بنگلادیش کا دوٹوک مؤقف، شیخ حسینہ کی حوالگی تک وزیراعظم طارق رحمان کا بھارت جانے سے انکار

بنگلادیش کے وزیراعظم طارق رحمان اور شیخ حسینہ بھارت بنگلادیش تعلقات
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

بنگلادیش کا دوٹوک مؤقف، شیخ حسینہ کی حوالگی تک وزیراعظم طارق رحمان کا بھارت جانے سے انکار

ڈھاکا: بنگلادیش کی حکومت نے واضح کیا ہے کہ وزیراعظم طارق رحمان اس وقت تک بھارت کا دورہ نہیں کریں گے جب تک نئی دہلی سابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجد اور دیگر مطلوب افراد کی حوالگی کے معاملے پر پیش رفت نہیں کرتا۔

غیرملکی خبرایجنسی کے مطابق بنگلادیشی وزارت خارجہ کے عہدیدار اے کے ایم شاہدول کریم نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم طارق رحمان کے آئندہ ہفتے بھارت کے ممکنہ دورے سے متعلق اطلاعات کی تردید کی۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کے دورہ بھارت کے لیے پہلے سازگار ماحول پیدا کرنا ضروری ہے۔

شاہدول کریم نے کہا کہ بنگلادیش بھارتی حکام پر زور دے رہا ہے کہ وہ سابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجد اور دیگر مفرور افراد کی واپسی کے لیے اپنی کوششیں تیز کریں۔ دوسری جانب بھارت کا مؤقف ہے کہ بنگلادیش کی حوالگی کی درخواست زیر غور ہے۔

امریکا ایران جنگ کے دوران خلیجی ممالک اور امریکی فوجی اڈے
امریکا ایران جنگ کے دوران خلیجی اتحادی ممالک میں امریکی سکیورٹی شراکت داری پر نظرثانی کی بحث۔

بھارت سے تعلقات میں بہتری کی کوششیں

بنگلادیشی حکام کے مطابق حالیہ ہفتوں میں دونوں ممالک کے عہدیدار وزیراعظم طارق رحمان کے ممکنہ دورہ بھارت کے حوالے سے رابطے میں رہے ہیں، تاہم شیخ حسینہ واجد کے معاملے نے دوطرفہ تعلقات میں پیدا ہونے والی بہتری کے امکانات کو ایک بار پھر متاثر کیا ہے۔

شاہدول کریم نے شیخ حسینہ کی جانب سے بھارت میں میڈیا سے گفتگو اور سیاسی بیانات پر بھی تحفظات کا اظہار کیا۔ ان کے مطابق بنگلادیش چاہتا ہے کہ موجودہ کشیدگی کو کم کرنے کے لیے بھارت شیخ حسینہ سمیت دیگر مطلوب افراد کی واپسی کے معاملے پر تعاون کرے۔

اس سے قبل گزشتہ ہفتے بنگلادیش میں بھارتی ہائی کمشنر دنیش تریواڈی نے وزیراعظم طارق رحمان سے ملاقات کی تھی۔ اس ملاقات کے بعد دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں بہتری اور ممکنہ طور پر سفارتی برف پگھلنے کی قیاس آرائیاں سامنے آئی تھیں۔

’بنگلہ دیش فرسٹ‘ خارجہ پالیسی

بنگلادیشی وزارت خارجہ کے عہدیدار نے کہا کہ حکومت اپنی خارجہ پالیسی میں ’بنگلہ دیش فرسٹ‘ کے اصول کو ترجیح دے گی، جس میں ملکی خودمختاری اور بیرونی عدم مداخلت کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بنگلادیش بھارت سمیت تمام ممالک کے ساتھ باہمی مفاد پر مبنی تعلقات کا خواہاں ہے، تاہم تعلقات کی بہتری کے لیے دونوں جانب سے سازگار ماحول اور باہمی تعاون ضروری ہے۔

