ہری پور میں دو ہفتے سے لاپتا 5 سالہ بچی آیت نور کی لاش برآمد، 4 مشتبہ ملزمان گرفتار

ہری پور میں لاپتا 5 سالہ بچی آیت نور کی لاش برآمد
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

ہری پور میں دو ہفتے سے لاپتا 5 سالہ بچی آیت نور کی لاش برآمد، 4 مشتبہ ملزمان گرفتار، آیت نور کی لاش پوسٹ مارٹم کے بعد ورثا کے حوالے کردی گئی اور تدفین بھی کردی گئی

ہری پور: خیبرپختونخوا کے ضلع ہری پور میں دو ہفتے قبل گھر کے باہر سے لاپتا ہونے والی 5 سالہ بچی آیت نور کی لاش پولیس نے ایک غیر استعمال شدہ کنویں سے برآمد کرلی، جبکہ کیس میں چار مشتبہ ملزمان کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔

پولیس کے مطابق آیت نور 10 اگست کو شام تقریباً 6 بجے ہری پور کے نیم شہری علاقے میں اپنے گھر کے باہر سے لاپتا ہوئی تھی۔ واقعے کے بعد پولیس نے تلاش اور تفتیش کا آغاز کیا اور علاقے کی سی سی ٹی وی فوٹیج، جیو فینسنگ اور دیگر تکنیکی ذرائع سے شواہد اکٹھے کیے۔

پولیس نے ابتدائی طور پر تین مشتبہ افراد کو گرفتار کیا، جن میں سے ایک نے ہفتے کے روز ڈیوٹی مجسٹریٹ کے سامنے بیان ریکارڈ کرایا۔ پولیس کے مطابق تفتیش کے دوران ایک چوتھے مشتبہ شخص تک بھی رسائی حاصل کی گئی۔

حنا جاوید قتل کیس میں پولیس کی فرانزک تحقیقات
حنا جاوید قتل کیس میں پولیس نے گرفتار ملزمان کے پولی گرافک اور ڈی این اے ٹیسٹ مکمل کرلیے۔

ضلعی پولیس افسر شفیع اللہ گنڈاپور کے مطابق مشتبہ افراد سے حاصل ہونے والی معلومات کی بنیاد پر پولیس نے ہری پور یونیورسٹی کی جانب جانے والی ایک لنک روڈ کے قریب واقع گودام کے ایک غیر استعمال شدہ کنویں کی تلاشی لی، جہاں سے آیت نور کی لاش برآمد ہوئی۔

پولیس کا کہنا ہے کہ لاش کو مبینہ طور پر کنویں میں پھینک کر اسے چھپانے کی کوشش کی گئی تھی۔ آیت نور کی لاش پوسٹ مارٹم کے بعد ورثا کے حوالے کردی گئی اور تدفین بھی کردی گئی ہے۔

پوسٹ مارٹم رپورٹ کا انتظار

ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر اسپتال ہری پور کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر منور آفریدی کے مطابق خواتین ڈاکٹروں پر مشتمل میڈیکل بورڈ نے آیت نور کا پوسٹ مارٹم کیا ہے، تاہم تفصیلی رپورٹ ابھی مرتب کی جا رہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پوسٹ مارٹم رپورٹ مکمل ہونے سے قبل بچی کو پہنچنے والے زخموں کی نوعیت یا موت کی حتمی وجہ کے بارے میں کوئی حتمی رائے دینا قبل از وقت ہوگا۔

پولیس کے مطابق ڈاکٹروں نے لاش سے مختلف نمونے بھی حاصل کیے ہیں جنہیں ڈی این اے اور فرانزک تجزیے کے لیے بھجوایا گیا ہے۔ ان رپورٹس کی روشنی میں تحقیقات کو مزید آگے بڑھایا جائے گا۔

پولیس کی تحقیقات جاری

ڈی پی او شفیع اللہ گنڈاپور نے کیس کو حساس اور پیچیدہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ پولیس نے مختلف شعبوں کے اہلکاروں کی مدد سے تحقیقات کیں۔ خصوصی تحقیقاتی ٹیم میں سیکیورٹی پولیس، خواتین افسران، کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ اور آئی ٹی ونگ کے اہلکار بھی شامل ہیں۔

پولیس کے مطابق تین گرفتار ملزمان کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا ہے جبکہ چوتھے ملزم سے مزید تفتیش کی جا رہی ہے تاکہ واقعے میں ملوث تمام افراد اور جرم کے دیگر پہلوؤں کا تعین کیا جاسکے۔

ٹک ٹاکر شمسو بی بی عرف عائشہ گلامنہ قتل کیس میں والد اور بھائی سمیت 5 ملزمان گرفتار
ٹک ٹاکر شمسو بی بی عرف عائشہ گلامنہ کے قتل کیس میں 5 ملزمان گرفتار۔

ڈی پی او نے واضح کیا کہ تحقیقات ابھی مکمل نہیں ہوئیں اور مزید شواہد سامنے آنے کی توقع ہے۔

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا نوٹس

خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے بھی واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے آیت نور کی ہلاکت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔

وزیراعلیٰ نے واقعے کی مکمل تحقیقات کے لیے خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دینے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ بچوں کے خلاف ایسے سنگین جرائم کسی صورت برداشت نہیں کیے جائیں گے۔

انہوں نے بچی کے اہلخانہ سے تعزیت کرتے ہوئے ذمہ دار افراد کو قانون کے مطابق سخت ترین سزا دلوانے کی یقین دہانی کرائی۔

واقعے پر احتجاج بھی کیا گیا

آیت نور کی بازیابی میں تاخیر کے خلاف اتوار کے روز مختلف سیاسی جماعتوں کے کارکنوں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے ہری پور کی جی ٹی روڈ بھی بلاک کی تھی۔

مظاہرین نے آیت نور کی تلاش اور تحقیقات میں تاخیر پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے پولیس کی تفتیش پر عدم اعتماد کا اظہار کیا تھا۔

اب پولیس کا کہنا ہے کہ آیت نور کی لاش برآمد ہونے کے بعد کیس کی تحقیقات سائنسی اور فرانزک شواہد کی بنیاد پر جاری ہیں، جبکہ حتمی نتائج پوسٹ مارٹم، ڈی این اے اور دیگر فرانزک رپورٹس موصول ہونے کے بعد سامنے آئیں گے۔

 
READ MORE FAQS”

سوال 1: ہری پور میں لاپتا ہونے والی بچی آیت نور کی لاش کہاں سے ملی؟
جواب: پولیس کے مطابق 5 سالہ بچی آیت نور کی لاش ہری پور یونیورسٹی کی جانب جانے والی لنک روڈ کے قریب ایک گودام کے غیر استعمال شدہ کنویں سے برآمد ہوئی۔

سوال 2: آیت نور کب لاپتا ہوئی تھی؟
جواب: پولیس کے مطابق بچی 10 اگست کو شام تقریباً 6 بجے گھر کے باہر سے لاپتا ہوئی تھی۔

سوال 3: کیس میں کتنے ملزمان گرفتار ہوئے؟
جواب: پولیس کے مطابق چار مشتبہ افراد کو گرفتار کیا گیا ہے، جن میں سے تین کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا جبکہ چوتھے سے تفتیش جاری ہے۔

سوال 4: کیا آیت نور کی موت کی حتمی وجہ معلوم ہوگئی ہے؟
جواب: تاحال حتمی وجہ سامنے نہیں آئی۔ پوسٹ مارٹم کی تفصیلی رپورٹ اور ڈی این اے و فرانزک رپورٹس کا انتظار ہے۔

متعلقہ خبریں