پمز ہسپتال میں آتشزدگی، 14 نومولود جاں بحق، والدین غم سے نڈھال، واقعے کے وقت چلڈرن وارڈ کی نرسری میں 15 نومولود بچے موجود تھے، جن میں سے صرف ایک کو محفوظ نکالا جا سکا
اسلام آباد: وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) کے میٹرنل اینڈ چائلڈ ہیلتھ سینٹر میں خوفناک آتشزدگی کے نتیجے میں 14 نومولود بچوں کی جانیں چلی گئیں، جس کے بعد ہسپتال میں سوگ اور غم کی فضا قائم ہے۔
پمز ہسپتال میں آتشزدگی کے بعد جاں بحق بچوں کے والدین اور لواحقین بڑی تعداد میں ہسپتال کے باہر جمع ہیں اور اپنے بچوں کی میتیں حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ کئی والدین صدمے سے نڈھال ہیں جبکہ بعض مائیں اپنے نومولود بچوں کی جدائی پر زار و قطار رو رہی ہیں۔
ایک ماں کو ہسپتال کے باہر زمین پر بیٹھے یہ کہتے ہوئے دیکھا گیا کہ ”مجھے میرا بچہ دو، ورنہ میں یہاں سے نہیں اٹھوں گی“۔ متاثرہ خاتون نے دو روز قبل ہی سی سیکشن کے ذریعے بچے کو جنم دیا تھا۔

ایک غمزدہ والد بھی اپنے بچے کی میت حوالے کرنے کی دہائی دیتے رہے۔ متاثرہ خاندانوں کا کہنا ہے کہ وہ اپنے بچوں کے بارے میں مکمل معلومات اور میتیں حوالے کیے جانے کے منتظر ہیں۔
نرسری میں 15 نومولود داخل تھے
پمز انتظامیہ کے مطابق واقعے کے وقت چلڈرن وارڈ کی نرسری میں 15 نومولود بچے موجود تھے، جن میں سے صرف ایک کو محفوظ نکالا جا سکا۔
اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ کے مطابق آگ پمز کے میٹرنل اینڈ چائلڈ ہیلتھ وارڈ کی تیسری منزل پر لگی اور اس کے نتیجے میں 14 بچے جھلس کر جاں بحق ہوئے۔
پمز کی ترجمان کے مطابق ابتدائی طور پر آگ نرسری کے ایئر کنڈیشننگ یونٹ میں لگی اور آکسیجن کنکشنز کی موجودگی کے باعث آگ نے تیزی سے شدت اختیار کرلی۔
عینی شاہدین نے کیا بتایا؟
پمز ہسپتال میں آتشزدگی کے واقعے کے عینی شاہدین نے بتایا کہ صبح تقریباً 6 سے ساڑھے 6 بجے کے درمیان چیخ و پکار سنائی دی اور کچھ ہی دیر میں عمارت سے دھواں اٹھتا دکھائی دیا۔
ایک عینی شاہد عالم زیب خان کے مطابق عمارت کے اندر دھواں اس قدر زیادہ تھا کہ کچھ دکھائی نہیں دے رہا تھا اور لوگ اپنی جان بچانے کے لیے باہر نکلنے کی کوشش کر رہے تھے۔

ان کے مطابق انہوں نے دو جلے ہوئے بچوں کو دیکھا جنہیں ان کے والد اٹھا کر باہر لا رہے تھے۔
ایک متاثرہ خاندان کی خاتون نے دعویٰ کیا کہ نرسری کا داخلی دروازہ لاک تھا اور اہلخانہ نے اسے کھولنے کی کوشش کی، تاہم کامیاب نہ ہوسکے۔
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ پمز ہسپتال میں آتشزدگی کے واقعے کے وقت نرسنگ اسٹیشن پر کوئی نرس یا عملے کا رکن موجود نہیں تھا۔
پمز انتظامیہ نے دعوؤں کی تردید کردی
پمز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر رانا عمران سکندر نے نرسری کا دروازہ لاک ہونے اور عملے کی عدم موجودگی کے دعوؤں کی تردید کی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ نرسری میں بچوں کی حفاظت کے لیے داخلے کا سخت انتظام کیا گیا تھا اور دروازے پر تالا نہیں لگا ہوا تھا۔
انہوں نے بتایا کہ آگ بجھانے کی کارروائی کے دوران 24 فائر ایکسٹنگوشرز استعمال کیے گئے۔
پمز انتظامیہ کے مطابق ہسپتال میں آگ بجھانے کے لیے پانی کا مناسب انتظام موجود نہیں تھا، تاہم آگ بجھانے والے آلات دستیاب تھے۔

