الیکٹرک طیارہ پہلی بار فضا میں، صرف 5 ڈالر کی بجلی استعمال

الیکٹرک طیارہ ایکس ون کی پہلی آزمائشی پرواز
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

دنیا کا بڑا الیکٹرک طیارہ فضا میں، پہلی آزمائشی پرواز کامیاب

الیکٹرک طیارہ بنانے کی دوڑ میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں دنیا کے بڑے بیٹری سے چلنے والے الیکٹرک طیارے نے پہلی مرتبہ کامیاب آزمائشی پرواز مکمل کرلی۔

سویڈن میں قائم اور امریکا میں کام کرنے والی کمپنی ہارٹ ایرو اسپیس کے مطابق اس کے مکمل جسامت والے ایکس ون طیارے نے 12 اگست 2026 کو نیویارک کے پلاٹس برگ انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے پہلی بار فضا میں پرواز کی۔

27 منٹ تک فضا میں رہا

کمپنی کے مطابق ایکس ون نے تقریباً 27 منٹ تک پرواز کی اور اس دوران تقریباً 335 میٹر یعنی 1100 فٹ کی بلندی حاصل کی۔

11 ٹن سے زائد وزن رکھنے والے اس تجرباتی طیارے میں بیٹری سے چلنے والے چار برقی موٹرز نصب ہیں، جو مجموعی طور پر ایک میگاواٹ سے زیادہ طاقت پیدا کرتے ہیں۔

اس آزمائشی پرواز کی ایک دلچسپ خصوصیت اس کی بجلی کی لاگت تھی۔ کمپنی کے مطابق پرواز کے دوران تقریباً 5 ڈالر کی بجلی استعمال ہوئی۔

تاہم یہ رقم صرف پرواز کے دوران استعمال ہونے والی بجلی کی لاگت ہے۔ اس میں پائلٹ، ایئرپورٹ فیس، انشورنس، بیٹری یا دیگر آپریشنل اخراجات شامل نہیں ہیں۔

ایکس ون مسافر طیارہ نہیں

کمپنی نے واضح کیا ہے کہ ایکس ون کو براہ راست مسافروں کی باقاعدہ نقل و حمل کے لیے تیار نہیں کیا گیا۔

یہ ایک تجرباتی طیارہ ہے جس کا بنیادی مقصد بیٹری، برقی موٹرز، فلائٹ کنٹرول اور دیگر نظاموں کو حقیقی پرواز میں جانچنا ہے۔

اس آزمائشی پلیٹ فارم سے حاصل ہونے والا ڈیٹا مستقبل میں تیار کیے جانے والے برقی اور ہائبرڈ طیاروں کی تیاری میں استعمال کیا جائے گا۔

30 نشستوں والا ES-30 منصوبہ

ہارٹ ایرو اسپیس کا اصل ہدف 30 نشستوں والا ES-30 علاقائی طیارہ تیار کرنا ہے۔

کمپنی کے منصوبے کے مطابق ES-30 تقریباً 200 کلومیٹر تک مکمل طور پر بجلی سے پرواز کرنے کی صلاحیت رکھے گا، جبکہ ہائبرڈ نظام کے ذریعے اس کی پرواز کی حد تقریباً 800 کلومیٹر تک بڑھانے کا منصوبہ ہے۔

ES-30 کو خاص طور پر مختصر فاصلے کے فضائی سفر اور چھوٹے شہروں کو ایک دوسرے سے ملانے والے روٹس کے لیے تیار کیا جا رہا ہے۔

ہارٹ ایرو اسپیس نے گزشتہ چند برسوں کے دوران برقی طیاروں کی ٹیکنالوجی پر بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کی ہے۔ کمپنی نے 2021 میں 35 ملین ڈالر جبکہ 2024 میں مزید 107 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری حاصل کی۔

2026 میں امریکی فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن نے ایکس ون کو خصوصی پرواز کا سرٹیفکیٹ جاری کیا، جس کے بعد کمپنی کو آزمائشی پرواز شروع کرنے کی اجازت ملی۔

کمپنی کا اگلا بڑا ہدف ES-30 کے پری پروڈکشن مرحلے کی پروازیں شروع کرنا ہے۔ منصوبے کے مطابق 2028 میں مزید بڑے آزمائشی مراحل متوقع ہیں جبکہ ES-30 کو تقریباً 2031 میں سروس میں شامل کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔

الیکٹرک ایوی ایشن کا مستقبل

ماہرین کے لیے اس تجربے کی اہمیت اس بات میں ہے کہ 11 ٹن سے زیادہ وزن اور تقریباً 32 میٹر پروں کے پھیلاؤ والا مکمل جسامت کا بیٹری سے چلنے والا طیارہ پہلی مرتبہ فضا میں گیا۔

اگر یہ ٹیکنالوجی تجارتی مراحل میں کامیاب ہوتی ہے تو مستقبل میں مختصر فاصلے کی پروازوں کے لیے روایتی ایندھن کے بجائے بجلی یا ہائبرڈ نظام استعمال کرنے والے طیارے سامنے آسکتے ہیں۔

READ MORE FAQS
  1. دنیا کے بڑے الیکٹرک طیارے کا نام کیا ہے؟

اس تجرباتی طیارے کا نام ایکس ون (X1) ہے، جسے ہارٹ ایرو اسپیس نے تیار کیا ہے۔

  1. ایکس ون کی پہلی پرواز کتنی دیر جاری رہی؟

ایکس ون نے تقریباً 27 منٹ تک آزمائشی پرواز کی۔

  1. الیکٹرک طیارے نے کتنی بلندی حاصل کی؟

طیارہ تقریباً 335 میٹر یا 1100 فٹ کی بلندی تک پہنچا۔

  1. آزمائشی پرواز میں کتنی بجلی خرچ ہوئی؟

کمپنی کے مطابق پرواز میں استعمال ہونے والی بجلی کی لاگت تقریباً 5 ڈالر تھی۔