نیپال میں سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ سے 165 سے زائد ہلاکتیں، 826 افراد لاپتہ

نیپال میں سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے بعد تباہی اور امدادی کارروائیاں
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

نیپال میں سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ سے 165 سے زائد ہلاکتیں، 826 افراد لاپتہ، ابتدائی شواہد سے معلوم ہوتا ہے کہ تباہ کن سیلاب ایک گلیشیئر کے انہدام اور ملبے کے بڑے پیمانے پر بہاؤ کے نتیجے میں آیا

کھٹمنڈو: نیپال اور تبت کے سرحدی علاقوں میں شدید سیلاب اور مٹی کے تودے گرنے کے باعث بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے، جس کے نتیجے میں 165 سے زائد افراد ہلاک جبکہ 826 افراد تاحال لاپتہ ہیں۔ لاپتہ افراد میں 529 سیاح بھی شامل ہیں۔

نیپال کے نیشنل ڈیزاسٹر رسک ریڈکشن اینڈ مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق متاثرہ علاقوں میں امدادی اور سرچ آپریشن تیزی سے جاری ہے، جبکہ ہلاکتوں میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

نیپالی فوج کے 2 ہزار اہلکار امدادی کارروائیوں میں مصروف

نیپالی فوج نے سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ سے متاثرہ علاقوں میں زمینی اور فضائی سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن کے لیے 2 ہزار فوجی اہلکار تعینات کیے ہیں۔

پمز ہسپتال میں آتشزدگی
پمز ہسپتال اسلام آباد میں آتشزدگی کے بعد ہسپتال کے باہر غمزدہ والدین

فوج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل راجارام باسنیٹ کے مطابق اہلکاروں کو بالخصوص رسووا اور نوواکوٹ اضلاع میں تعینات کیا گیا ہے، جو شدید متاثر ہوئے ہیں۔

ان کے مطابق فوجی اہلکار اب تک نیپال میں سیلاب میں پھنسے 97 افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کرچکے ہیں، جن میں تریشولی اے پن بجلی منصوبے کی سرنگ میں پھنسے تین کارکن بھی شامل ہیں۔

نیپال پولیس اور مسلح پولیس فورس کے اہلکار بھی لاپتہ افراد کی تلاش اور امدادی کارروائیوں میں حصہ لے رہے ہیں۔

تبت میں 558 افراد لاپتہ

چین کے سرکاری نشریاتی ادارے سی سی ٹی وی کے مطابق تبت کے گیرونگ کاؤنٹی میں لینڈ سلائیڈنگ کے بعد 558 افراد لاپتہ ہیں، جن میں 260 غیر ملکی شہری بھی شامل ہیں۔

چینی حکام کے مطابق گیرونگ چین اور نیپال کے درمیان سیاحوں اور دیگر افراد کی آمدورفت کے لیے ایک اہم سرحدی راستہ ہے۔

تبت میں اب تک تین افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی گئی ہے، تاہم امدادی کارروائیوں میں دشوار گزار جغرافیہ اور خراب موسمی حالات مشکلات پیدا کر رہے ہیں۔

حکام نے یہ بھی واضح نہیں کیا کہ نیپال اور چین کی جانب سے جاری کیے گئے لاپتہ افراد کے اعداد و شمار میں کہیں ایک ہی افراد کو دو مرتبہ تو شمار نہیں کیا گیا۔

نیپال میں سیلاب کی وجہ گلیشیئر کا انہدام قرار

27 اگست سے مون سون بارشوں کا نیا سلسلہ
27 اگست سے ملک کے مختلف علاقوں میں مون سون بارشوں کے نئے سلسلے کی پیشگوئی۔

امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق ابتدائی شواہد سے معلوم ہوتا ہے کہ تباہ کن سیلاب ایک گلیشیئر کے انہدام اور ملبے کے بڑے پیمانے پر بہاؤ کے نتیجے میں آیا۔

ابتدائی طور پر بعض حکام نے اس امکان کا اظہار کیا تھا کہ سیلاب کی وجہ زلزلہ ہوسکتا ہے، تاہم بعد کے تجزیے میں علاقے میں کسی بڑے زلزلے کے شواہد نہیں ملے۔

ماہرین کے مطابق واقعے کی مکمل وجوہات اور واقعات کی ترتیب جاننے کے لیے مزید تحقیقات جاری ہیں۔

سینکڑوں سیاح بھی لاپتہ

نیپال میں سیلاب میں لاپتہ افراد میں بڑی تعداد غیر ملکی سیاحوں کی بھی ہے۔ متاثرہ علاقے میں کام کرنے والے ایک سیاحتی گروپ کے مطابق 47 افراد، جن میں گائیڈز اور سیاح شامل ہیں، سیلاب کے بعد سے لاپتہ ہیں اور ان سے رابطہ نہیں ہوسکا۔

