نیپال میں تباہ کن سیلاب کے بعد معجزاتی ریسکیو، 9 روز بعد ہائیڈرو پاور ٹنل سے 2 افراد زندہ نکال لیے گئے
کھٹمنڈو: نیپال میں حالیہ تباہ کن سیلاب اور گلیشیائی ملبے سے ہونے والی وسیع پیمانے پر تباہی کے بعد امدادی کارروائیاں جاری ہیں، جہاں ریسکیو ٹیموں نے ایک ہائیڈرو پاور منصوبے کی بند سرنگ سے 9 روز بعد دو افراد کو زندہ نکال کر معجزاتی کامیابی حاصل کر لی ہے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق نیپال اور تبت کی سرحدی علاقوں میں آنے والے شدید سیلاب نے بڑے پیمانے پر تباہی مچائی، جس کے نتیجے میں انفراسٹرکچر، سڑکوں، پلوں اور ہائیڈرو پاور منصوبوں کو شدید نقصان پہنچا جبکہ ہزاروں افراد متاثر ہوئے۔
ترشولی 3 اے ہائیڈرو پاور منصوبے میں ریسکیو آپریشن
امدادی کارروائی ترشولی 3 اے ہائیڈرو پاور منصوبے کی ایک بند سرنگ میں کی جا رہی تھی، جہاں سیلاب اور مٹی کے بڑے تودوں کے باعث متعدد افراد کے پھنس جانے کا خدشہ تھا۔

ریسکیو حکام کے مطابق سیلاب کے باعث سرنگ کا داخلی راستہ مکمل طور پر ملبے، کیچڑ اور چٹانوں کے نیچے دب گیا تھا، جس کے باعث امدادی ٹیموں کو سب سے پہلے سرنگ کے اصل داخلی مقام کا تعین کرنا پڑا۔
نیپالی حکام اور بین الاقوامی ماہرین نے پرانے نقشوں، سیٹلائٹ تصاویر، فضائی ویڈیوز اور دیگر انجینیئرنگ معلومات کی مدد سے سرنگ کے ممکنہ مقام کا اندازہ لگایا، جس کے بعد کئی روز تک مسلسل کھدائی کا عمل جاری رکھا گیا۔
9 روز بعد انسانی آوازیں سنائی دیں
ریسکیو آپریشن کے دوران امدادی کارکنوں نے ہائیڈرو پاور ٹنل کے اندر سے انسانی آوازیں سنیں، جس کے بعد کارروائی کو مزید تیز کر دیا گیا۔
رپورٹس کے مطابق امدادی کارکنوں نے سرنگ میں پھنسے افراد کو آواز دیتے ہوئے کہا کہ فکر نہ کریں، ہم آپ کو بچانے کے لیے آئے ہیں، جس پر اندر سے جواب ملا۔
طویل اور خطرناک کارروائی کے بعد ریسکیو ٹیموں نے سنجیا شاہ اور کبیر مہارجن نامی دو افراد کو زندہ باہر نکال لیا۔ دونوں افراد کو فوری طور پر طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا۔
سرنگ کا راستہ مکمل طور پر ملبے سے بند تھا

ریسکیو آپریشن میں شامل ماہر آرنلڈ ڈکس کے مطابق امدادی ٹیموں کو انتہائی مشکل صورتحال کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ سرنگ کا بڑا حصہ کیچڑ، مٹی اور بھاری چٹانوں سے بند ہو چکا تھا۔
انہوں نے بتایا کہ بعض چٹانیں اتنی بڑی تھیں کہ انہیں ہٹانے کے لیے خصوصی مشینری اور بعض مقامات پر انتہائی احتیاط سے دھماکہ خیز مواد استعمال کرنا پڑا۔
ماہرین کے مطابق عام حالات میں سرنگ کے اندر دھماکہ خیز مواد استعمال کرنا انتہائی خطرناک سمجھا جاتا ہے کیونکہ اس سے سرنگ کے مزید منہدم ہونے اور اندر پھنسے افراد کی جان کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔
تاہم نیپالی فوج اور انجینیئرنگ ٹیموں نے انتہائی درستگی کے ساتھ کارروائی کرتے ہوئے ملبے کو ہٹانے میں کامیابی حاصل کی۔
پانی بھی ریسکیو آپریشن میں بڑی رکاوٹ بنا
ہائیڈرو پاور ٹنل کے اندر پانی جمع ہونے کی وجہ سے امدادی کارروائی مزید پیچیدہ ہو گئی تھی۔ ریسکیو ٹیموں نے کھدائی کی مشینوں اور طاقتور پمپوں کی مدد سے پانی نکالنے کے لیے مختلف راستے بنائے۔
امدادی کارکنوں کو بعد ازاں ہائیڈرو پاور ٹنل کے اوپری حصے سے ایک انتہائی تنگ راستہ کھودنا پڑا، جو صرف ایک انسان کے گزرنے کے لیے کافی تھا۔

