بھارت نے سلال ڈیم کے تمام گیٹ کھول دیے، دریائے چناب میں سیلابی ریلے کا الرٹ

سلال ڈیم کے گیٹ کھولنے کے بعد دریائے چناب میں سیلابی ریلے کا خدشہ
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

بھارت نے سلال ڈیم کے تمام گیٹ کھول دیے، دریائے چناب میں سیلابی ریلے کا الرٹ، چناب پر قائم ہیڈمرالہ، خانکی اور قادرآباد کے مقامات پر پانی کے دباؤ میں نمایاں اضافے کا خدشہ

اسلام آباد: بھارت کی جانب سے سلال ڈیم کے تمام اسپیل وے گیٹس مکمل طور پر کھول دیے گئے ہیں، جس کے بعد دریائے چناب میں پاکستان کی جانب پانی کا اخراج شروع ہوگیا ہے۔ ممکنہ طور پر پانی کی سطح میں اضافے کے پیش نظر دریائے چناب سے ملحقہ نشیبی علاقوں میں الرٹ جاری کردیا گیا ہے۔

فلڈ فارکاسٹنگ ڈویژن کے مطابق سلال ڈیم سے تقریباً 1 لاکھ 50 ہزار کیوسک کا سیلابی ریلہ چھوڑا گیا ہے، جس کے باعث دریائے چناب پر قائم ہیڈمرالہ، خانکی اور قادرآباد کے مقامات پر پانی کے دباؤ میں نمایاں اضافے کا خدشہ ہے۔

ہیڈمرالہ پر اونچے درجے کے سیلاب کا امکان

اعلامیے کے مطابق ہیڈمرالہ کے مقام پر آئندہ 48 گھنٹوں کے دوران اونچے درجے کا سیلابی ریلہ گزرنے کا امکان ہے۔ صورتحال کے پیش نظر دریائے چناب سے ملحقہ علاقوں کی مقامی انتظامیہ کو الرٹ رہنے اور ضروری حفاظتی اقدامات کرنے کی ہدایت کردی گئی ہے۔

پنجاب میں مون سون بارشوں کا الرٹ
پنجاب میں آج رات سے 21 اگست تک مون سون بارشوں کی پیشگوئی، نشیبی علاقوں میں اربن فلڈنگ کا خدشہ۔

حکام کی جانب سے متعلقہ اداروں کو دریائے چناب کے پانی کی صورتحال مسلسل مانیٹر کرنے اور نشیبی علاقوں میں ممکنہ خطرے کے پیش نظر انتظامات مکمل رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

پنجاب میں مون سون بارشوں کا نیا الرٹ

دوسری جانب پی ڈی ایم اے پنجاب نے صوبے میں مون سون بارشوں کے چھٹے اسپیل کے حوالے سے بھی الرٹ جاری کردیا ہے۔ محکمہ موسمیات کی پیشگوئی کے مطابق پنجاب کے بیشتر اضلاع میں 16 اگست کی رات سے 21 اگست تک بارشوں کا امکان ہے۔

لاہور، راولپنڈی، مری، گلیات، جہلم، چکوال، تلہ گنگ، اٹک، سیالکوٹ، نارووال اور منڈی بہاؤالدین میں بارش کی پیشگوئی کی گئی ہے۔

اس کے علاوہ گجرات، گوجرانوالہ، حافظ آباد، وزیرآباد، قصور، اوکاڑہ، شیخوپورہ، ننکانہ صاحب، سرگودھا، خوشاب، میانوالی اور نورپور تھل میں بھی بارش متوقع ہے۔

کئی اضلاع میں اربن فلڈنگ کا خدشہ

پی ڈی ایم اے کے مطابق راولپنڈی، گوجرانوالہ، گجرات، سیالکوٹ اور لاہور کے نشیبی علاقوں میں شدید بارشوں کے باعث اربن فلڈنگ کا خطرہ موجود ہے۔

مری، گلیات اور دیگر پہاڑی علاقوں میں بارشوں کے نتیجے میں لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ بھی ظاہر کیا گیا ہے، جس کے باعث شہریوں اور سیاحوں کو احتیاط برتنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

فیصل آباد، جھنگ، ٹوبہ ٹیک سنگھ، لیہ، بھکر، ساہیوال، پاکپتن، بہاولنگر، بہاولپور اور ڈیرہ غازی خان میں 20 اور 21 اگست کو بارش کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

حکام نے دریائے چناب کے قریب آباد شہریوں اور نشیبی علاقوں کے مکینوں کو صورتحال پر نظر رکھنے اور مقامی انتظامیہ کی جانب سے جاری ہونے والی ہدایات پر عمل کرنے کی ہدایت کی ہے۔

 
READ MORE FAQS”

سوال 1: سلال ڈیم سے کتنا پانی چھوڑا گیا ہے؟
جواب: فراہم کردہ اطلاعات کے مطابق سلال ڈیم سے تقریباً 1 لاکھ 50 ہزار کیوسک کا سیلابی ریلہ چھوڑا گیا ہے۔

سوال 2: دریائے چناب پر کن مقامات کو خطرہ ہے؟
جواب: ہیڈمرالہ، خانکی اور قادرآباد کے مقامات پر پانی کے دباؤ میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔

سوال 3: ہیڈمرالہ پر سیلاب کی صورتحال کب سنگین ہوسکتی ہے؟
جواب: فلڈ فارکاسٹنگ ڈویژن کے مطابق آئندہ 48 گھنٹوں میں ہیڈمرالہ کے مقام پر اونچے درجے کا سیلابی ریلہ گزرنے کا امکان ہے۔

سوال 4: پنجاب میں بارشیں کب تک متوقع ہیں؟
جواب: پی ڈی ایم اے کے مطابق پنجاب کے بیشتر علاقوں میں 16 اگست کی رات سے 21 اگست 2026 تک بارشوں کا امکان ہے۔

متعلقہ خبریں