پاکستان کی ریٹنگ میں موڈیز کا ایک درجہ اضافہ، آؤٹ لک مستحکم

موڈیز کی جانب سے پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ میں ایک درجے کا اضافہ
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

پاکستان کی ریٹنگ میں موڈیز کا ایک درجہ اضافہ، آؤٹ لک مستحکم

اسلام آباد: عالمی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی موڈیز (Moody’s) نے پاکستان کی خودمختار کریڈٹ ریٹنگ میں ایک درجے کا اضافہ کرتے ہوئے اسے Caa1 سے بڑھا کر B3 کر دیا ہے، جبکہ ملک کا آؤٹ لک مستحکم (Stable) برقرار رکھا ہے۔

موڈیز کے مطابق پاکستان کی بیرونی مالیاتی کمزوری میں کمی، زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری اور معاشی استحکام کے باعث ریٹنگ بہتر کی گئی ہے۔ تاہم ایجنسی نے واضح کیا ہے کہ پاکستان کی کریڈٹ پروفائل اب بھی کئی اہم خطرات سے دوچار ہے۔

موڈیز نے ریٹنگ کیوں بہتر کی؟

موڈیز کے مطابق پاکستان کی بیرونی مالیاتی صورتحال میں گزشتہ سال کے مقابلے میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ زرمبادلہ کے ذخائر میں مسلسل اضافہ ہوا ہے، جبکہ معاشی استحکام کے اقدامات کے نتیجے میں بیرونی دباؤ میں کمی آئی ہے۔

بیرون ملک مقیم ریٹائرڈ افسران کو غیر ملکی کرنسی میں پنشن
بیرون ملک مقیم 33 ریٹائرڈ افسران کو غیر ملکی کرنسی میں پنشن کی ادائیگی کا انکشاف۔

ایجنسی نے کہا کہ حکومت کی جانب سے گورننس میں بہتری اور مالیاتی اصلاحات جاری رکھنے سے بیرونی شعبے میں ہونے والی حالیہ پیش رفت برقرار رہ سکتی ہے، جس سے ملک کے مالیاتی اشاریوں میں مزید بہتری آنے کی توقع ہے۔

موڈیز نے یہ بھی بتایا کہ شرح سود میں کمی اور مالیاتی پوزیشن بہتر ہونے سے پاکستان کی قرضوں کی ادائیگی کی صلاحیت میں نمایاں بہتری آئی ہے۔

پاکستان اب بھی ہائی رسک کریڈٹ کیٹیگری میں

اگرچہ ریٹنگ میں ایک درجے کا اضافہ ہوا ہے، تاہم B3 ریٹنگ اب بھی انتہائی قیاسی (Highly Speculative) زمرے میں شمار ہوتی ہے اور پاکستان سرمایہ کاری کے درجے (Investment Grade) سے کئی درجے نیچے ہے۔

موڈیز کے مطابق پاکستان کے کریڈٹ پروفائل کو اب بھی کمزور بیرونی پوزیشن، قرضوں کی محدود استطاعت، ٹیکس آمدن کے نسبتاً محدود دائرے اور سرمایہ کاری و معاشی ترقی میں رکاوٹوں جیسے عوامل متاثر کر رہے ہیں۔

ایجنسی نے خاص طور پر قانون کی حکمرانی، کرپشن پر قابو پانے اور حکومتی کارکردگی سے متعلق بعض عالمی اشاریوں میں پاکستان کی کمزور پوزیشن کی نشاندہی بھی کی۔

زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری

موڈیز نے کہا کہ پاکستان کے بیرونی خطرات گزشتہ ریٹنگ جائزے، جو اگست 2025 میں کیا گیا تھا، کے مقابلے میں کم ہوئے ہیں۔

زرمبادلہ کے ذخائر میں مسلسل اضافہ ہوا ہے، جسے معاشی استحکام کے اقدامات اور بہتر بیرونی مالیاتی صورتحال نے سہارا دیا۔

مریم نواز چین کے 4 روزہ سرکاری دورے پر روانہ
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف چین کے 4 روزہ سرکاری دورے پر روانہ ہوگئیں۔

تاہم موڈیز کے اندازے کے مطابق رواں مالی سال کے اختتام تک پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر تقریباً 20 ارب ڈالر تک پہنچ سکتے ہیں، جو عالمی مالیاتی فنڈ (IMF) کے ساتھ طے شدہ ہدف سے تقریباً ایک ارب ڈالر کم ہے۔

قرضوں پر سود کا بوجھ بھی کم ہوا

موڈیز کے مطابق پاکستان کے قرضوں کی ادائیگی کی استطاعت میں بھی نمایاں بہتری آئی ہے۔