اسی راستے کے ذریعے ریسکیو اہلکار اندر پہنچے اور دونوں زندہ افراد کو ملبے کے درمیان سے باہر نکالنے میں کامیاب ہوئے۔
مزید افراد کے زندہ ہونے کا امکان
نیپالی حکام اور ریسکیو ماہرین کا کہنا ہے کہ ہائیڈرو پاور ٹنل کے اندر مزید افراد کے زندہ ہونے کا امکان موجود ہے۔
ماہر آرنلڈ ڈکس کے مطابق امدادی ٹیمیں اب اس حصے کی جانب بڑھ رہی ہیں جہاں ہائیڈرو پاور اسٹیشن کے اندر نسبتاً زیادہ خالی جگہ موجود ہونے کا امکان ہے۔
ان کے مطابق اس علاقے کو ریسکیو ٹیم نے "گولڈی لاکس زون” قرار دیا ہے، جہاں زندگی بچنے کے امکانات نسبتاً زیادہ ہو سکتے ہیں۔
ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ اب تک ٹیمیں سرنگ کے داخلی راستے سے تقریباً 60 میٹر تک کھدائی کر چکی ہیں، جبکہ ہائیڈرو پاور اسٹیشن تک مکمل رسائی کے لیے مزید تقریباً 150 میٹر تک ملبہ ہٹانا ہوگا۔
سیلاب سے بڑے پیمانے پر تباہی
نیپال میں آنے والے اس تباہ کن سیلاب کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر جانی اور مالی نقصان ہوا ہے۔

رپورٹس کے مطابق سیلاب اور گلیشیائی ملبے کے باعث ہزاروں افراد متاثر ہوئے جبکہ بڑی تعداد میں افراد ہلاک اور لاپتا ہیں۔ متاثرہ علاقوں میں سڑکیں، پل، رہائشی علاقے اور توانائی کے منصوبے شدید متاثر ہوئے ہیں۔
نیپالی حکومت، فوج اور امدادی ادارے متاثرہ علاقوں میں ریسکیو اور بحالی کی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔
ریسکیو ٹیموں کو نئی امید مل گئی
نو روز بعد دو افراد کے زندہ ملنے کو ریسکیو ٹیموں نے ایک غیر معمولی اور امید افزا پیش رفت قرار دیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کامیابی کے بعد امدادی کارکنوں کے حوصلے بلند ہوئے ہیں اور ابہائیڈرو پاور ٹنل کے اندر مزید افراد تک پہنچنے کے لیے ریسکیو آپریشن مزید تیز کر دیا گیا ہے۔
ریسکیو ٹیموں کا کہنا ہے کہ جب تک مزید افراد کے زندہ ہونے کا امکان موجود ہے، امدادی کارروائیاں جاری رکھی جائیں گی۔
9 روز بعد ملبے اور پانی سے بھری سرنگ سے دو افراد کا زندہ باہر آنا نیپال کے حالیہ تباہ کن سیلاب کے دوران ایک معجزاتی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ اب تمام نظریں اس ریسکیو آپریشن پر مرکوز ہیں کہ آیا امدادی کارکن مزید زندہ افراد تک پہنچنے میں کامیاب ہو سکیں گے یا نہیں۔
DRAMATIC RESCUE: Nepal Soldiers Pull Man Alive From Mud-Filled Tunnel Nine Days After Catastrophic Flooding pic.twitter.com/QnjkYFHMEr
— Breaking911 (@Breaking911) September 4, 2026
READ MORE FAQS”
سوال 1: نیپال میں کتنے افراد کو سرنگ سے زندہ نکالا گیا؟
جواب: ترشولی 3 اے ہائیڈرو پاور منصوبے کی سرنگ سے دو افراد کو زندہ نکالا گیا۔
سوال 2: افراد کتنے دن سرنگ میں پھنسے رہے؟
جواب: دونوں افراد تقریباً 9 روز تک سرنگ میں پھنسے رہے، جس کے بعد انہیں زندہ ریسکیو کیا گیا۔
سوال 3: کیا سرنگ میں مزید افراد کے پھنسے ہونے کا امکان ہے؟
جواب: نیپالی حکام اور ریسکیو ٹیموں کے مطابق سرنگ میں مزید افراد کے زندہ ہونے کا امکان موجود ہے اور تلاش جاری ہے۔
سوال 4: ریسکیو آپریشن میں سب سے بڑی مشکلات کیا تھیں؟
جواب: سرنگ کا داخلی راستہ ملبے، کیچڑ اور بھاری چٹانوں کے نیچے دب گیا تھا جبکہ پانی اور مزید سیلاب کے خطرے نے امدادی کارروائی کو انتہائی پیچیدہ بنا دیا۔






