شہباز شریف کی ایرانی صدر سے ملاقات، دوطرفہ تعاون بڑھانے پر اتفاق

وزیراعظم شہباز شریف کی ایرانی صدر سے ملاقات
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

وزیراعظم شہباز شریف کی ایرانی صدر سے ملاقات، تعلقات مضبوط بنانے پر اتفاق

شہباز شریف ایرانی صدر ملاقات کے دوران پاکستان اور ایران کے درمیان دوطرفہ تعلقات مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔ دونوں رہنماؤں نے مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کے لیے دستیاب مواقع سے بھرپور استفادہ کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

وزیراعظم محمد شہباز شریف تین روزہ سرکاری دورے پر کرغزستان کے دارالحکومت بشکیک پہنچے ہیں، جہاں وہ شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کے سربراہ اجلاس سمیت مختلف اہم سرگرمیوں میں شرکت کر رہے ہیں۔

کرغزستان پہنچنے پر کرغزستان کی کابینہ کے چیئرمین عادل بیک قاسمالیف نے وزیراعظم شہباز شریف کا استقبال کیا۔ وزیراعظم کے دورے میں علاقائی اور عالمی امور کے ساتھ ساتھ پاکستان کے مختلف ممالک سے دوطرفہ تعلقات کو مزید فروغ دینے پر بھی توجہ دی جا رہی ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف یکم ستمبر کو شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہ اجلاس سے خطاب کریں گے۔ اپنے خطاب میں وزیراعظم علاقائی اور عالمی امور پر پاکستان کا مؤقف پیش کریں گے اور خطے میں امن، استحکام اور اقتصادی تعاون کے حوالے سے پاکستان کی ترجیحات اجاگر کریں گے۔

وزیراعظم ایس سی او پلس سربراہی اجلاس میں بھی شرکت کریں گے، جہاں مختلف ممالک کے رہنماؤں کے ساتھ علاقائی تعاون اور باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال ہوگا۔

دورہ کرغزستان کے دوران وزیراعظم شہباز شریف مختلف ممالک کے رہنماؤں سے دوطرفہ ملاقاتیں بھی کریں گے۔ ان ملاقاتوں میں باہمی تعلقات، تجارت، سرمایہ کاری، علاقائی روابط اور دیگر اہم امور زیر بحث آئیں گے۔

پاکستان اور ایران کے تعلقات کے تناظر میں ایرانی صدر کے ساتھ ملاقات کو بھی خصوصی اہمیت حاصل ہے۔ دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے عزم کا اعادہ کیا اور مختلف شعبوں میں تعاون کے امکانات سے فائدہ اٹھانے پر زور دیا۔

وزیراعظم شہباز شریف 2 ستمبر کو کرغزستان کا سرکاری دورہ بھی کریں گے۔ اس دوران کرغزستان کے صدر صادیر جاپاروف سے ملاقات متوقع ہے، جس میں پاکستان اور کرغزستان کے تعلقات کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا جائے گا۔

دورے کے دوران تجارت، سرمایہ کاری، توانائی، علاقائی روابط، تعلیم، سیاحت اور عوامی سطح پر رابطوں کے فروغ سمیت متعدد امور پر بات چیت کا امکان ہے۔

شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہ اجلاس میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی سمیت روس، چین اور ایران کے صدور بھی شریک ہوں گے۔ اجلاس کے موقع پر پاکستان اور بھارت کے وزرائے اعظم بھی ایک ہی شہر میں موجود ہوں گے۔

وزیراعظم شہباز شریف کے ہمراہ وفاقی وزراء جام کمال خان، عبدالعلیم خان اور عطا اللہ تارڑ بھی موجود ہیں۔ اعلیٰ سطحی وفد کی شرکت سے دورے کے دوران سیاسی روابط کے ساتھ اقتصادی اور تجارتی تعاون کو بھی مزید آگے بڑھانے کے مواقع پیدا ہوں گے۔

پاکستان کے لیے ایس سی او اجلاس علاقائی ممالک کے ساتھ روابط مضبوط بنانے اور تجارت و سرمایہ کاری کے نئے امکانات تلاش کرنے کا اہم پلیٹ فارم ہے۔ وزیراعظم کی مختلف رہنماؤں سے ملاقاتیں اسی وسیع سفارتی اور اقتصادی رابطہ کاری کا حصہ ہیں۔

READ MORE FAQS

سوال: شہباز شریف ایرانی صدر سے کہاں ملے؟
جواب: وزیراعظم شہباز شریف نے کرغزستان کے دارالحکومت بشکیک میں ایرانی صدر سے ملاقات کی۔

سوال: ملاقات میں کیا بات ہوئی؟
جواب: ملاقات میں دوطرفہ تعلقات مضبوط بنانے اور مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کے مواقع پر گفتگو ہوئی۔

سوال: وزیراعظم شہباز شریف بشکیک کیوں گئے ہیں؟
جواب: وزیراعظم شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہ اجلاس اور دیگر اہم سرکاری مصروفیات میں شرکت کے لیے بشکیک پہنچے ہیں۔

سوال: ایس سی او اجلاس میں کون شریک ہوگا؟
جواب: اجلاس میں مختلف رکن ممالک کے سربراہان شرکت کریں گے، جن میں چین، روس، ایران اور بھارت کی اعلیٰ قیادت بھی شامل ہے۔

وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ وَركَعُوا مَعَ الرَّاكِعِينَ

فجر04:14 AM
طلوع آفتاب05:41 AM
ظہر12:08 PM
عصر03:46 PM
مغرب06:36 PM
عشاء08:02 PM
اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے، تو خوب تحقیق کر لیا کرو، ایسا نہ ہو کہ تم کسی قوم کو نادانی میں نقصان پہنچا بیٹھو، پھر اپنے کیے پر پچھتاتے رہو۔  الحجرات: 6