گڈز ٹرانسپورٹرز اور حکومت کے مذاکرات، آج بریک تھرو کا امکان

گڈز ٹرانسپورٹرز اور حکومت کے درمیان مذاکرات
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

گڈز ٹرانسپورٹرز کے حکومت سے مذاکرات آج

گڈز ٹرانسپورٹرز کے حکومت سے مذاکرات آج اہم مرحلے میں داخل ہونے کا امکان ہے، جہاں وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے نمائندے ٹرانسپورٹرز کے ساتھ مذاکرات کریں گے۔ ملک بھر میں گڈز ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال کو 9 روز مکمل ہوچکے ہیں اور ٹرانسپورٹرز نے مطالبات کی منظوری تک احتجاج جاری رکھنے کا اعلان کر رکھا ہے۔

صدر آل پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ اتحاد ملک شہزاد اعوان کے مطابق حکومت اور ٹرانسپورٹرز کے درمیان مذاکرات آج سہ پہر 3 بجے گورنر ہاؤس سندھ میں ہوں گے۔

وفاقی اور صوبائی حکام مذاکرات میں شریک ہوں گے

ملک شہزاد اعوان کے مطابق مذاکرات میں گورنر سندھ، وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان، وزیر ٹرانسپورٹ پنجاب، وزیر ٹرانسپورٹ سندھ سمیت وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے دیگر نمائندے شرکت کریں گے۔

ٹرانسپورٹرز رہنماؤں کو امید ہے کہ مذاکرات میں ان کے مطالبات پر سنجیدگی سے بات ہوگی اور کسی قابل قبول حل تک پہنچنے کی کوشش کی جائے گی۔

ملک شہزاد اعوان نے کہا کہ ملک بھر کے ٹرانسپورٹرز گزشتہ 9 روز سے پرامن ہڑتال پر ہیں اور انہیں امید ہے کہ حکومت جلد مسائل حل کرے گی، جس کے بعد ٹرانسپورٹ کا پہیہ دوبارہ چل سکتا ہے۔

ہڑتال ختم کرنے کے لیے مطالبات کی منظوری ضروری

صدر آل پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ اتحاد نے واضح کیا کہ مطالبات کی منظوری تک ملک گیر ہڑتال جاری رہے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ ٹرانسپورٹرز کو محض زبانی یقین دہانیوں پر مطمئن نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے ملک بھر کے ٹرانسپورٹرز سے پرامن رہنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ مذاکرات میں مثبت پیشرفت کی امید ہے۔

انہوں نے کہا کہ ٹرانسپورٹرز متحد ہیں اور اپنے مطالبات کی منظوری کے لیے پرامن احتجاج جاری رکھیں گے۔

آج بریک تھرو کی امید

آل پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ اونرز ایسوسی ایشن کے صدر محمد اویس چوہدری ایڈووکیٹ نے بھی مذاکرات سے بریک تھرو کی امید ظاہر کی۔

ان کے مطابق ٹرانسپورٹرز حکومت کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کو کامیاب بنانے کے لیے اپنا بھرپور تعاون کریں گے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ حکومت ٹرانسپورٹرز کے جائز اور قانونی مطالبات تسلیم کرے گی۔

محمد اویس چوہدری کا کہنا تھا کہ اگر مذاکرات میں مطالبات تسلیم کیے گئے تو ٹرانسپورٹرز کے لیے خوشخبری کا اعلان کیا جائے گا۔

زبانی یقین دہانی پر ہڑتال ختم نہیں ہوگی

ٹرانسپورٹرز رہنما نے واضح کیا کہ اگر حکومتی وفد نے صرف زبانی یقین دہانیوں سے معاملہ ختم کرنے کی کوشش کی تو ہڑتال جاری رکھی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ ٹرانسپورٹرز کو ہڑتال ختم کرنے کی کوئی جلدی نہیں اور ضرورت پڑنے پر احتجاج مزید 10 روز تک جاری رکھا جاسکتا ہے۔

ان کے مطابق ٹرانسپورٹرز کا بنیادی مقصد اپنے جائز اور قانونی مطالبات کی منظوری ہے۔

ٹرانسپورٹرز حکومت سے سنجیدگی کے خواہاں

محمد اویس چوہدری نے حکومت سے مذاکرات کے دوران سنجیدگی کا مظاہرہ کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ٹرانسپورٹرز بھی بات چیت کو کامیاب بنانے کے لیے ہر ممکن تعاون کریں گے۔

ملک گیر ہڑتال کے باعث سامان کی ترسیل اور کاروباری سرگرمیوں پر اثرات مرتب ہونے کے خدشات کے درمیان آج ہونے والے مذاکرات کو اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

اب تمام نظریں گورنر ہاؤس سندھ میں ہونے والے مذاکرات پر مرکوز ہیں، جہاں حکومت اور ٹرانسپورٹرز کے درمیان اختلافات کے حل کے لیے بات چیت ہوگی۔

گڈز ٹرانسپورٹرز کے حکومت سے مذاکرات میں اگر فریقین کسی متفقہ حل تک پہنچتے ہیں تو ملک گیر ہڑتال ختم ہونے اور ٹرانسپورٹ کا پہیہ دوبارہ چلنے کی راہ ہموار ہوسکتی ہے، تاہم مطالبات تسلیم نہ ہونے کی صورت میں ٹرانسپورٹرز نے احتجاج جاری رکھنے کا واضح اعلان کیا ہے۔

READ MORE FAQS
  1. گڈز ٹرانسپورٹرز اور حکومت کے مذاکرات کب ہوں گے؟

مذاکرات آج سہ پہر 3 بجے گورنر ہاؤس سندھ میں ہونے کا اعلان کیا گیا ہے۔

  1. مذاکرات میں کون شریک ہوگا؟

وفاقی حکومت، پنجاب اور سندھ حکومت کے نمائندوں کے علاوہ گورنر سندھ اور متعلقہ وزرا مذاکرات میں شریک ہوں گے۔

  1. ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال کتنے دن سے جاری ہے؟

ٹرانسپورٹرز کے مطابق ملک گیر ہڑتال کو 9 روز مکمل ہوچکے ہیں۔

  1. کیا آج مذاکرات میں بریک تھرو کی امید ہے؟

ٹرانسپورٹرز رہنماؤں نے آج کے مذاکرات سے بریک تھرو کی امید ظاہر کی ہے۔