ریسکیو ٹیمیں چند منٹ میں پہنچ گئیں
کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کے مطابق فائر ایمرجنسی کی اطلاع صبح 6 بج کر 45 منٹ پر موصول ہوئی، جس کے بعد فائر بریگیڈ اور ریسکیو ٹیمیں تقریباً سات منٹ میں جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں۔
سی ڈی اے فائر ڈیپارٹمنٹ اور کیپیٹل ایمرجنسی سروس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے آگ پر قابو پایا۔
پمز ہسپتال میں آتشزدگی کی وجوہات، ریسکیو آپریشن اور ہسپتال میں موجود فائر سیفٹی انتظامات کا جائزہ لینے کے لیے تحقیقاتی کمیٹی بھی تشکیل دی گئی ہے۔
بچوں کی شناخت کے لیے ڈی این اے ٹیسٹ
پولیس کے مطابق آگ کی شدت کے باعث جاں بحق نومولود بچوں کی شناخت مشکل ہے، اس لیے ڈی این اے ٹیسٹ کے بعد ہی میتیں متعلقہ خاندانوں کے حوالے کی جائیں گی۔
متاثرہ خاندان ہسپتال کے باہر موجود ہیں اور اپنے بچوں کی میتیں حوالے کیے جانے کے منتظر ہیں۔

وزیراعظم کا نوٹس، اعلیٰ سطحی انکوائری کا حکم
وزیراعظم شہباز شریف نے پمز کے چلڈرن وارڈ میں آتشزدگی کے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے فوری تحقیقات کا حکم دیا ہے۔
وزیراعظم کے دفتر کے مطابق شہباز شریف نے پمز ہسپتال میں آتشزدگی کے واقعے کے محرکات کا تفصیلی جائزہ لینے، ذمہ داران کا تعین کرنے اور غفلت ثابت ہونے کی صورت میں سخت کارروائی کی ہدایت کی ہے۔
وزیراعظم نے واقعے کو انتہائی افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ بچوں کے ساتھ ایسی صورتحال ناقابلِ تلافی ہے۔
پمز ہسپتال میں آتشزدگی کے واقعے کے بعد وفاقی صحت کے حکام کی کارکردگی بھی سوالات کی زد میں آگئی ہے جبکہ آتشزدگی کے اصل اسباب، فائر سیفٹی انتظامات اور ہسپتال کے عملے کی موجودگی سے متعلق مختلف دعووں کی حقیقت تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی سامنے آسکے گی۔
پمز ہسپتال کے MCH مرکز میں آتشزدگی، ریسکیو ٹیموں نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے آگ پر قابو پالیا
اسلام آباد: کیپیٹل ایمرجنسی سروس (CES) اور سی ڈی اے فائر ڈیپارٹمنٹ نے آج علی الصبح پمز ہسپتال کے MCH مرکز میں آتشزدگی کی اطلاع پر فوری کارروائی کرتے ہوئے آگ پر قابو پالیا۔
تفصیلات کے… pic.twitter.com/wyS3LdYDW2
— Capital Development Authority - CDA, Islamabad (@CDAthecapital) August 26, 2026
READ MORE FAQS”
پمز ہسپتال میں آتشزدگی سے کتنے بچے جاں بحق ہوئے؟
پمز انتظامیہ اور ضلعی حکام کے مطابق آتشزدگی کے واقعے میں 14 نومولود بچے جاں بحق ہوئے۔
پمز ہسپتال میں آگ کہاں لگی؟
ابتدائی معلومات کے مطابق آگ میٹرنل اینڈ چائلڈ ہیلتھ سینٹر کی نرسری میں لگی، جہاں نومولود بچے زیر علاج تھے۔
پمز ہسپتال میں آگ لگنے کی وجہ کیا تھی؟
پمز انتظامیہ کے مطابق ابتدائی طور پر آگ نرسری کے ایئر کنڈیشننگ یونٹ سے لگی۔ واقعے کی حتمی وجہ تحقیقات کے بعد سامنے آئے گی۔
کیا پمز آتشزدگی کی تحقیقات کا حکم دیا گیا ہے؟
جی ہاں، وزیراعظم شہباز شریف نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے تحقیقات اور ذمہ داران کا تعین کرنے کی ہدایت کی ہے۔