مالی سال 2026 میں حکومت کی آمدن کا تقریباً 35 فیصد حصہ سود کی ادائیگیوں میں صرف ہوا، جبکہ مالی سال 2025 میں یہ شرح تقریباً 49 فیصد تھی۔

ایجنسی کے مطابق اس بہتری کی بنیادی وجہ مہنگائی میں کمی کے بعد شرح سود میں نمایاں کمی ہے، جس سے حکومت کے ملکی قرضوں کی لاگت میں کمی آئی۔

تاہم موڈیز نے خبردار کیا کہ قرضوں پر سود کی ادائیگی اب بھی حکومتی آمدن کا بڑا حصہ کھا رہی ہے، جس کے باعث حکومت کے لیے سماجی شعبے اور بنیادی ڈھانچے پر اخراجات بڑھانے کی گنجائش محدود ہے۔

آئی ایم ایف پروگرام پر عملدرآمد اہم قرار

موڈیز نے کہا کہ پاکستان کی معاشی صورتحال کے لیے آئی ایم ایف پروگرام پر مسلسل عملدرآمد انتہائی اہم ہے۔

ایجنسی کے مطابق آئی ایم ایف پروگرام پر عمل جاری رہنے کی صورت میں پاکستان مالی سال 2027 میں تقریباً 21 ارب ڈالر اور مالی سال 2028 میں تقریباً 30 ارب ڈالر کی بیرونی مالیاتی ضروریات پوری کرنے کے قابل ہو سکتا ہے۔

میزان بینک نے چھٹی بار پاکستان کا بہترین بینک ایوارڈ جیت لیا
میزان بینک نے پاکستان بینکنگ ایوارڈز 2026 میں چھٹی مرتبہ بہترین بینک کا اعزاز حاصل کرلیا۔

موڈیز نے یہ بھی توقع ظاہر کی کہ پاکستان کے بعض موجودہ دوطرفہ ڈپازٹس کو آئندہ برسوں میں رول اوور کیا جائے گا۔

عالمی مارکیٹ سے قرض لینے کی حکومتی تیاری

موڈیز کی جانب سے ریٹنگ بہتر کیے جانے کا فیصلہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب پاکستان عالمی قرض مارکیٹ میں دوبارہ جانے کی تیاری کر رہا ہے۔

وزیر خزانہ محمد اورنگزیب پہلے ہی بتا چکے ہیں کہ حکومت عالمی مارکیٹ میں 5، 7 اور 10 سالہ مدت کے طویل المدتی بانڈز جاری کرنے پر غور کر رہی ہے۔

ریٹنگ میں بہتری سے عالمی سرمایہ کاروں کے سامنے پاکستان کی کریڈٹ پروفائل میں کچھ بہتری کا تاثر پیدا ہو سکتا ہے، تاہم B3 ریٹنگ اب بھی ملک کے لیے بلند مالیاتی خطرات کی نشاندہی کرتی ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف کی مبارکباد

وزیراعظم شہباز شریف نے موڈیز کی جانب سے پاکستان کی ریٹنگ بہتر کیے جانے پر قوم کو مبارکباد دی اور اسے حکومت کی معاشی پالیسیوں اور استحکام کی جانب پیش رفت کا اعتراف قرار دیا۔

تاہم ماہرین کے مطابق ریٹنگ میں ایک درجے کی بہتری مثبت پیش رفت ضرور ہے، لیکن پاکستان کو سرمایہ کاری کے درجے تک پہنچنے کے لیے مالیاتی نظم و ضبط، برآمدات، براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری، ٹیکس اصلاحات اور گورننس کے شعبوں میں مزید نمایاں بہتری لانا ہوگی۔

READ MORE FAQS”

موڈیز نے پاکستان کی ریٹنگ کتنی کر دی ہے؟
موڈیز نے پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ Caa1 سے بڑھا کر B3 کر دی ہے۔

پاکستان کی ریٹنگ کا آؤٹ لک کیا ہے؟
موڈیز نے پاکستان کا آؤٹ لک مستحکم یعنی Stable برقرار رکھا ہے۔

موڈیز نے پاکستان کی ریٹنگ کیوں بہتر کی؟
ایجنسی کے مطابق زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ، بیرونی مالیاتی خطرات میں کمی، معاشی استحکام اور قرضوں کی ادائیگی کی صلاحیت میں بہتری ریٹنگ اپ گریڈ کی اہم وجوہات ہیں۔

کیا B3 ریٹنگ سرمایہ کاری کے درجے میں آتی ہے؟
نہیں، B3 اب بھی Highly Speculative کیٹیگری میں آتی ہے اور پاکستان Investment Grade سے کافی نیچے ہے۔

متعلقہ خبریں