شیخ حسینہ کب بھارت پہنچیں؟

میجر جنرل جواد احمد MINURSO کے فورس کمانڈر مقرر
میجر جنرل جواد احمد کو اقوام متحدہ کے مغربی صحارا مشن MINURSO کا نیا فورس کمانڈر مقرر کردیا گیا۔

شیخ حسینہ واجد کو جولائی 2024 میں طلبہ کی قیادت میں ہونے والے ملک گیر احتجاج کے بعد اقتدار چھوڑنا پڑا تھا، جس کے بعد وہ بھارت چلی گئی تھیں۔ ان کے بھارت پہنچنے کے بعد ڈھاکا اور نئی دہلی کے تعلقات میں نمایاں کشیدگی پیدا ہوئی۔

بنگلادیش میں شیخ حسینہ کو قتل سمیت مختلف مقدمات کا سامنا ہے۔ بنگلادیشی عدالت کی جانب سے انہیں انسانیت کے خلاف جرائم کے مقدمے میں سزائے موت سنائے جانے کے بعد ڈھاکا نے بھارت سے ان کی حوالگی کا مطالبہ بھی کیا ہے۔

بھارت کی جانب سے تاہم اس معاملے پر قانونی اور سفارتی تقاضوں کے تحت بنگلادیش کی درخواست کا جائزہ لینے کا مؤقف اختیار کیا گیا ہے۔

طارق رحمان کے دورہ بھارت پر کیوں اہمیت ہے؟

بنگلادیش میں طارق رحمان کے وزیراعظم بننے کے بعد ان کی خارجہ پالیسی اور علاقائی ترجیحات پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ ماضی میں بنگلادیشی وزرائے اعظم کے لیے بھارت اہم ابتدائی غیرملکی دوروں میں شامل رہا ہے، تاہم موجودہ حکومت نے چین اور دیگر ممالک کے ساتھ بھی سفارتی روابط کو اہمیت دی ہے۔

وزیراعظم طارق رحمان نے رواں برس فروری میں منصب سنبھالنے کے بعد چین اور ملائیشیا کے دورے کیے۔ ان کے دورہ بھارت سے متعلق کسی بھی پیش رفت کو بنگلادیش اور بھارت کے مستقبل کے تعلقات کے لیے اہم سفارتی اشارہ قرار دیا جا سکتا ہے۔

فی الحال ڈھاکا کا مؤقف واضح ہے کہ شیخ حسینہ واجد کی حوالگی اور دونوں ممالک کے درمیان پیدا ہونے والی کشیدگی کے خاتمے کے لیے عملی اقدامات کے بغیر وزیراعظم طارق رحمان کے دورہ بھارت کے امکانات محدود ہیں۔

 
READ MORE FAQS”

سوال 1: کیا طارق رحمان بھارت کا دورہ کریں گے؟
جواب: بنگلادیشی حکام نے فی الحال وزیراعظم طارق رحمان کے اگلے ہفتے ممکنہ دورہ بھارت کی اطلاعات کی تردید کی ہے۔

سوال 2: بنگلادیش بھارت سے کیا مطالبہ کر رہا ہے؟
جواب: بنگلادیش بھارت سے سابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجد اور دیگر مطلوب افراد کی واپسی کے لیے تعاون کا مطالبہ کر رہا ہے۔

سوال 3: شیخ حسینہ واجد اس وقت کہاں ہیں؟
جواب: شیخ حسینہ واجد 2024 میں بنگلادیش چھوڑنے کے بعد بھارت میں مقیم ہیں۔

سوال 4: بنگلادیش اور بھارت کے تعلقات میں کشیدگی کی وجہ کیا ہے؟
جواب: شیخ حسینہ کی بھارت میں موجودگی، ان کی حوالگی کا مطالبہ اور دونوں ممالک کے درمیان دیگر سفارتی اختلافات تعلقات میں کشیدگی کی اہم وجوہات میں شامل ہیں۔