مشرق وسطیٰ میں کشیدگی، برکس ممالک کا تمام فریقوں سے تحمل کا مطالبہ

برکس ممالک کا مشرق وسطیٰ جنگ پر مشترکہ اعلامیہ
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

برکس ممالک کا مشرق وسطیٰ میں جنگ پر زیادہ سے زیادہ تحمل کا مطالبہ

برکس ممالک مشرق وسطیٰ جنگ کے حوالے سے جاری کشیدگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تمام فریقوں سے زیادہ سے زیادہ تحمل کا مظاہرہ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ نئی دہلی میں ہونے والے برکس اجلاس کے پہلے روز رکن ممالک کی جانب سے جاری مشترکہ اعلامیے میں خطے میں کشیدگی مزید بڑھانے والے اقدامات سے گریز پر زور دیا گیا۔

مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ اور بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں تمام متعلقہ فریق ایسے اقدامات سے گریز کریں جو صورتحال کو مزید خراب کرسکتے ہیں۔ برکس ممالک نے خطے میں امن و استحکام کے لیے کشیدگی کم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

اعلامیے میں شہریوں کے تحفظ کو خصوصی اہمیت دیتے ہوئے ممالک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے احترام پر بھی زور دیا گیا۔ رکن ممالک نے عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کو متاثر ہونے سے بچانے کے لیے بحری راستوں کو محفوظ رکھنے کی اہمیت بھی اجاگر کی۔

برکس اعلامیے میں جوہری تنصیبات کی سلامتی کے معاملے پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا۔ رکن ممالک نے عالمی جوہری توانائی ایجنسی کی نگرانی میں موجود پُرامن جوہری تنصیبات پر حملوں کو انتہائی تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ جنگ کے دوران بھی ایسی تنصیبات کی حفاظت یقینی بنانا ضروری ہے۔

برکس ممالک نے اس مؤقف کا بھی اظہار کیا کہ جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانے والے اقدامات بین الاقوامی قانون اور عالمی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ بن سکتے ہیں۔ اعلامیے میں متعلقہ فریقوں سے جوہری تنصیبات کی حفاظت کے حوالے سے ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنے پر زور دیا گیا۔

مشترکہ اعلامیے میں صرف مشرق وسطیٰ کی موجودہ کشیدگی ہی نہیں بلکہ غزہ، لبنان، سوڈان اور شام کی صورتحال کا بھی ذکر کیا گیا۔ برکس ممالک نے ان علاقوں میں جنگ بندی اور متاثرہ آبادی تک انسانی امداد کی بلا رکاوٹ رسائی کی ضرورت پر زور دیا۔

برکس اجلاس میں سامنے آنے والا یہ مشترکہ مؤقف اس لیے بھی اہم قرار دیا جا رہا ہے کہ مئی میں برکس وزرائے خارجہ مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر متفقہ مشترکہ اعلامیہ جاری کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکے تھے۔ موجودہ اجلاس میں تمام رکن ممالک کا مشترکہ مؤقف سامنے آنا سفارتی اعتبار سے اہم پیش رفت ہے۔

چینی صدر شی جن پنگ نے بھی برکس کے کردار کو اجاگر کرتے ہوئے تنظیم پر زور دیا کہ وہ مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ جنگ کسی بھی فریق کے مفاد میں نہیں، اس لیے متعلقہ فریقوں کو سیاسی حل کی تلاش اور مستقل و جامع جنگ بندی کی کوشش کرنی چاہیے۔

چینی صدر نے کشیدگی کے خاتمے کے لیے مذاکرات اور سیاسی ذرائع کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ خطے میں دیرپا امن کے لیے جامع سیاسی حل ضروری ہے۔

دوسری جانب ایران اور متحدہ عرب امارات کے درمیان کشیدگی کے باوجود دونوں ممالک نے برکس کے مشترکہ اعلامیے کی حمایت کی۔ دونوں ممالک کا ایک ہی اعلامیے پر متفق ہونا موجودہ علاقائی صورتحال میں خاص اہمیت رکھتا ہے۔

ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے ابوظبی کے ولی عہد شیخ خالد بن محمد بن زاید سے بھی ملاقات کی۔ یہ ملاقات جنگ شروع ہونے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان اعلیٰ سطح پر ہونے والی اہم ملاقاتوں میں شمار کی جارہی ہے۔

برکس ممالک کے مشترکہ اعلامیے میں شہریوں کا تحفظ، خودمختاری کا احترام، توانائی کی مسلسل ترسیل اور بحری راستوں کی سلامتی جیسے معاملات کو نمایاں کیا گیا ہے۔ ان نکات کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ جاتی ہے کہ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کا براہ راست اثر علاقائی امن کے ساتھ عالمی تجارت اور توانائی کی فراہمی پر بھی پڑ سکتا ہے۔

READ MORE FAQS

سوال: برکس ممالک نے مشرق وسطیٰ کے بارے میں کیا مطالبہ کیا؟
جواب: برکس ممالک نے مشرق وسطیٰ کے تمام فریقوں سے زیادہ سے زیادہ تحمل کا مظاہرہ کرنے اور کشیدگی بڑھانے والے اقدامات سے گریز کا مطالبہ کیا۔

سوال: برکس کا مشترکہ اعلامیہ کہاں جاری ہوا؟
جواب: مشترکہ اعلامیہ نئی دہلی میں ہونے والے برکس اجلاس کے پہلے روز جاری کیا گیا۔

سوال: اعلامیے میں شہریوں کے حوالے سے کیا کہا گیا؟
جواب: اعلامیے میں جنگ اور کشیدگی کے دوران شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانے پر زور دیا گیا۔

سوال: برکس ممالک نے جوہری تنصیبات کے بارے میں کیا مؤقف اپنایا؟
جواب: رکن ممالک نے پُرامن جوہری تنصیبات پر حملوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے جنگ کے دوران بھی ان کی حفاظت یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔

متعلقہ خبریں

وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ وَركَعُوا مَعَ الرَّاكِعِينَ

فجر04:25 AM
طلوع آفتاب05:50 AM
ظہر12:04 PM
عصر03:36 PM
مغرب06:18 PM
عشاء07:43 PM
اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے، تو خوب تحقیق کر لیا کرو، ایسا نہ ہو کہ تم کسی قوم کو نادانی میں نقصان پہنچا بیٹھو، پھر اپنے کیے پر پچھتاتے رہو۔  الحجرات: 6