan-i-Iqbal & Defence#14August #جشن_آزادی_مبارک #MuhtemelAşk pic.twitter.com/Uivvx8sPIw
— Your Views Your News (@urviewsurnews) August 14, 2026
READ MORE FAQS”
کراچی میں یوم آزادی پر ہوائی فائرنگ سے کتنے افراد جاں بحق ہوئے؟
یوم آزادی کی تقریبات کے دوران ہوائی فائرنگ کے واقعات میں کم از کم 2 افراد جاں بحق ہوئے۔
ہوائی فائرنگ سے کتنے افراد زخمی ہوئے؟
مختلف واقعات میں 94 افراد زخمی ہوئے، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔
کراچی میں کن علاقوں میں ہوائی فائرنگ کے واقعات رپورٹ ہوئے؟
لیاری، صدر، کورنگی، ملیر، عزیز آباد، نارتھ ناظم آباد، ناظم آباد، گلبرگ، گلشن اقبال، اورنگی ٹاؤن، جمشید کوارٹرز اور ڈیفنس سمیت مختلف علاقوں سے واقعات رپورٹ ہوئے۔
کیا پولیس نے ہوائی فائرنگ کے خلاف کارروائی کی؟
جی ہاں، کراچی کے مختلف علاقوں میں پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے 13 مشتبہ افراد کو گرفتار کیا اور بعض گرفتار افراد سے اسلحہ بھی برآمد کیا۔






