آئس لینڈ ریفرنڈم: نہیں کی جیت، عوام نے یورپی یونین سے رکنیت کے مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کی تجویز مسترد کردی، ماہی گیری کا معاملہ ’نہیں‘ کی کامیابی کی بڑی وجہ
ریکیاوک: آئس لینڈ کے عوام نے یورپی یونین کے ساتھ رکنیت کے مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کی حکومتی تجویز مسترد کردی۔ ریفرنڈم میں 52.8 فیصد ووٹرز نے مذاکرات کی بحالی کے خلاف ووٹ دیا، جبکہ 47.2 فیصد نے اس کی حمایت کی۔ معمولی فرق سے آنے والے نتائج نے ظاہر کردیا کہ یورپی یونین کے ساتھ تعلقات کے معاملے پر آئس لینڈ کی رائے واضح طور پر منقسم ہے۔
آئس لینڈ کے سرکاری نشریاتی ادارے RÚV کے مطابق آئس لینڈ ریفرنڈم میں مجموعی طور پر 225,031 ووٹ ڈالے گئے، جبکہ ’نہیں‘ اور ’ہاں‘ کے ووٹوں کے درمیان تقریباً 12,600 ووٹوں کا فرق رہا۔ ریفرنڈم میں ووٹر ٹرن آؤٹ 82.5 فیصد ریکارڈ کیا گیا، جو 2009 کے بعد ملک میں کسی بھی انتخابی عمل میں سب سے زیادہ شرح قرار دی گئی ہے۔
آئس لینڈ کی وزیراعظم کرسٹرون فروستادوتیر کی مرکز سے بائیں جانب جھکاؤ رکھنے والی حکومت نے ابتدائی طور پر 2027 تک یورپی یونین کے معاملے پر ریفرنڈم کرانے کا وعدہ کیا تھا، تاہم عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث اسے مقررہ وقت سے پہلے کرانے کا فیصلہ کیا گیا۔

وزیراعظم نے آئس لینڈ ریفرنڈم کے نتائج کے بعد واضح کیا کہ جب تک ان کی حکومت اقتدار میں ہے، یورپی یونین کی رکنیت کا معاملہ دوبارہ زیر بحث نہیں لایا جائے گا۔
ماہی گیری کا معاملہ ’نہیں‘ کی کامیابی کی بڑی وجہ
آئس لینڈ ریفرنڈم مہم کے دوران ملکی سلامتی اور عالمی سیاسی صورتحال کے ساتھ ساتھ ماہی گیری کے حقوق سب سے اہم موضوعات میں شامل رہے۔ آئس لینڈ کی معیشت اور قومی شناخت میں ماہی گیری کو بنیادی اہمیت حاصل ہے اور ملک کی مچھلی و سمندری مصنوعات کی صنعت مجموعی برآمدات کا تقریباً 40 فیصد حصہ رکھتی ہے۔
’نہیں‘ کے حامیوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ یورپی یونین کی مکمل رکنیت کی صورت میں آئس لینڈ کو اپنے قیمتی سمندری وسائل اور ماہی گیری کے علاقوں پر موجود کنٹرول کا کچھ حصہ یورپی یونین کی مشترکہ پالیسیوں کے تحت منتقل کرنا پڑ سکتا ہے۔
آئس لینڈ کا برطانیہ کے ساتھ ماہی گیری کے حقوق پر طویل تنازع بھی اس معاملے کی حساسیت کو ظاہر کرتا ہے۔ 1970 کی دہائی میں ہونے والی Cod Wars کے دوران آئس لینڈ نے غیر ملکی ماہی گیروں سے اپنے سمندری وسائل کے تحفظ کے لیے سخت مؤقف اختیار کیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ ماہی گیری آج بھی ملکی خودمختاری اور قومی شناخت سے جڑا ایک انتہائی حساس معاملہ ہے۔
سیاسیات کے ماہر ایریکور برگمین کے مطابق ’نہیں‘ مہم نے آئس لینڈ کی قومی شناخت اور ڈنمارک سے آزادی حاصل کرنے کی تاریخی جدوجہد سے وابستہ جذبات کو زیادہ مؤثر انداز میں استعمال کیا، جبکہ ’ہاں‘ مہم نسبتاً تکنیکی اور کم جذباتی رہی۔
