وزیراعظم شہباز شریف کی صدر زرداری سے اہم ملاقات
وزیراعظم کی صدر سے ملاقات ایوان صدر میں ہوئی، جس میں سعودی عرب اور ترکیے کے ساتھ طے پانے والے دفاعی معاہدے، علاقائی صورتحال اور عوام کو درپیش معاشی مشکلات سمیت اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے صدر مملکت آصف علی زرداری سے ملاقات کے دوران انہیں یوم آزادی کی مبارکباد بھی دی۔ ملاقات میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، سینیٹر شیری رحمان، وفاقی وزیر داخلہ و انسداد منشیات محسن رضا نقوی اور اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان بھی موجود تھے۔
ایوان صدر سے جاری اعلامیے کے مطابق وزیراعظم نے صدر مملکت کو مکہ مکرمہ میں سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کے درمیان طے پانے والے تاریخی امن معاہدے کے حوالے سے آگاہ کیا۔
صدر آصف علی زرداری نے سہ فریقی معاہدے کے مؤثر نفاذ کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ انہوں نے دفاعی تعاون، علاقائی امن و استحکام اور امت مسلمہ کی سلامتی کے فروغ کے لیے معاہدے کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا۔
سعودی عرب اور ترکیے سے تعلقات مزید مضبوط بنانے پر زور
صدر مملکت نے سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کے دیرینہ برادرانہ تعلقات کو مزید مضبوط تزویراتی شراکت داری میں تبدیل کرنے کے لیے وزیراعظم شہباز شریف اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر کی کوششوں کو سراہا۔
ملاقات میں اس بات پر بھی گفتگو کی گئی کہ تینوں ممالک کے درمیان دفاعی اور تزویراتی تعاون کو مزید وسعت دی جائے اور علاقائی امن و استحکام کے لیے مشترکہ کوششوں کو آگے بڑھایا جائے۔
پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان بڑھتے ہوئے روابط کو خطے میں تعاون کے نئے امکانات کے تناظر میں اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ سہ فریقی تعاون کے ذریعے دفاع، سلامتی اور علاقائی استحکام کے شعبوں میں رابطے مزید مضبوط بنانے پر توجہ دی جا رہی ہے۔
دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کا جائزہ
ملاقات میں داخلی اور خارجی امور پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر فتنۃ الہندوستان اور فتنہ الخوارج کے دہشت گردوں کے خلاف جاری کارروائیوں میں پاکستان کی مسلح افواج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو خراج تحسین پیش کیا گیا۔
شرکا نے دہشت گردی کے ناسور کے مکمل خاتمے کے عزم کا اعادہ کیا اور ملک میں امن و سلامتی کے قیام کے لیے جاری کوششوں کو مزید مؤثر بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔
پاکستان کو درپیش سکیورٹی چیلنجز کے تناظر میں مسلح افواج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارروائیوں کو بھی ملاقات میں اہمیت دی گئی۔
عوامی مشکلات اور معاشی صورتحال پر گفتگو
صدر مملکت نے علاقائی صورتحال کے تناظر میں عوام کو درپیش معاشی مشکلات پر بھی توجہ دلائی۔
انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں، جبکہ اشیائے ضروریہ کی بلا تعطل فراہمی اور انہیں مناسب نرخوں پر دستیابی یقینی بنانے کے لیے بھی عملی اقدامات کیے جائیں۔
موجودہ علاقائی صورتحال کے باعث عالمی معیشت اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر پڑنے والے ممکنہ اثرات کے تناظر میں عوام کو ریلیف فراہم کرنا اہم قرار دیا گیا۔
پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہا گیا
صدر آصف علی زرداری نے امید ظاہر کی کہ علاقائی اور عالمی امن کے فروغ کے لیے پاکستان کی مؤثر سفارتی کوششوں سے ملک کے عالمی مقام کو مزید تقویت ملے گی۔
انہوں نے کہا کہ عالمی اور علاقائی سطح پر پاکستان کی مثبت سفارتی سرگرمیوں کے ملکی معیشت اور عوام کی زندگیوں پر بھی مثبت اثرات مرتب ہونے چاہئیں۔
ملاقات میں اس امر پر بھی زور دیا گیا کہ پاکستان خطے میں امن، استحکام اور تعاون کے فروغ کے لیے اپنی سفارتی کوششیں جاری رکھے۔
وزیراعظم کی صدر سے ملاقات میں سعودی عرب اور ترکیے کے ساتھ دفاعی و تزویراتی تعاون، علاقائی امن، دہشت گردی کے خلاف اقدامات اور عوام کو معاشی ریلیف دینے جیسے اہم معاملات زیر بحث آئے۔ ملاقات میں تینوں برادر ممالک کے تعلقات مزید مضبوط بنانے اور پاکستان کے قومی مفادات کے تحفظ کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔
READ MORE FAQS
- وزیراعظم شہباز شریف نے صدر آصف علی زرداری سے کہاں ملاقات کی؟
وزیراعظم شہباز شریف نے صدر آصف علی زرداری سے ایوان صدر میں ملاقات کی۔
- ملاقات میں اہم موضوع کیا تھا؟
ملاقات میں سعودی عرب اور ترکیے کے ساتھ طے پانے والے دفاعی و امن معاہدے، علاقائی صورتحال، دہشت گردی اور معاشی مشکلات پر گفتگو ہوئی۔
- صدر زرداری نے کن کی کوششوں کو سراہا؟
صدر نے سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کے تعلقات مضبوط بنانے کے لیے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی کوششوں کو سراہا۔
- ملاقات میں عوامی معاشی مشکلات کے حوالے سے کیا کہا گیا؟
صدر نے عوام کو ریلیف دینے، اشیائے ضروریہ کی بلا تعطل فراہمی اور مناسب نرخوں پر دستیابی یقینی بنانے کے لیے مؤثر اقدامات پر زور دیا۔