حکام کے مطابق کئی غیر ملکی شہریوں کے لاپتہ ہونے کے باعث مختلف ممالک کی حکومتیں بھی صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔

بڑے پیمانے پر تباہی

نیپال میں سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ سے مختلف علاقوں میں سڑکوں، پلوں، گھروں اور دیگر بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا ہے۔

حنا جاوید قتل کیس میں پولیس کی فرانزک تحقیقات
حنا جاوید قتل کیس میں پولیس نے گرفتار ملزمان کے پولی گرافک اور ڈی این اے ٹیسٹ مکمل کرلیے۔

فضائی تصاویر میں رسووا ضلع میں بھوٹے کوشی دریا کے اطراف بڑے پیمانے پر تباہی دیکھی گئی ہے، جہاں کئی مقامات پر سڑکیں اور پل متاثر ہوئے ہیں۔

اچانک آنے والے سیلاب نے کئی علاقوں کو باقی ملک سے بھی جزوی طور پر منقطع کردیا، جس کے باعث امدادی ٹیموں کو متاثرہ علاقوں تک پہنچنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔

عالمی امداد بھیجنے کا اعلان

تباہی کے بعد مختلف ممالک اور عالمی اداروں نے نیپال کی مدد کے لیے امداد فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ امریکہ، چین، یورپی یونین اور بھارت ان فریقوں میں شامل ہیں جنہوں نے امدادی سامان یا دیگر معاونت فراہم کرنے کا وعدہ کیا ہے۔

متاثرہ علاقوں میں تقریباً 8 ٹن امدادی سامان بھی روانہ کیا جاچکا ہے۔

موسمیاتی تبدیلی کا ممکنہ کردار

ماہرین کا کہنا ہے کہ ہمالیہ کے بعض علاقوں میں موسمیاتی تبدیلی کے باعث گلیشیئرز تیزی سے پگھل رہے ہیں، جس سے اچانک سیلاب اور دیگر قدرتی آفات کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔

تاہم سائنس دانوں کے مطابق موجودہ واقعے میں موسمیاتی تبدیلی کے براہِ راست کردار کے بارے میں حتمی نتیجہ اخذ کرنا ابھی قبل از وقت ہوگا۔

نیپال میں سرچ اور ریسکیو آپریشن تاحال جاری ہے اور حکام کا کہنا ہے کہ مزید متاثرین کی موجودگی کے خدشے کے پیش نظر لاپتہ افراد کی تلاش کا عمل جاری رکھا جائے گا۔

 
READ MORE FAQS”

سوال 1: نیپال میں سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ سے کتنے افراد ہلاک ہوئے؟
جواب: تازہ ترین معلومات کے مطابق نیپال میں کم از کم 165 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

سوال 2: نیپال میں کتنے افراد لاپتہ ہیں؟
جواب: نیپال کی نیشنل ڈیزاسٹر رسک ریڈکشن اینڈ مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق 826 افراد لاپتہ ہیں، جن میں 529 سیاح شامل ہیں۔

سوال 3: نیپال میں سیلاب کی وجہ کیا بنی؟
جواب: امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق گلیشیئر کے انہدام اور ملبے کے بڑے بہاؤ نے اچانک آنے والے سیلاب میں اہم کردار ادا کیا۔

سوال 4: نیپال میں ریسکیو آپریشن کے لیے کتنے فوجی تعینات کیے گئے؟
جواب: نیپالی فوج نے زمینی اور فضائی سرچ اینڈ ریسکیو کارروائیوں کے لیے 2,000 اہلکار تعینات کیے ہیں۔

سوال 5: کیا نیپال میں غیر ملکی سیاح بھی لاپتہ ہیں؟
جواب: جی ہاں، لاپتہ افراد میں بڑی تعداد غیر ملکی سیاحوں کی بھی ہے، جبکہ تبت کے گیرونگ علاقے میں بھی غیر ملکی شہریوں سمیت سینکڑوں افراد لاپتہ بتائے گئے ہیں۔

وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ وَركَعُوا مَعَ الرَّاكِعِينَ

فجر04:10 AM
طلوع آفتاب05:38 AM
ظہر12:09 PM
عصر03:48 PM
مغرب06:41 PM
عشاء08:09 PM
اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے، تو خوب تحقیق کر لیا کرو، ایسا نہ ہو کہ تم کسی قوم کو نادانی میں نقصان پہنچا بیٹھو، پھر اپنے کیے پر پچھتاتے رہو۔  الحجرات: 6