آئس لینڈ ریفرنڈم کے سوال نے بھی نتیجے پر اثر ڈالا؟
تجزیہ کاروں کے مطابق ریفرنڈم کے سوال کے الفاظ نے بھی ووٹرز کے فیصلے پر ممکنہ طور پر اثر ڈالا۔ ووٹرز سے پوچھا گیا:
’’کیا آئس لینڈ کو یورپی یونین کے ساتھ رکنیت کے مذاکرات دوبارہ شروع کرنے چاہئیں؟‘‘
اہم بات یہ ہے کہ ’ہاں‘ کا ووٹ یورپی یونین میں فوری شمولیت کا فیصلہ نہیں تھا بلکہ صرف رکنیت کے مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کی اجازت دیتا۔ اگر مذاکرات کے بعد کوئی معاہدہ طے پاتا تو حتمی رکنیت کے لیے ایک اور ریفرنڈم ہونا تھا۔

اسی لیے بعض مبصرین نے ’ہاں‘ کو ایک طرح کا ’’ہاں، شاید‘‘ قرار دیا، جبکہ ’نہیں‘ کا انتخاب زیادہ واضح اور فیصلہ کن نظر آتا تھا۔ ’ہاں‘ مہم کا ایک نعرہ بھی ’’Yes to see‘‘ یعنی ’’ہاں، تاکہ دیکھا جائے‘‘ تھا، جس کے مقابلے میں ’نہیں‘ مہم کا مؤقف زیادہ واضح دکھائی دیتا تھا۔
آئس لینڈ پہلے ہی یورپ سے مضبوطی سے جڑا ہوا ہے
یورپی یونین میں مکمل رکنیت نہ ہونے کے باوجود آئس لینڈ یورپ سے الگ تھلگ ملک نہیں۔ وہ پہلے ہی یورپی اکنامک ایریا (EEA) کا حصہ ہے اور شینگن زون میں بھی شامل ہے۔
EEA کے ذریعے آئس لینڈ یورپی سنگل مارکیٹ سے منسلک ہے، جبکہ شینگن رکنیت کے باعث یورپی ممالک کے ساتھ آزادانہ سفر کی سہولت حاصل ہے۔
تاہم یورپی یونین کی مکمل رکنیت کی صورت میں آئس لینڈ کو یورپی یونین کی کسٹمز یونین میں شامل ہونا پڑتا اور مستقبل میں یورو کرنسی اختیار کرنے کی جانب بھی پیش رفت ممکن تھی۔
2009 میں شروع ہونے والا سفر 2013 میں رک گیا
آئس لینڈ نے 2009 میں یورپی یونین کی رکنیت کے لیے درخواست اس وقت دی تھی جب عالمی مالیاتی بحران کے نتیجے میں ملک کا بینکاری نظام شدید بحران کا شکار ہوگیا تھا۔
رکنیت کے لیے مذاکرات تیزی سے آگے بڑھے اور کئی معاملات پر پیش رفت بھی ہوئی، تاہم 2013 میں یورپی یونین سے متعلق شکوک رکھنے والی حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد مذاکرات روک دیے گئے۔
حالیہ آئس لینڈ ریفرنڈم میں بھی وہی پرانے مسائل دوبارہ سامنے آئے، جن میں سب سے اہم ماہی گیری کے حقوق اور ملکی خودمختاری تھے۔
ریکیاوک اور دیہی علاقوں میں واضح تقسیم
ریفرنڈم کے نتائج نے آئس لینڈ کے دارالحکومت ریکیاوک اور ملک کے دیہی علاقوں کے درمیان سیاسی اور سماجی تقسیم بھی نمایاں کردی۔

دارالحکومت کے شہری علاقوں میں یورپی یونین کے ساتھ مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے حامی نسبتاً مضبوط رہے، جبکہ دیہی علاقوں میں ’نہیں‘ کا ووٹ زیادہ نمایاں رہا۔
دیہی علاقوں میں ماہی گیری، زراعت اور قومی خودمختاری جیسے معاملات کو یورپی یونین کے ساتھ ممکنہ انضمام سے زیادہ اہم سمجھا گیا۔
دوسری جانب ’ہاں‘ کے حامیوں نے یورپی یونین کے ساتھ قریبی تعلقات کو معاشی استحکام، تجارت اور مستقبل کی سلامتی کے لیے بہتر راستہ قرار دیا۔ ان کا مؤقف تھا کہ بدلتی ہوئی عالمی صورتحال میں یورپ کے ساتھ زیادہ مضبوط تعلقات آئس لینڈ کے مفاد میں ہوسکتے ہیں۔
