پاکستان اور اے ڈی بی کی شراکت داری، ایم ایل ون منصوبہ ترجیح بن گیا
ایم ایل ون منصوبہ پاکستان کے اہم ترین انفراسٹرکچر منصوبوں میں شامل ہے، جس پر حکومت اور ایشیائی ترقیاتی بینک کے درمیان تعاون اور جلد عملی پیش رفت کے امکانات کا جائزہ لیا گیا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے ایشیائی ترقیاتی بینک کے جنوبی، وسطی اور مغربی ایشیا کے نائب صدر ینگ منگ یانگ سے ملاقات کے دوران کہا کہ کراچی سے پشاور تک مین لائن ون ریلوے کوریڈور کی جدید خطوط پر اپ گریڈیشن حکومت کی اہم ترجیحات میں شامل ہے۔ ملاقات میں پاکستان اور اے ڈی بی کے درمیان کئی دہائیوں پر محیط ترقیاتی شراکت داری، معاشی اصلاحات اور مستقبل کے ترجیحی منصوبوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ ایم ایل ون منصوبہ ملک کے انفراسٹرکچر کو جدید بنانے کے لیے انتہائی اہم ہے۔ ان کے مطابق ریلوے کے اس بڑے کوریڈور کی اپ گریڈیشن سے نہ صرف مسافر اور مال برداری کی سہولیات بہتر ہوں گی بلکہ پاکستان کے مختلف علاقوں کے درمیان تجارتی رابطوں کو بھی مضبوط بنانے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے منصوبے پر جلد عملی کام شروع کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بروقت پیش رفت ملکی معاشی سرگرمیوں، تجارت اور جدید سفری رابطوں کے لیے اہم ثابت ہوسکتی ہے۔
کراچی سے پشاور تک پھیلا ہوا ایم ایل ون ریلوے کوریڈور پاکستان کے بڑے شہروں اور صنعتی مراکز کو آپس میں جوڑتا ہے۔ حکومت کے مطابق اس بنیادی ریلوے نظام کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا ملک کی طویل مدتی معاشی ترقی کے لیے اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔ ریلوے نظام میں بہتری سے مال برداری کے عمل کو مؤثر بنانے، تجارتی سامان کی نقل و حمل میں سہولت پیدا کرنے اور کاروباری سرگرمیوں کے لیے بہتر رابطے فراہم کرنے کے امکانات موجود ہیں۔
وزیراعظم نے اے ڈی بی کے نائب صدر ینگ منگ یانگ کا پاکستان میں ان کی حیثیت سے پہلے سرکاری دورے پر خیرمقدم کیا۔ انہوں نے پاکستان میں شہری انفراسٹرکچر، ٹرانسپورٹ اور عوامی خدمات کے مختلف منصوبوں میں ایشیائی ترقیاتی بینک کے تعاون کو سراہا۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان اور اے ڈی بی کے درمیان ترقیاتی شراکت داری کئی دہائیوں پر محیط ہے اور مستقبل میں اس تعاون کو مزید مؤثر منصوبوں میں تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔
ملاقات میں نئی کنٹری پارٹنرشپ اسٹریٹیجی 2026 سے 2030 کے تحت پاکستان کے لیے ترجیحی منصوبوں اور شعبوں کا بھی جائزہ لیا گیا۔ دونوں جانب سے اس بات پر زور دیا گیا کہ ترقیاتی شراکت داری کو ایسے منصوبوں سے منسلک کیا جائے جن کے ذریعے ملکی معیشت کو مضبوط بنانے کے ساتھ عوامی سہولیات میں بھی بہتری لائی جاسکے۔ اس حوالے سے انفراسٹرکچر، توانائی، غذائی تحفظ، برآمدات اور نجی شعبے کے لیے مواقع پیدا کرنے جیسے شعبوں کو اہم قرار دیا گیا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے ملاقات کے دوران حکومت کی طویل المدتی معاشی تبدیلی کے عزم کا بھی اعادہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ انتظامی رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے خصوصی ایگزیکوشن ٹاسک فورسز کے ذریعے عملی اقدامات کیے جارہے ہیں۔ حکومت کا مقصد اصلاحات کے عمل کو تیز کرنا اور مختلف ترقیاتی منصوبوں پر عمل درآمد کے لیے ادارہ جاتی رکاوٹوں کو کم کرنا ہے۔
شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان نے مشکل معاشی دور سے نکلنے کے لیے مالیاتی، ساختی اور انتظامی سطح پر مختلف اصلاحات کیں۔ ان کے مطابق ان اقدامات کے نتیجے میں ملکی معیشت میں میکرو اکنامک استحکام بحال ہوا اور سرمایہ کاروں کے اعتماد میں بہتری آئی۔ وزیراعظم نے عالمی کریڈٹ ریٹنگ اداروں کی جانب سے پاکستان کے لیے مستحکم آؤٹ لک کا بھی ذکر کیا اور اسے معاشی اصلاحات کے نتیجے میں اعتماد کی بحالی کی علامت قرار دیا۔
READ MORE FAQS
سوال: ایم ایل ون منصوبہ کیا ہے؟
جواب: ایم ایل ون پاکستان کا اہم ریلوے انفراسٹرکچر منصوبہ ہے، جس کے تحت کراچی سے پشاور تک ریلوے کوریڈور کو جدید خطوط پر اپ گریڈ کرنے کا منصوبہ ہے۔
سوال: ایم ایل ون منصوبہ کیوں اہم ہے؟
جواب: منصوبے سے ریلوے نظام کی استعداد، مال برداری، سفری سہولیات اور علاقائی تجارتی روابط بہتر بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔
سوال: وزیراعظم شہباز شریف نے اے ڈی بی سے کیا بات کی؟
جواب: ملاقات میں ایم ایل ون سمیت ترقیاتی منصوبوں، معاشی اصلاحات، توانائی، غذائی تحفظ، برآمدات، اے آئی اور آئی ٹی کے شعبوں میں تعاون پر گفتگو ہوئی۔
سوال: اے ڈی بی کی نئی کنٹری پارٹنرشپ اسٹریٹیجی کیا ہے؟
جواب: ملاقات میں پاکستان اور اے ڈی بی کی 2026 سے 2030 کی نئی کنٹری پارٹنرشپ اسٹریٹیجی کے تحت ترجیحی منصوبوں اور شعبوں کا جائزہ لیا گیا۔