غلط معلومات اور بیرونی مداخلت کے خدشات
ریفرنڈم سے قبل آئس لینڈ کی وزیر خارجہ Þorgerður Katrín Gunnarsdóttir نے غلط معلومات، بیرونی مداخلت اور مصنوعی ذہانت کے ذریعے رائے عامہ کو متاثر کرنے کے ممکنہ خطرات پر بھی تشویش کا اظہار کیا تھا۔
انہوں نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ آئس لینڈ کو ایک ایسے سیاسی لمحے کا سامنا ہوسکتا ہے جو برطانیہ کے بریگزٹ ریفرنڈم سے مشابہ ہو۔
تاہم تجزیہ کاروں کے مطابق عالمی سلامتی کے معاملات، جن میں روس کی سرگرمیاں اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی گرین لینڈ سے متعلق پالیسی بھی شامل تھی، ریفرنڈم میں فیصلہ کن عنصر نہیں بن سکے۔ زیادہ تر ووٹرز کے لیے ملکی خودمختاری، ماہی گیری اور معاشی مفادات زیادہ اہم رہے۔
’نہیں‘ کا مطلب مستقل طور پر دروازہ بند ہونا نہیں
حالیہ آئس لینڈ ریفرنڈم میں یورپی یونین کے ساتھ مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کی تجویز مسترد ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ آئس لینڈ مستقبل میں کبھی بھی مذاکرات شروع نہیں کرسکتا۔
آئس لینڈ ریفرنڈم کا سوال صرف مذاکرات کی بحالی سے متعلق تھا، اس لیے ’نہیں‘ کا فیصلہ فی الحال مذاکرات کا راستہ روکتا ہے، لیکن مستقبل میں کسی نئی حکومت یا بدلتے ہوئے سیاسی حالات میں یہ معاملہ دوبارہ سامنے آسکتا ہے۔
یورپی یونین کے ایک سفارت کار نے نتیجے کو برسلز کے لیے ایک واضح دھچکا قرار دیا، جبکہ یورپی یونین کے ناقدین نے اسے قومی خودمختاری کے حق میں عوامی فیصلے کے طور پر سراہا۔
یوں آئس لینڈ کے حالیہ ریفرنڈم نے ایک مرتبہ پھر ثابت کردیا کہ تقریباً 4 لاکھ آبادی والے اس ملک میں یورپی یونین کے ساتھ تعلقات کا سوال صرف معاشی یا سیاسی معاملہ نہیں بلکہ قومی خودمختاری، ماہی گیری، شناخت اور مستقبل کی سمت سے جڑا ایک حساس مسئلہ ہے۔
Iceland rejecting EU membership is 'not a setback, it's a VICTORY for democracy' — PM Frostadottir
'Icelanders have shown they're wise' https://t.co/OojaCKAywV pic.twitter.com/qQKDsmUrEn
— RT Intl (@RT_on_X) August 30, 2026
READ MORE FAQS”
آئس لینڈ کے ریفرنڈم میں کیا فیصلہ ہوا؟
آئس لینڈ کے عوام نے یورپی یونین کے ساتھ رکنیت کے مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کی تجویز مسترد کردی۔
آئس لینڈ ریفرنڈم میں کتنے فیصد لوگوں نے مخالفت کی؟
52.8 فیصد ووٹرز نے مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے خلاف ووٹ دیا جبکہ 47.2 فیصد نے حمایت کی۔
آئس لینڈ یورپی یونین کا رکن ہے؟
نہیں، آئس لینڈ یورپی یونین کا رکن نہیں، تاہم وہ یورپی اکنامک ایریا اور شینگن زون کا حصہ ہے۔
آئس لینڈ نے یورپی یونین کی رکنیت کی درخواست کب دی تھی؟
آئس لینڈ نے 2009 میں یورپی یونین کی رکنیت کے لیے درخواست دی تھی، تاہم 2013 میں مذاکرات روک دیے گئے تھے۔






